F-16 طیارے، سخوئی جہاز مگر ایک ایسی آرمی ’جس میں بھاگنے والوں کی شرح زیادہ ہے‘: وینزویلا کی فوج امریکی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jan 03, 2026

Getty Imagesوینزویلا میں 123,000 فعال فوجیوں کے علاوہ 220,000 افراد پر مشتمل ملیشیا اور 8,000 ریزرو اہلکار ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف ’بڑے پیمانے پر حملے‘ کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے صدر اور اُن کی اہلیہ کو حراست میں لے کر بیرون ملک منتقل کر دیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے اس حملے کا آغاز اتوار کی صبح (پاکستانی وقت کے مطابق) کیا گیا جس کے بعد وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سُنی گئیں۔

وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کو اپنی تاریخ کی ’اب تک کی بدترین جارحیت‘ کا سامنا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ ’انھوں نے ہم پر حملہ کیا ہے، لیکن وہ ہمیں زیر نہیں کر سکیں گے۔‘ انھوں نے ملک بھر میں فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کا اعلان بھی کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد سے امریکہ کے وینزویلا کے ساتھ تعلقات بہت کشیدہ ہیں۔ بی بی سی اُردو نے چند روز قبل ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی کہ اگر امریکہ وینزویلا پر حملہ آور ہوتا ہے تو کیا وینزویلا اپنا دفاع کر پائے گا؟

یہ رپورٹ ذیل میں پڑھی جا سکتی ہے۔

چند ہفتوں قبل لاطینی امریکہ کے قریب سمندر میں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (امریکہ کا سب سے بڑا طیارہ بردار جنگی بحری جہاز) کی آمد نے امریکہ اور وینزویلا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی تھیں۔

یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ کے آمد کے ہی اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ امریکہ وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

یہ 1989 میں پانامہ پر حملے کے بعد سے لاطینی امریکہ میں امریکی فوج کی سب سے بڑی موجودگی تھی۔ جیسے تین دہائیوں قبل مینوئل انتونیو نوریگا پر منشیات کی سمگلنگ کے الزمات لگے تھے ویسے ہی الزامات کا سامنا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو بھی ہے۔

امریکہ طویل عرصے سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی سطح پر منشیات سمگلنگ کرنے والی مبینہ تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں، تاہم صدر مادورو نے ہمیشہ اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

امریکہ وینزویلا کے ساحل کے قریب دنیا کے سب سے بڑے اور جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز کو تعینات کر کے اپنے ارادوں کے بارے میں ابہام برقرار رکھ رہا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ وینزویلا پہلے ہی کسی حملے کی تیاری کر رہا تھا۔

وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو لوپیز نے نومبر کے وسط میں ملک بھر میں زمینی، سمندری، فضائی، دریائی اور میزائل افواج کے ساتھ ساتھ سویلین ملیشیاؤں کی ’بڑے پیمانے پر تعیناتی‘ کا اعلان کیا تھا تاکہ صدر نکولس مادورو کی حکومت کو درپیش خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

پیڈرینو لوپیز نے ٹی وی پر نشر ہونے والے ایکپیغام میں مزید کہا تھا کہ نکولس مادورو نے آپریشن کے لیے ’تقریباً دو لاکھ‘ فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔

امریکی ’سپر کریئر‘ (طیارہ بردار بحری جہاز) کی آمد کو وینزویلا میں متحرک مبینہ منشیات فروشوں کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شروع کی گئی فوجی مہم کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جس میں پہلے ہی کشتیوں اور نیم آبدوز جہازوں پر سوار 75 سے زیادہ افراد کی جان جا چکی ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا کہ کیا وینزویلا کی افواج دنیا کی ترقی یافتہ ترین امریکی افواج کے حملے کا مقابلہ کر سکتی ہیں؟

وینزویلا کی فوج، سخوئی اور ایف 16 طیارےGetty Imagesاسی کی دہائی میں وینزویلا کو امریکہ نے ایف 16 طیارے بھی دیے تھے، یہ وہ وقت تھا جب وینزویلا امریکہ کا اتحادی تھا

صدر مادورو نے ستمبر میں دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا کے دفاع کے لیے 80 لاکھ سے زائد افراد نے اپنا اندراج کروایا ہے اور انھوں نے کہا تھا کہ وہ اسے ایک ملیشیا کی شکل دے سکتے ہیں تاہم ماہرین کی طرف سے 80 لاکھ کے ہندسے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سنہ 2020 سے سنہ 2023 تک بوگوٹا میں امریکی سفارتخانے سے منسلک سابق سفارتکار جیمز سٹوری نے بی بی سی منڈو کو بتایا تھا کہ ’یہ سچ نہیں۔ اصل اعداد و شمار بہت کم ہیں۔ نکولس مادورو گذشتہ برس چالیس لاکھ ووٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے اور ان کے پاس ایک ایسی فوج ہے جس میں بھاگنے والوں کی شرح زیادہ ہے۔‘

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا میں 123,000 فعال فوجیوں کے علاوہ 220,000 افراد پر مشتمل ملیشیا اور 8,000 ریزرو اہلکار ہیں۔

Getty Images

اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وینزویلا کے فوجی اہلکار عام طور پر تربیت یافتہ نہیں، اپنی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دیتے اور ملیشیا کے بہت سے ارکان تو مسلح بھی نہیں۔ ’شاید فوج میں (لڑائی کے) کچھ قابل یونٹ ہیں لیکن ایک جنگی قوت کے طور پر وہ زیادہ قابل نہیں۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ وینزویلا کی فوج ’پہلے کی طرح نہیں‘ تاہم اس کے پاس ’خطے کے لحاظ سے کچھ منفرد وسائل ہیں۔‘

اگرچہ امریکی فوج وینزویلا کی فوج سے بہت آگے ہے لیکن کاراکاس کے پاس بھی جدید فوجی ساز و سامان موجود ہے۔

سنہ 2006 میں سابق صدر ہیوگو شاویز نے روس سے 20 سخوئی طیارے خریدے تھے۔ اس کے علاوہ 1980 کی دہائی میں وینزویلا نے امریکہ سے ایک درجن سے زیادہ ایف 16 طیارے بھی خریدے تھے، یہ وہ وقت تھا جب وینزویلا امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہوا کرتا تھا۔

جیمز سٹوری کا کہنا ہے کہ ’سخوئی لڑاکا طیارے اس خطے میں کسی بھی دوسرے طیاروں پر برتری رکھتے ہیں اور ان میں سے کچھ اب بھی اڑان بھرنے کے قابل ہیں۔ میرے خیال میں ایف 16 میں سے بھی ایک یا دو طیارے ابھی بھی آپریشنل ہیں۔‘

طیارہ شکن میزائل اور ڈرون

امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے دوران نکولس مادورو نے اکتوبر کے آخر میں دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا نے 5,000 روسی ساختہ اگلا-ایس طیارہ شکن میزائلوں کو ’اہم فضائی دفاعی پوزیشنوں‘ پر نصب کر رکھا ہے۔

نکولس مادورو نے ایک فوجی تقریب کے دوران کہا تھا کہ ’دنیا کی کوئی بھی فوجی طاقت اگلا ایس کی طاقت کو جانتی ہے۔‘

Getty Images

’اگلا ایس‘ مختصر فاصلے اور کم اونچائی پر کام کرنے والا ایک فضائی دفاعی نظام ہے جو کروز میزائلوں، ڈرونز، ہیلی کاپٹروں اور نچلی سطح پر پرواز کرنے والے طیاروں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وینزویلا کے پاس کچھ چینی وی این 4 بکتر بند گاڑیاں بھی ہیں اور یہ حالیہ برسوں میں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے مسلح ڈرونز کا حامل جنوبی امریکہ کا پہلا ملک بن گیا۔ ان ڈرونز کو سنہ 2022 میں ایک فوجی پریڈ کے دوران بھی دیکھا گیا تھا۔

وینزویلا کے پاس اپنے تیار کردہ انتونیو ہوسے دے سوکرے 100 اور 200 اور اے این ایس یو-100 اور 200 ڈرونز بھی موجود ہیں، جو ایرانی ڈرونز کا جدید ورژن سمجھے جاتے ہیں۔

بحری جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور سی آئی اے: جنگوں کے مخالف ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں چاہتے کیا ہیں؟ٹرمپ کا سفر درحقیقت منزل نہیں بلکہ عارضی پڑاؤ کی جانب تھا: امریکی صدر کے ساتھ گزرے 24 گھنٹوں کی روداد حکومتوں کی ’تبدیلی‘، ریڈیو پر پروپیگنڈا مہمات اور چی گویرا کی گرفتاری سمیت سی آئی اے کی لاطینی امریکہ میں خفیہ کارروائیوں کی داستانصدر ٹرمپ کا جوہری تجربوں کا اعلان: کیا یہ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی نئی دوڑ کا آغاز ہے؟

روسی ڈوما کی دفاعی کمیٹی کے پہلے نائب چیئرمین الیکسے زووراولیف کے مطابق وینزویلا کو ایران سے جہاز شکن میزائل لانچروں سے لیس پیک کاپ-III تیز ترین حملہ آور کشتیاں بھی ملی ہیں۔ ان سب کے علاوہ پینٹسر-ایس1 اور بوک-ایم ٹو ای زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم کو حال ہی میں ال-76 ٹرانسپورٹ طیاروں پر کراکس پہنچایا گیا۔

خارجہ پالیسی اور دفاع میں مہارت رکھنے والے بین الاقوامی تجزیہ کار اور اقتصادی اور سماجی تحقیق کے ادارے سی آر آئی ای ایس کے صدر آندرے سربن پونٹ کے مطابق اس مواد کا زیادہ تر حصہ صرف تھیوری کی حد تک ہی موجود ہے۔

بی بی سی منڈو کے ساتھ ایک انٹرویو میں وہ کہتے ہیں کہ ’وینزویلا کے پاس حقیقنی معنی میں کام کرنے والے دفاعی ساز و سامان کی کمی ہے۔‘

ایسا نیٹ ورک جسے ’آسانی سے‘ بے اثر کیا جا سکتا ہے

یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں وینزویلا کے اندر بھی حملے ہو سکتے ہیں۔ اس دوران جنوبی امریکی ملک کے فضائی دفاعی نظام پر بھی خاصی بات ہوتی رہی ہے۔

تاہم آندرے سربن پونٹ کا کہنا ہے کہ اس دفاعی نظام کا زیادہ تر حصہ یا تو کام نہیں کر رہا یا پھر اسے امریکی ٹیکنالوجی سے ’آسانی سے بے اثر‘ کیا جا سکتا ہے۔

Getty Images

وینزویلا کے پاس بک میزائل سسٹم بھی ہیں، جو دارالحکومت کراکس کے ارد گرد نصب ہیں اور زیادہ موثر ہے لیکن سربن پونٹ کے اندازے کے مطابق امریکہ کے لیے انھیں بھی بے اثر کرنا خاص طور پر مشکل نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سپیئر پارٹس کی کمی کی وجہ سے اس کی دستیابی بھی بہت کم ہے۔‘

سربن پونٹ کے مطابق وینزویلا کے پاس اگلا-ایس کے پاس 5000 میزائل کی خبر بھی درست ہے۔ خیال رہے کہ نکولس مادورو نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں ان میزائلوں کا بہت فخر سے ذکر کیا تھا۔

تاہم وینزویلا کے پاس ’اگلا ایس‘ لانچرز صرف 700 ہی ہیں، جو اب بھی بڑی تعداد ہے اور ایسی چیز ہے جو تشویش کا باعث ہونی چاہیے کیونکہ ریاستی مسلح گروہوں کے ہاتھ میں یہ بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

طویل جنگ

سربن پونٹ کے مطابق نکولس مادورو حکومت کی موجودہ حکمت عملی یہ ہو گی کہ ممکنہ امریکی حملے کے بعد یہ تمام فوجی ہتھیار وینزویلا کی آبادی تک پہنچا دیے جائیں۔

کچھ لوگ خاص طور پر فکر مند ہیں کہ یہ ہتھیار مسلح گروہوں جیسے نیشنل لبریشن آرمی ای ایل این یا ایف اے آر سی کے مخالفین کے ہاتھوں بھیلگ سکتے ہیں۔

اس حکمت عملی کا مقصد مستقبل میں کسی بھی عبوری حکومت کے لیے وینزویلا میں افراتفری یا عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نکولس مادورو اور ان کا اندرونی حلقہ گوریلا جنگ لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

وینزویلا کے وزیر داخلہ ڈیوسڈاڈو کابیلو نے ستمبر میں دھمکی دی تھی کہ ان کا ملک ایک ’طویل جنگ‘ کے لیے تیار ہے۔

نکولس مادورو حکومت نے بولیورین نیشنل آرمڈ فورسز (ایف اے این بی) کے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ غریب برادریوں کی آبادی کو ہتھیار استعمال کرنے کا طریقہ سکھائیں۔

سابق سفارتکار جیمز سٹوری نے وینزویلا کے لوگوں کے مادورو کی اس طرح کی مہم میں شمولیت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’نکولس مادورو فوج یا وینزویلا کی آبادی میں سے زیادہ مقبول شخصیت نہیں اور اسی وجہ سے مجھے نہیں لگتا کہ لوگ گوریلا جنگ میں ان کی پیروی کریں گے یا ان کی حمایت کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں ’گذشتہ الیکشن میں 40 لاکھ ووٹ بھی نہیں ملے تھے۔‘

وینزویلا کی حکومت کے زیر کنٹرول نیشنل الیکٹورل کونسل کے مطابق نکولس مادورو نے تقریباً 6.4 ملین ووٹ حاصل کیے۔ یہ اعداد و شمار وینزویلا کی اپوزیشن اور متعدد بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے چیلنج کیے گئے ہیں۔

وینزویلا جنگ کے لیے کتنا تیار؟

وینزویلا کی حکومت کے بڑھتے ہوئے جنگجو رویے اور امریکہ مخالف بیان بازی کے باوجود تجزیہ کار آندرے سربن پونٹ کا دعویٰ ہے کہ ان کی فوج کسی لڑائی کے لیے تیار نہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ بولیویرین نیشنل آرمڈ فورسز پچھلے 25 سال سے ’جنگ کے مرحلہ وار پھیلاؤ‘ کے فوجی ڈوکٹرائن کے تحت کام کر رہی ہے۔

وہ اس ڈاکٹرائن کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’پہلے داخلی عدم استحکام کا ایک مرحلہ آئے گا، جسے بیرونی ملک کی مداخلت سے پروان چڑھایا جائے گا، پھر دوسرے مرحلے میں ایک پڑوسی ملک شامل ہو گا، جس سے ’قریبی اتحادیوں کے درمیان تصادم‘ پیدا ہو گا، جس کے نتیجے میں امریکی مداخلت ہو سکتی ہے۔‘

سربن پونٹ کے مطابق ’یہ ایک طویل عوامی مزاحمت کا باعث بنے گا، جس میں غیر متحرک مسلح افواج اور دیگر سماجی تحریکوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہتھیار رکھیں اور امریکی قبضے کے خلاف گوریلا جنگ لڑنے کے لیے آبادی کے درمیان گھل مل جائیں گے۔‘

ان کے مطابق کسی پڑوسی ملک جیسے کہ کولمبیا یا برازیل کے ساتھ تنازع میں وینزویلا کے پاس روایتی ہتھیاروں کے نظام بہت کارآمد ہوں گے لیکن ان کا اصرار ہے کہ وہ امریکہ کے لیے حقیقی خطرے کی نمائندگی نہیں کرتے۔

امریکہ نے دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز بحیرہ کریبیئن میں کیوں تعینات کیا؟بحری جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور سی آئی اے: جنگوں کے مخالف ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں چاہتے کیا ہیں؟وینزویلا کا عقوبت خانہ جہاں ’سیاسی قیدیوں کو اس وقت تک ہوا سے محروم بند کمرے میں رکھا جاتا جب تک ان کا دم نہ گھٹنے لگے‘ٹرمپ کا سفر درحقیقت منزل نہیں بلکہ عارضی پڑاؤ کی جانب تھا: امریکی صدر کے ساتھ گزرے 24 گھنٹوں کی روداد روس کے نئے جوہری ہتھیار، حقیقی خطرہ یا پوتن کی خالی خولی دھمکی؟حکومتوں کی ’تبدیلی‘، ریڈیو پر پروپیگنڈا مہمات اور چی گویرا کی گرفتاری سمیت سی آئی اے کی لاطینی امریکہ میں خفیہ کارروائیوں کی داستان
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More