پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک پرومو جاری کیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ’ہینڈ شیک‘ تنازع ایک بعد پھر سے زیر بحث ہے۔
تین میچوں کی یہ سیریز 29 جنوری سے یکم فروری تک لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلی جائے گی۔
پی سی بی کی جانب سے اس موقع کے لیے جاری کردہ پرومو میں دکھایا گیا ہے کہ بظاہر ایک آسٹریلوی شہری دکھائے گئے شخص میچ دیکھنے کے لیے پاکستان آتے ہیں تو یہاں اُن کی خوب مہمان نوازی اور خاطر تواضع کی جاتی ہے۔
انھیں لاہور کی بادشاہی مسجد کے ساتھ بنی فوڈ سٹریٹ میں کھانا کھلانے لے جایا جاتا ہے تو میز پر ڈھیر سارے پکوان چُن دیے جاتے ہیں، جس پر آسٹریلوی شہری پریشان ہو کر پوچھتے ہیں ’اتنے زیادہ کھانے کا بل کون دے گا؟‘
انھیں بتایا جاتا ہے کہ آپ کا بل ساتھ والی میز پر بیٹھے ’آغا جی‘ نے ادا کر دیا ہے کیونکہ ’آپ مہمان ہیں ہمارے!‘
اس موقع پر بل ادا کرنے والے ’آغا جی‘ کی طرف کیمرہ جاتا ہے تو وہ اصل میں پاکستان کے ٹی ٹوئنٹیکپتان سلمان علی آغا ہیں۔
اس پرومو میں آسٹریلوی شہری کی مہمان نوازی کا ایک اور واقعہ ٹیکسی میں دکھایا گیا ہے جب ڈرائیور اُن سے کرایہ وصول کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ’مہمانوں سے کوئی پیسے لیتا ہے؟‘
اس پر آسٹریلوی شہری بہت خوش ہوتے ہیں لیکن جب وہ ہاتھ ملائے بغیر جانے لگتے ہیں تو وہی ٹیکسی ڈرائیور اُن سے کہتے ہیں: ’ہینڈ شیک بھول گئے آپ، لگتا ہے پڑوسیوں کے پاس بھی رُکے تھے۔‘
یہ دراصل ہاتھ نہ ملانے کے اس تنازع کی طرف اشارہ ہے جو گذشتہ برس ستمبر میں ایشیا کپ کے دوران پاکستان اور انڈیا کے درمیان پیدا ہوا تھا۔
مئی 2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان فضائی جھڑپیں ہوئی تھیں۔ اس کشیدگی کے بعد ایشیا کپ ہی وہ پہلا موقع تھا جب دونوں ملکوں کی ٹیمیں آمنے سامنے آئی تھیں۔ اس میچ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا جس نے سیاسی، سفارتی اور عسکری محاذ پر موجود تناؤ کو کھیل کے میدان تک بھی پھیلا دیا تھا۔
میچ کے لیے ٹاس کے بعد انڈین ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادو اپنے پاکستانی ہم منصب سلمان علی آغا سے ہاتھ ملائے بغیر میدان سے باہر چلے گئے تھے۔ بات یہیں تک نہ رہی تھی بلکہ میچ ختم ہونے کے بعد بھی انڈین کھلاڑی میدان میں موجود پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملائے بغیر لوٹ گئے تھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ٹیموں کے کپتانوں سے مصافحہ نہ کرنے کی درخواست میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے کی تھی۔ یہ قدم 'سپرٹ آف دی کرکٹ' کے خلاف قرار دیتے ہوئے پی سی بی نے اینڈی پائی کرافٹ کو بطور میچ ریفری ہٹانے کا مطالبہ کر دیا تھا، اور ایسا نہ کرنے پر ایشیا کپ کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دے ڈالی تھی۔
پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کی یہ دھمکی حقیقت میں بھی بدلتی دکھائی دی جب پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے میچ سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم مقررہ وقت پر گراؤنڈ میں نہیں پہنچی تھی۔
تاہم، بعد میں پی سی بی نے دعوی کیا تھا کہ پائی کرافٹ نے اپنے اس اقدام پرمعافی مانگ لی ہے جس کے بعد پاکستان نے امارات کے خلاف میچ کھیلا تھا۔
ایشیا کپ کا فاتح انڈیا ہی رہا لیکن 'ہینڈ شیک' نہ ہونے سے پیدا ہونے والا تنازع ٹورنامنٹ ختم ہونے تک جاری رہا تھا۔
Getty Images
اب سوشل میڈیا صارفین کے مطابق پی سی بی نے پاکستان آسٹریلیا ٹی 20 سیریز کے پرومو میں بظاہر اسی تنازع پر طنز کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین اشتہار کی ویڈیو شیئر کر کے طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔ سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے علی رضا نے لکھا: ’جب پرومو سیریز سے بھی زیادہ جاندار ہو۔۔۔ پی سی بی زیادہ مصالحے ڈال کر پکا رہا ہے۔‘
معاذ احمد نے جہاں سیریز میں پاکستانی ٹیم کی فتح کے لیے دعا کی وہیں ایموجیز کا استعمال کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ’پرومو نے تو آگ لگا دی، ہینڈ شیک والے سین نے تو ہنسا ہنسا کر مجھے مار ہی ڈالا۔‘
ڈاکٹر محمد بن عمر نامی صارف کا تبصرہ تھا کہ ’اس اشتہار میں کسی انڈین کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔‘
عبداللہ ظفر نے بھی ہنستے ہوئے ایموجیز کے ساتھ لکھا ’ہینڈ شیک والا تھوڑا پرسنل نہیں ہو گیا۔‘
جب کہ ملک مراد کو یہ طنز پسند نہیں آیا، ان کے خیال میں ویڈیو تو تخلیقی اور متاثر کن تھی لیکن ’ہینڈ شیک‘ والی بات غیر ضروری تھی۔ انھوں نے لکھا: ’مارکیٹنگ کی حکمت عملی میں وقار برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔‘
ایس اے ایچ کے نام سے ایکس پر موجود صارف نے بھی اس طنز پر ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں، ان کے مطابق پاکستانی ٹیم میچ تو ایک بھی نہیں جیت سکے گی لیکن پھر بھی نامناسب طنز لا محدود پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان آسٹریلیا تین روزہ ٹی 20 سیریز کے بعد سات فروری سے ٹی 20 ورلڈ کپ بھی شروع ہو رہا ہے۔ اس کی میزبانی انڈیا اور سری لنکا کے پاس ہے لیکن تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان ورلڈ کپ کے اپنے تمام میچز انڈیا کے بجائے سری لنکا میں کھیلے گا۔
پی ایس ایل کی سب سے مہنگی ٹیم کے لیے 'سیالکوٹ سٹالیئنز' کا نام منتخب
دوسری جانب پاکستان سپر لیگ کی تاریخ کی سب سے مہنگی ٹیم خریدنے والے 'او زی' گروپ نے اپنی ٹیم کا نام 'سیالکوٹ سٹالیئنز' رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اوزی ڈیویلپرز نے رواں ماہ ہونے والی نیلامی میں ایک ارب 85 کروڑ روپے کی کامیاب بولی لگا کرٹیم خریدی تھی اور اس کے نام کے لیے سیالکوٹ شہر کا انتخاب کیا تھا۔
سیالکوٹ کے انتخاب کے بعد سے ہی ٹیم کے نام کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کا خاتمہ بدھ کو ٹیم کے مالک حمزہ مجید، شریک مالک کامل خان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
ٹیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا گیا 'انتظار ختم ہوا، ایک نئی طاقت اُبھر رہی ہے، سیالکوٹ سٹالیئنز۔'
اس موقع پر حمزہ مجید کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کی ٹیم 'سیالکوٹ سٹالیئنز' کے تاریخی اور مقبولِ عام نام کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ انھوں نے کہا کہ 'سٹالیئنز' صرف ایک نام نہیں بلکہ سیالکوٹ کی کرکٹ کی پہچان اور ایک عظیم تاریخ کا عنوان ہے۔
حمزہ کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے شائقین کی خواہشات اور سیالکوٹ کی روایتی پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے اسی نام کا انتخاب کیا گیا۔
خیال رہے کہ سیالکوٹ سٹالیئنز کے نام سے ایک ٹیم ماضی میں قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں شرکت کے علاوہ بیرون ملک بھی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت کرتی رہی ہے۔ یہ ٹیمپاکستان میں ٹی 20 میچوں کی تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیموں میں سے ایک رہی تھی اور اس نے مسلسل پانچ مرتبہ قومی ٹی 20 کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
https://twitter.com/13kamilkhan/status/2013899879538651611?s=20
حمزہ مجید کا کہنا تھا کہ 'سیالکوٹ سٹالیئنز' کی واپسی سے پی ایس ایل کی رونقیں دوبارہ بحال ہوں گی اور ٹیم کے ارکان کے انتخاب کے علاوہ کٹ اور لوگو کے حوالے سے جلد معلومات فراہم کی جائیں گی۔
خیال رہے آسٹریلیا میں قائم اوزی گروپ نے پہلی بار کرکٹ سے جڑے کاروبار میں قدم رکھا ہے۔ گروپ کے سربراہ کے مطابق وہ دو برس قبل اپنے کاروبار اور خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہوئے تھے۔
سیالکوٹ کو ’کرکٹ ٹیم کا تحفہ‘ اور حیدر آباد میں ’سٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ‘: پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے مالکان کون ہیں؟ملتان سلطانز کی نیلامی کے اشتہار پر علی ترین کا طنز: ’جب آپ کی ایکس کی دوبارہ شادی ہو رہی ہو‘کھلاڑیوں کو ’زیادہ پیسہ کمانے‘ کا موقع دینے والا پی ایس ایل کا نیا آکشن ماڈل کیا ہے؟42 گیندوں پر سنچری اور 16 اوورز میں میچ ختم: ’سمیر منہاس نایاب ٹیلنٹ ہے‘
پی ایس ایل کی نیلامی میں سیالکوٹ سے منسوب ٹیم خریدنے کے بعد حمزہ مجید نے کہا تھا کہ 'یہی سوچ کر آیا تھا کہ کچھ جیت کر نکلنا ہے۔' انھوں نے بتایا کہ یہ کامیابی ان کی ٹیم کی تقریباً ڈھائی سال سے جاری منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔
حمزہ کا کہنا تھا کہ 'ہم سب کو کرکٹ کا پریشر پسند ہے اور سیالکوٹ میں کرکٹ کا جنون ناقابلِ یقین ہے۔' انھوں نے کہا تھا کہ اس شہر کے لوگوں نے 'ایئر پورٹ اور ایئر لائن پہلے ہی بنا لی تھی۔ اب ہم نے انھیں کرکٹ ٹیم بھی گفٹ کر دی ہے۔'
سیالکوٹ سٹالیئنز، پی ایس ایل میں شامل کی گئی دو نئی ٹیموں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ ایک نئی ٹیم حیدرآباد کے نام سے سامنے آئی ہے جس کے لیے ایک ارب 75 کروڑ روپے کی کامیاب بولی دی گئی ہے۔ تاحال یہ ٹیم خریدنے والے ایف کے ایس گروپ نے اپنی ٹیم کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔
پی ایس ایل کا 11واں سیزن 26 مارچ سے تین مئی 2026 کے درمیان کھیلا جائے گا اور اس مرتبہ اس میں چھ کے بجائے آٹھ ٹیمیں شرکت کریں گی۔
پی سی بی نے آٹھ سال بعد دو نئی ٹیمیں کیوں شامل کیں؟
پی سی بی کے مطابق آٹھ سال تک پی ایس ایل میں نئی ٹیمیں شامل نہ کرنے کی بنیادی وجہ معاہداتی اور مالی معاملات تھے۔
پی ایس ایل کے مشترکہ مالی ماڈل کے تحت لیگ کی مجموعی آمدن کا 95 فیصد موجودہ چھ فرنچائزز میں تقسیم ہوتا ہے، جبکہ صرف پانچ فیصد پی سی بی کو ملتا ہے۔
میڈیا اور کمرشل معاہدے پہلے سے طے شدہ ہونے کی وجہ سے اگر پہلے نئی ٹیمیں شامل کی جاتیں تو موجودہ فرنچائزز کی آمدن کم ہو سکتی تھی۔
اگرچہ پی سی بی کے پاس دسویں سیزن سے پہلے ایک ٹیم شامل کرنے کا اختیار موجود تھا، مگر ایسا کرنے سے فرنچائزز کے مالی مفادات متاثر ہو سکتے تھے۔
اب گیارہویں سیزن سے، جب میڈیا اور کمرشل معاہدے نئے سرے سے طے کیے جائیں گے، پی سی بی نے لیگ کو آٹھ ٹیموں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے توسیع کے لیے موزوں وقت قرار دیا جا رہا ہے۔ ملتان سلطانز کے علاوہ باقی تمام فرنچائزز مالی طور پر منافع میں رہیں۔
پی ایس ایل کی موجودہ چھ ٹیموں کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
پی ایس ایل کی باقی تمام فرنچائزز نے اپنے معاہدوں کی توسیع کر لی ہے۔ تاہم ملتان سلطانز واحد فرنچائز تھی جس کے مالک علی ترین نے توسیع نہیں کی، جس کے بعد پی سی بی نے ٹیم کی ملکیت سنبھال لی ہے۔
پی سی بی آئندہ سیزن میں ملتان سلطانز خود چلائے گا اور اس کے بعد فرنچائز کو نئے خریدار کو فروخت کیا جائے گا۔
یہ تیسرا موقع ہوگا جب ملتان سلطانز کو فروخت کیا جائے گا۔ یہ فرنچائز 2018 میں دبئی کی رئیل اسٹیٹ کمپنی شون گروپ کو دی گئی تھی، تاہم ایک سیزن بعد ہی سالانہ فیس کی ادائیگی پر تنازع پیدا ہوا۔
شون گروپ فرنچائز کی سالانہ فیس 52 لاکھ ڈالر ادا نہ کر سکا، جس کے بعد معاہدہ ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد پی سی بی نے ٹیم واپس لے کر دوبارہ نیلامی کرائی، جسے علی خان ترین اور ان کے چچا عالمگیر خان ترین کے کنسورشیم نے 65 لاکھ ڈالر میں حاصل کیا۔
ترین خاندان نے گذشتہ سات برسوں میں ملتان سلطانز کی فرنچائز فیس کی مد میں پی سی بی کو سات ارب 70 کروڑ روپے ادا کیے۔ نئی ویلیوایشن کے بعد ملتان سلطانز کی سالانہ فرنچائز فیس ایک ارب 37 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔
معاہدے کے مطابق، پی ایس ایل کے دس سال مکمل ہونے کے بعد تمام موجودہ فرنچائزز کی سالانہ فیس میں اضافہ لازم ہے، جو یا تو موجودہ فیس کا 25 فیصد ہوگا یا نئی مارکیٹ ویلیو کا 25 فیصد جو بھی زیادہ ہو۔
دیگر فرنچائزز کی نئی ویلیوایشن کیا ہے اس پر نظر ڈال لیتے ہیں۔
نئی ویلیوایشن کے مطابق
لاہور قلندرز پی ایسں ایل کی 67 کروڑ روپے کے ساتھ سب سے مہنگی فرنچائز بن گئی ہے۔کراچی کنگز 63 کروڑ 87 لاکھ روپے کے ساتھ پی ایس ایل کی دوسری مہنگی فرنچائز بن گئی ہے۔پشاور زلمی 48 کروڑ 75 لاکھ روپے کے ساتھ تیسری مہنگی فرنچائز قرار پائی ہے۔اسلام آباد یونائیٹڈ کی فرنچائز کی قیمت 47 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 35 کروڑ 95 لاکھ روپے کے ساتھ پی ایس ایل کی کم ترین ویلیو رکھنے والی فرنچائز ہے۔42 گیندوں پر سنچری اور 16 اوورز میں میچ ختم: ’سمیر منہاس نایاب ٹیلنٹ ہے‘علی ترین اور ’ملتان سلطانز‘ کو چلانے کا خرچہ: پی ایس ایل کی فرنچائزز پیسہ کیسے کماتی ہیں؟غصے سے بھرا جشن، جوتے کی جانب اشارہ اور شکست پر انڈین کرکٹ بورڈ کی ٹویٹ: ’تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں‘’خوف زدہ کر دینے کی حد تک‘ تیز بولر جنھیں شعیب اختر جیسی شہرت نہ مل سکیآئی پی ایل کی نیلامی میں کرکٹرز کے لیے کروڑوں روپے کی بولیاں: ’اب پی ایس ایل کو بھی کچھ نیا کرنا ہوگا‘