BBC
وائٹ ہاؤس کی طرف سے منگل کو ایک بیان جاری ہوا جس میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے حوالے سے ’متعدد آپشنز‘ پر غور کر رہے ہیں جس میں فوج کا استعمال بھی شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو بتایا کہ نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ کا حصول ’قومی سلامتی کی ترجیح‘ ہے۔
یہ بیان یورپی رہنماؤں کے ڈنمارک کے حق میں ایک مشترکہ بیان کے چند گھنٹے بعد آیا۔ انھوں نے آرکٹک میں دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کے عزائم کی مخالفت کی تھی۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ کی ’ضرورت‘ ہے۔ جس کے بعد ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے کوئی بھی حملہ نیٹو کے خاتمے کا سبب بنے گا۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار گرین لینڈ میں اپنی دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ گذشتہ برس بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عسکری طاقت کے استعمال پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ گرین لینڈ کی ضرورت معاشی وجوہات کی وجہ سے ہے۔
سنہ 2025 کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آرکٹک میں ڈنمارک کے ایک خودمختار علاقے اور دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے میں نئی دلچسپی ظاہر کی تھی۔
انھوں نے سب سے پہلے بطور صدر اپنی پہلی مدت کے دوران سنہ 2019 میں گرین لینڈ خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن اس مرتبہ انھوں نے ایک قدم آگے بڑھایا اور گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکہ کی اقتصادی طاقت یا فوجی استعمال کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
ٹرمپ کی جانب سے اس موضوع کو بار بار توجہ دینا ظاہر کرتا ہے کہ ان کے لیے اس معاملے کی اہمیت کافی بڑھ چکی ہے۔ لیکن آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ اصل وجہ وہ معدنیات کا خزانہ ہے جو گرین لینڈ میں موجود ہے۔
تاریخی اعتبار سے امریکی حکام اس خطے کو سٹریٹیجک اہمیت کی وجہ سے توجہ دیتے آئے ہیں۔ روس سے قربت کی وجہ سے سرد جنگ کے دوران اسے یورپ اور شمالی امریکہ کے سمندری تجارتی راستے کو محفوظ بنانے کے لیے اہم سمجھا گیا۔ امریکی فوج نے دہائیوں تک یہاں ایک اڈہ قائم رکھا جسے بیلسٹک میزائلوں پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
تاہم سنہ 2023 میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں جیولوجیکل سروے آف ڈینمارک اور گرین لینڈ نے تخمینہ پیش کیا کہ جزیرے پر 38 معدنیات بڑی مقدار میں موجود ہیں جن میں کاپر، گریفائیٹ، نیوبیئم، ٹائٹینیئم، روڈیئم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نایاب معدنیات جیسا کہ نیوڈیمیئم اور پریسیوڈائمیئم جو الیکٹرک گاڑیوں کی موٹر اور ونڈ ٹربائن بنانے میں کام آتی ہیں بھی پائی گئی ہیں۔
Getty Images
یورپی رہنماؤں پر مشتمل ’کولیشن آف دی ولنگ‘ کہلائے جانے والے اتحاد نے منگل کے روز پیرس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ یوکرین کے لیے پائیدار امن معاہدے پر مزید پیش رفت کی جا سکے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا منصوبہ ’90 فیصد مکمل‘ ہے اور اجلاس میں موجود کوئی بھی ملک امریکی حمایت کو خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔
لیکن پیرس میں ہونے والے اس اجلاس میں ایک اور بڑا مسئلہ جس پر بات ہوئی وہ تھا ’گرین لینڈ۔‘
گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو جرمنی سے چھ گنا بڑا ہے۔ یہ آرکٹک میں واقع ہے لیکن ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ وہ اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسے امریکی قومی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔
ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن پیرس اجلاس میں موجود تھیں۔ وہ یورپی یونین کے کئی رہنماؤں کی اہم اتحادی ہیں اور برطانیہ کی بڑی نیٹو ساتھی بھی ہیں۔
ان ممالک میں سے کوئی بھی ٹرمپ کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا، لیکن واشنگٹن اور کوپن ہیگن میں سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ، چھ بڑے یورپی ممالک بشمول برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے یوکرین مذاکرات کے موقع پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔
اس بیان میں کہا گیا کہ آرکٹک میں سلامتی اجتماعی طور پر نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر حاصل کی جانی چاہیے اور یہ کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ سے متعلق معاملات کا فیصلہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کو کرنا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدام واقعی ٹرمپ کی خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے کافی ہے؟
Getty Imagesڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن پر یورپی ساتھیوں کی طرف سے یہ دباؤ تھا کہ وہ گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ کو ناراض نہ کریں۔
اور اس سوال کا جواب چند ہی گھنٹوں میں سامنے آ گیا جو تھا ’نہیں۔‘
وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا کہ جس میں کہا گیا ہے کہ 'وہ یکطرفہ طور پر گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے ’مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں جزیرے کو خریدنا بھی شامل ہے۔‘
یورپی رہنماؤں کے لیے تشویشناک بات یہ تھی کہ وائٹ ہاؤس کے اعلامیے میں، جو پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے جاری کیا کہا گیا کہ ’امریکی فوج کا استعمال ہمیشہ صدر کے اختیار میں رہتا ہے۔‘
یہ پہلی بار نہیں کہ ٹرمپ نے گرین لینڈ حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہو، لیکن خاص طور پر اپنے پہلے دورِ صدارت میں یورپ کے کئی رہنما اس خیال پر خفیہ طور پر مذاق اڑاتے رہے ہیں۔
مگر گزشتہ ہفتے وینزویلا میں ٹرمپ انتظامیہ کی متنازع فوجی کارروائی کے بعد اب کوئی اس پر ہنس نہیں رہا۔
’نایاب معدنیات کا خزانہ‘ اور ٹرمپ کی دھمکی: امریکہ کے نئے صدر گرین لینڈ کو پانے کے لیے عسکری طاقت استعمال کر سکتے ہیں؟ایران، گرین لینڈ یا کیوبا: وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا اگلا نشانہ کون سا ملک بن سکتا ہے؟گرین لینڈ میں برف کی دبیز تہوں کے نیچے آخر کیا چھپا ہے اور اس خزانے کا حصول کتنا مشکل ہے؟لیتھیئم: کیا ’سفید سونے‘ کی جنگ میں چین امریکہ کو شکست دے رہا ہے؟یورپ کو ’کچل دیے جانے‘ کا خطرہ
ڈنمارک کی وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق عزائم کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور یوکرین اجلاس کے بعد یورپی رہنما شدید پریشانی میں مبتلا نظر آئے۔
یہ صورتحال ایک بڑے تضاد کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک طرف نیٹو اور یورپی یونین کے رہنما امریکی انتظامیہ کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ یوکرین کی خودمختاری کو روس کی جارحانہ علاقائی خواہشات سے بچانے میں مدد کرے۔ دوسری طرف امریکہ نے حال ہی میں وینزویلا میں فوجی کارروائی کرتے ہوئے اس کے صدر کو گرفتار کر لیا ہے اور ساتھ ہی ایک اور یورپی ملک یعنی ڈنمارک کی خودمختاری کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہا ہے۔
اس تضاد نے یورپی رہنماؤں کے سامنے ایک اور مشکل سوال رکھ دیا ہے کہ ’کیا وہ امریکہ پر یوکرین کے دفاع کے لیے بھروسہ کر سکتے ہیں، جب وہ خود دیگر خودمختار ممالک کی آزادی کو چیلنج کر رہا ہے؟‘
معاملہ مزید سنگین اس لیے ہے کہ ڈنمارک اور امریکہ دونوں بحرِ اوقیانوس کے فوجی اتحاد نیٹو کے رکن ہیں۔
کوپن ہیگن کے مطابق وہ انتہائی قریبی اتحادی ہیں یا تھے۔ ڈنمارک کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے یکطرفہ طور پر گرین لینڈ پر قبضہ کیا تو یہ اس ٹرانس اٹلانٹک دفاعی اتحاد کا خاتمہ ہو جائے گا، جس پر یورپ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اپنی سلامتی کے لیے انحصار کرتا آیا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ ٹرمپ کبھی نیٹو کے بڑے حامی نہیں رہے ہیں۔
کوپن ہیگن نے گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ سے بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک دوطرفہ معاہدے کے تحت امریکہ کا گرین لینڈ میں فوجی اڈہ پہلے ہی موجود ہے، جو سرد جنگ کے آغاز میں قائم کیا گیا تھا۔ اس اڈے پر عملے کی تعداد سرد جنگ کے عروج پر تقریباً 10 ہزار تھی، جو اب کم ہو کر تقریباً 200 رہ گئی ہے۔ امریکہ پر طویل عرصے سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ اس نے آرکٹک سلامتی پر توجہ نہیں دی، لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔
دوسری جانب ڈنمارک نے حال ہی میں گرین لینڈ کے دفاع پر چار ارب ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے جس میں کشتیاں، ڈرونز اور طیارے شامل ہیں۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے ڈنمارک کے ساتھ بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔
BBC
اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ گرین لینڈ اس وقت ’انتہائی سٹریٹجک اہمیت‘ کا حامل ہے اور دعویٰ کیا کہ ’گرین لینڈ روسی اور چینی جہازوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہمیں قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ڈنمارک یہ کام نہیں کر سکے گا۔‘
ڈنمارک نے اس بیان کی سختی سے تردید کی۔ ایک یورپی یونین کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’یہ پوری صورتحال ایک بار پھر یورپ کی بنیادی کمزوری کو ٹرمپ کے مقابلے میں واضح کرتی ہے۔‘
ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق تبصروں کے بعد ڈنمارک کے شمالی پڑوسی ممالک نے فوراً زبانی طور پر اس کا دفاع کیا لیکن یورپ کے تین بڑے ممالک برطانیہ، پیرس اور برلن شامل کی جانب سے ابتدائی طور پر مکمل خاموشی رہی۔
بالآخر برطانیہ کے وزیرِاعظم سر کیئر سٹامر نے پیر کو کہا کہ گرین لینڈ اور ڈنمارک ہی جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز بھی ماضی میں اسی طرح کا بیان دے چکے ہیں۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے دسمبر میں گرین لینڈ کا دورہ کیا تھا تاکہ کوپن ہیگن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ اور آج ایک مشترکہ بیان سامنے آیا۔
تاہم اس اعلامیے میں امریکہ پر براہِ راست تنقید نمایاں طور پر غائب تھی۔
یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے کیمل گراندے نے کہا 'اگر یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک اور نیٹو اتحادی برطانیہ نے ڈنمارک کی خودمختاری کے حق میں مشترکہ بیان دیا ہوتا تو یہ واشنگٹن کے لیے ایک طاقتور پیغام ہوتا۔' کیمل گراندے سنہ 2016 سے سنہ 2022 تک نیٹو میں دفاعی سرمایہ کاری کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل رہے ہیں۔
لیکن اب تک صرف چھ یورپی اتحادیوں نے ڈنمارک کے ساتھ مل کر یہ بیان جاری کیا۔
یہی اصل مسئلہ ہے۔ ٹرمپ کا براہِ راست انداز جسے کچھ لوگ دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی کہتے ہیں، یورپی رہنماؤں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔
یورپی ممالک عام طور پر امریکی صدر کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دوطرفہ تعلقات محفوظ رہیں، بجائے اس کے کہ وہ انفرادی یا اجتماعی طور پر کھڑے ہوں اور ٹرمپ کا سامنا کریں جس کے ممکنہ نتائج کا خطرہ ہے۔
آج کی بڑی طاقتوں کی سیاست میں جہاں امریکہ اور چین کے ساتھ روس اور انڈیا جیسے ممالک غالب ہیں، یورپ زیادہ سے زیادہ ایک تماشائی کا کردار ہی ادا کرتا نظر آتا ہے اور اس بات کا خطرہ ہے کہ اسے کچل دیا جائے گا۔
یورپی یونین ٹرمپ کے سامنے خاموش کیوں؟
یورپی یونین کی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کہتے ہیں کہ یہ اتحاد عالمی سطح پر بڑا کردار ادا کرنے کے وعدے کرتا ہے لیکن جب بات ٹرمپ کی آتی ہے تو یہ کمزور دکھائی دیتا ہے۔
گزشتہ سال کے آخر میں یورپی یونین اس وعدے پر عمل کرنے میں ناکام رہی کہ وہ روسی ریاستی اثاثے، جو یورپ میں منجمد ہیں استعمال کر کے یوکرین کو مالی مدد فراہم کرے گی۔ اگرچہ فنڈز دوسرے ذرائع سے فراہم کیے گئے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے ماسکو اور ٹرمپ انتظامیہ دونوں کو ایک مضبوط پیغام دینے کا موقع ضائع کر دیا جو بار بار اس اتحاد کو کمزور قرار دیتی رہی ہے۔
جہاں یورپی یونین عالمی سطح پر ایک بڑی تجارتی طاقت کے طور پر اپنی حیثیت دکھاتی رہی ہے، وہاں بھی اس نے ایک بار پھر ٹرمپ کے سامنے جھکنے کا فیصلہ کیا۔
جب ٹرمپ نے گزشتہ سال یورپی مصنوعات پر 15 فیصد ٹیرف لگا دیا، تو یورپی یونین نے اپنی انا کو دبایا اور جواب میں کوئی کارروائی نہ کرنے کا وعدہ کیا۔ اندرونی ذرائع کے مطابق اس کی وجہ وہ خوف تھا کہ کہیں امریکہ کی وہ حمایت نہ کھو دی جائے جس پر یہ براعظم اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے انحصار کرتا ہے۔
اور اب معاملہ گرین لینڈ اور ڈنمارک تک پہنچ گیا ہے جہاں یورپی ممالک ٹرمپ انتظامیہ کے بارے میں اپنے رویوں میں منقسم ہیں اور اسی وجہ سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ وہ کوپن ہیگن کے لیے کس حد تک کھڑے ہوں گے۔
اس صورتحال پر جولین سمتھ، جو ٹرمپ کی دوبارہ صدارت تک نیٹو میں امریکی سفیر رہ چکی ہیں، نے کہا کہ یہ معاملہ ’یورپی یونین کو توڑنے کا خطرہ اور طاقت رکھتا ہے‘ اور نیٹو کے وجود کے لیے بھی ایک بحران کی سی کیفیت رکھتا ہے۔
جولین سمتھ نے مزید کہا کہ ’یورپ کو صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو سنجیدگی سے لینا چاہیے جب وہ گرین لینڈ کو ’حاصل کرنے‘ کی بات کرتے ہیں۔‘
اس کا مطلب صرف صبر کی تلقین سے زیادہ اقدامات کرنا ہے۔ یورپ کی بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ ہنگامی منصوبہ بندی شروع کریں۔ یہ سوچیں کہ وہ کس طرح بین الاقوامی اجلاسات جیسے آئندہ میونخ سکیورٹی کانفرنس اور ڈیووس، جہاں امریکی اعلیٰ حکام موجود ہوں گے، کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی نئے دفاعی معاہدوں جیسے جرات مندانہ اور جدید خیالات پر بھی غور کریں۔
نیٹو کے معاہدے اس بات میں فرق نہیں کرتے کہ کسی اتحادی پر حملہ کسی باہر کے ملک سے ہو یا کسی نیٹو اتحادی کی جانب سے بلکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اتحاد کا آرٹیکل پانچ جسے ’ایک اور سب کے لیے ایک‘ کہا جاتا ہے، اس وقت لاگو نہیں ہوتا جب ایک نیٹو ملک دوسرے نیٹو ملک پر حملہ کرے۔
مثال کے طور پر رکن ممالک ترکی اور یونان کے درمیان قبرص پر تنازعہ۔ سب سے شدید تشدد سنہ 1974 میں ہوا جب ترکی نے حملہ کیا۔ نیٹو نے مداخلت نہیں کی لیکن اس کا سب سے طاقتور رکن امریکہ ثالثی کرنے کے قابل تھا۔
Reutersیورپی یونین اس وعدے پر عمل کرنے میں ناکام رہی کہ وہ یوکرین کو مالی مدد فراہم کرنے کے لیے یورپ میں منجمد روسی ریاستی اثاثے استعمال کرے گی۔
جغرافیے کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ڈنمارک نیٹو کے چھوٹے اتحادیوں میں سے ایک ہے اگرچہ یہ بہت سرگرم ہے۔ امریکہ نیٹو کا سب سے بڑا اور طاقتور رکن مُلک ہے۔
یورپ میں اس وقت شدید بے چینی واضح انداز میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ بڑی یورپی طاقتوں نے اگرچہ ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں نیٹو کو آرکٹک سلامتی پر بات کرنے کا فورم قرار دیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ ہی جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک اس خودمختاری کی ضمانت دینے کے لیے کتنی دور تک جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف سٹاف سٹیفن ملر نے پیر کو سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پُراعتماد لہجے میں کہا کہ ’گرین لینڈ کے مستقبل پر امریکہ کی فوج کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔‘
یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے کیمل گراندے نے کہا کہ گرین لینڈ پر بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ ’یورپی ممالک کو امریکہ پر اپنی سلامتی کا انحصار کم کرنا چاہیے اور یک زبان ہو کر بات کرنی چاہیے۔‘
گزشتہ موسمِ گرما میں ٹرمپ نے تمام نیٹو اتحادیوں سوائے سپین کے اپنے دفاعی اخراجات میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنے پر آمادہ کر لیا تھا۔
لیکن یورپ اب بھی کئی شعبوں میں امریکہ پر انحصار کرتا ہے جن میں انٹیلی جنس، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور فضائی صلاحیتیں شامل ہیں۔ تاہم واشنگٹن اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔
نیٹو کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت حتیٰ کہ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی ملاقاتوں میں بھی، یورپی رکن ممالک اس بات پر غور کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہے کہ اگر واشنگٹن نے گرین لینڈ پر قبضے کے لیے فوج کی طاقت کا استعمال کیا تو کیا ہوگا۔
ممکن ہے کہ انھیں اس بارے میں سوچنا پڑے کہ کیا ہوگا۔
’نایاب معدنیات کا خزانہ‘ اور ٹرمپ کی دھمکی: امریکہ کے نئے صدر گرین لینڈ کو پانے کے لیے عسکری طاقت استعمال کر سکتے ہیں؟ایران، گرین لینڈ یا کیوبا: وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا اگلا نشانہ کون سا ملک بن سکتا ہے؟گرین لینڈ میں برف کی دبیز تہوں کے نیچے آخر کیا چھپا ہے اور اس خزانے کا حصول کتنا مشکل ہے؟لیتھیئم: کیا ’سفید سونے‘ کی جنگ میں چین امریکہ کو شکست دے رہا ہے؟تیل کے بعد وہ قیمتی ٹیکنالوجی جس پر چین اور امریکہ لڑ رہے ہیں مگر امریکہ یہ ’جنگ‘ کیسے جیت رہا ہے؟