’چند سال پہلے تک یہ بس ایک عام سا پودہ ہوا کرتا تھا ہمارے گاؤں میں۔‘ یہ کہنا تھا کہ آسام کی نیلم براہما کا۔
اس پودے کو مقامی زبان میں ’اپراجیتا‘ کہتے ہیں لیکن عام زبان میں اس کا نام ’بٹرفلائی پی‘ ہے جو کسی بیل کی طرح بڑھتا ہے اور اس پر ایک نیلے رنگ کا پھول کھلتا ہے۔
دو سال قبل جب نیلم کو علم ہوا کہ مقامی خواتین یہ پھول بیچ کر پیسہ کما رہی ہیں تو وہ بہت حیران ہوئیں۔ اس پھول سے چائے بھی بنتی ہے اور اس کے نیلے رنگ کو مختلف مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
نیلم نے ان خواتین کے ساتھ ملنے اور کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’نتائج نے مجھے حیران کر دیا۔ پہلی بار میں نے خشک پھول بیچ کر 50 ڈالر کمائے تو مجھے جھٹکا سا لگا۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ میں اپنا مستقبل اپنے قابو میں لا سکتی ہوں۔‘
یہ پہلا تجربہ ایک کاروبار میں تبدیل ہوا۔ نیلم نے چھوٹے قرضے کی درخواست اور سولر ڈرائیر خرید لیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس مشین نے پھولوں کو زیادہ جلدی خشک کیا جا سکتا ہے، ان کا رنگ محفوظ رکھتے ہوئے خریدار کی طلب کے مطابق معیار بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔‘
واضح رہے کہ تھائی لینڈ اور انڈونیشیا دنیا میں بٹرفلائی نامی اس پھول کو اگانے اور استعمال کرنے والے سب سے بڑے ممالک ہیں۔ تاہم اس پھول کی مانگ بڑھ رہی ہے اور اسی وجہ سے یہ کاروبار انڈیا میں بھی پھیل رہا ہے۔
ورشیکا ریڈی ٹی ایچ ایس امپیکس نامی کمپنی کی بانی ہیں جو قدرتی رنگ برآمد کرتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’دنیا میں قدرتی رنگوں کی مانگ بہت زیادہ بڑھ رہی ہے۔‘
اس مانگ کے پیچھے قدرتی اجزا کی بڑھتی ہوئی مانگ بھی ہے اور خوراک کو رنگ دینے والے غیر قدرتی اجزا کی درآمد پر امریکہ میں بڑھتی ہوئی پابندیاں بھی۔
2021 میں امریکی فوڈ اور ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ’بٹرفلائی پی‘ کی بطور قدرتی رنگ منظوری دی تھی۔ تاہم 2022 میں یورپین فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے اس پھول کے استعمال کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔
تاہم انڈیا میں اس کاروبار کو اہمیت مل رہی ہے۔ ریڈی کا کہنا ہے کہ ’ابھی تک اس کو طبی پودے کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے نا کہ اس کی کمرشل اہمیت کو۔‘
وہ اب کسانوں کے ساتھ مل کر پیداوار کا معیار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں اور آگاہی فراہم کر رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے اترپردیش میں چند کسانوں اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ مل کر کام کیا اور باضابطہ کنٹریکٹ کیا حس کے تحت ہم آگاہی بھی دیتے ہیں اور تکنیک بھی بتاتے ہیں۔‘
بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک کا اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے کا سفر: بشیر جان جن کی زندگی مہاتیر محمد سے ہوئی ایک ملاقات نے بدل دی’ایک ایکڑ سے لاکھوں میں آمدن‘: وہ پڑھے لکھے نوجوان جو نوکری چھوڑ کر کارپوریٹ فارمنگ کا رُخ کر رہے ہیںماضی میں مہنگا فروخت ہونے والا چلغوزہ اس برس پاکستان میں اتنا سستا کیوں؟’کشمیری گولڈ‘: سونے جتنے مہنگے مسالے ’زعفران‘ کے کھیتوں میں اب سیب کیوں اُگائے جا رہے ہیں؟
آہستہ آہستہ دیگر لوگ بھی اس موقع کو سمجھ رہے ہیں۔ نتیش سنگھ دلی کے رہائشی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’جب آپ اس پھول کو گرم پانی میں ڈالیں تو یہ نیلا ہو جاتا ہے، اور اس میں لیموں نچوڑیں تو یہ جامنی ہو گیا جو یقینا جادوئی تھا۔‘
ریڈی کی طرح ان کا بھی یہ ماننا ہے کہ یہ پھول انڈیا میں لوگوں کی قسمت بدل سکتا ہے۔ ’یہ یہاں ہزاروں سال سے ہے لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ ایک صحت مند غذا بھی بن سکتا ہے۔‘
2018 میں نتیش نے ’بلیو ٹی‘ نامی برانڈ قائم کیا لیکن اس کا آغاز اچھا نہ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’شروع میں ہمیں امپورٹ کرنا پڑا کیوں کہ انڈیا میں اچھے معیار کے پھول ہی نہیں مل رہے تھے۔ یا تو ان کی پتیاں کم ہوتی تھیں جن کو خشک کرنے کے بعد کچھ باقی نہیں بچتا تھا۔ ہمیں زیادہ پتیوں والا پھول درکار ہوتا ہے جس کا رنگ خشک ہونے کے بعد برقرار رہے۔‘
گزشتہ سات سال کے دوران نتیش بھی کسانوں کے ساتھ معیار اور مقدار بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے صرف پانچ کسانوں کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کیا تھا لیکن اب یہ تعداد 600 تک جا پہنچی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تربیت اور معیار کو یقینی بنانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
اس کام میں پھولوں کی چنائی سب سے اہم ہوتی ہے اور یہ کام زیادہ تر خواتین کرتی ہیں۔ نتیش کا کہنا ہے کہ ’ان کے ہاتھ نرم ہوتے ہیں اور وہ جانتی ہیں کہ پودے کو نقصان پہنچائے بغیر کیسے پھول اتارا جائے اسی لیے انھیں تربیت دی جاتی ہے۔‘
اگلا مرحلہ خشک کرنے کا ہوتا ہے اور یہ بھی احتیاط سے ہونا ضروری ہے۔ نتیش کے مطابق درجہ حرارت برقرار رکھنا بہت اہم ہوتا ہے کیوں کہ ’ایک غلطی سے اس کی قدر کم ہو جاتی ہے۔‘
پھول میں نمی کو جانچا جاتا ہے اور اس کے بعد اسے خشک کیا جاتا ہے۔ نتیش کا کہنا ہے کہ ’اگر زیادہ گرمی ہو تو پھول جل جاتا ہے اور یہ طبی معیار اور رنگ کھو سکتا ہے۔‘
رنگ کے علاوہ اس پھول کے طبی فوائد بھی ہیں لیکن اس بارے میں اور تحقیق کی ضرورت ہے۔
سری راماچندرا انسٹیٹیوٹ چنائی کی اسسٹنٹ پروفیسر وی سپریا کا کہنا ہے کہ ’ہم نے دیکھا کہ اس پر کوئی جامع تحقیق نہیں ہوئی ہے۔‘ انھوں نے ایسے لوگوں پر تحقیق کی جن کو ذیابطیس لاحق ہونے کا خطرہ تھا اور ان کے مطابق خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کے اچھے نتائج نظر آئے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اب یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اس کے طبی فوائد ہیں اور اسی وجہ سے یہ زیادہ مشہور بھی ہو رہا ہے۔‘
پشپال بسواس مغربی بنگال میں ایک چھوٹا سا فارم رکھتے ہیں جہاں انھوں نے اس پھول کو اگانا شروع کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے میں چاول اور سبزی اگاتا تھا لیکن میرا مال کبھی کبھی بکتا نہیں تھا اور مجھے نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔‘
گزشتہ سات سال میں اس پھول کی وجہ سے سب کچھ بدل گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ آسان فصل ہے۔ سائنسی طریقوں سے پیداوار 50 کلو سے 80 کلو تک پہنچ گئی اور اپنی کمائی سے میں نے اور زمین ٹھیکے پر لے لی جس کی وجہ سے میری کمائی اور بڑھی۔‘
بسواس کا کہنا ہے کہ قریب کے دیہات بھی اب اس پھول کی پیداوار میں شامل ہو چکے ہیں۔
سٹاک، میوچوئل فنڈ یا سونا: وہ سرمایہ کاری جو پاکستان میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا خواب ممکن بنا سکتی ہے ’ایک ایکڑ سے لاکھوں میں آمدن‘: وہ پڑھے لکھے نوجوان جو نوکری چھوڑ کر کارپوریٹ فارمنگ کا رُخ کر رہے ہیں’کشمیری گولڈ‘: سونے جتنے مہنگے مسالے ’زعفران‘ کے کھیتوں میں اب سیب کیوں اُگائے جا رہے ہیں؟ماضی میں مہنگا فروخت ہونے والا چلغوزہ اس برس پاکستان میں اتنا سستا کیوں؟بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک کا اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے کا سفر: بشیر جان جن کی زندگی مہاتیر محمد سے ہوئی ایک ملاقات نے بدل دی