’آگ بجھی تو 10 دن کی بچی غائب تھی‘: حاملہ ہونے کا ڈرامہ کرنے والی رشتہ دار خاتون اغواکار نکلی

بی بی سی اردو  |  Jan 03, 2026

Getty Imagesوالدہ نے اپنی بچی کو کئی سال بعد پہچان لیا اور ان کی شناخت کے لیے جنگ لڑی

ایک زور دار آواز سن کر وہ اس کمرے میں گئیں جہاں ان کی بچی سو رہی تھی۔ وہاں ہر طرف آگ کے شعلے تھے۔ گھبراہٹ کے عالم میں انھوں نے وہ پالنا تلاش کرنے کی کوشش کی جہاں بچی کو چھوڑا تھا، لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا۔

15 دسمبر 1997 کی رات، امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں مقیم پورٹو ریکن جوڑے، لوز کویواس اور پیڈرو ویرا کے گھر میں آگ لگی۔ وہ اپنے دو کمسن بیٹوں اور 10 دن کی بیٹی، ڈیلیمار، کے ساتھ وہاں رہتے تھے۔

حکام نے نتیجہ اخذ کیا کہ آگ خراب وائرنگ کی وجہ سے لگی۔ بچی ڈیلیمار کا کوئی سراغ نہ ملا، طبی معائنہ کار کی رپورٹ کے مطابق یہ فرض کر لیا گیا کہ بچی آگ میں مکمل طور پر جل کر راکھ ہو چکی ہے۔

Wag Entertainment1997 میں گھر میں آگ لگنے کے بعد یہ سمجھا گیا کہ ڈیلیمار اس کی نذر ہو گئی ہیں

اس کے والدین شدید صدمے میں تھے، لیکن یہ تو ایک خوف ناک کہانی کا صرف آغاز تھا، یہ خاندان ایک امتحان سے گزرنے والا تھا۔

آگ لگنے کے واقعہ سے کچھ دیر پہلے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ لوز نے دروازہ کھولا تو سامنے کیرولائن تھیں، پیڈرو کی دور پار کی رشتہ دار (لوز کے انکل کی کیرولائن کی والدہ سے شادی ہوئی تھی)۔

کیرولائن نے لوز سے کہا کہ وہ پیڈرو سے بات کرنا چاہتی ہیں کیوں کہ ان کے پاس پیڈرو کے لیے ایک نوکری ہے۔ اس وقت پیڈرو بے روزگار تھے اور نوکری کے سلسلے میں کیرولائن کے ہم راہ ہی کچھ جاننے والوں سے ملنے گئے تھے۔

گجرات میں تین بچوں کو قتل اور لاشوں کو نذر آتش کرنے کے الزام میں والدہ گرفتار: پولیس ملزمان تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟قندھار ہائی جیکنگ: انڈین مسافر طیارے کا اغوا جس کے بعد کھٹمنڈو ایئرپورٹ پر انڈیا کو اضافی سکیورٹی چیک کی اجازت دینا پڑیاغوا کے بعد بازیاب ہونے والی چنگیز خان کی وہ اہلیہ جن کے مشوروں اور مدد سے منگول سلطنت کی بنیاد رکھی گئیمنڈی بہاؤالدین: پانچ سالہ بچے کا اغوا اور بازیابی، ’کوئی جانتا تھا کہ باغ بکنے کے بعد گھر میں رقم ہے‘

اس وقت، جب پیڈرو گھر سے باہر تھے، کیرولائن نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنا پرس پیڈرو کے گھر میں بھول گئی ہیں اور پرس لینے کے لیے اکیلی ہی پیڈرو کے گھر گئیں، جہاں ان کی لوز سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔

گھر پہنچنے پر کیرولائن نے اوپر کی منزل پر موجود باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت مانگی۔ چند منٹ بعد لوز اوپر گئیں تاکہ ڈیلیمار کو دیکھ سکیں۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ بچی اس جگہ موجود نہ تھی جہاں وہ اسے چھوڑ کر گئی تھیں۔ اس کے بجائے بچی کھڑکی کے قریب رکھے پالنے میں موجود تھی۔

جب کیرولائن باتھ روم سے نکلیں تو لوز نے ان سے بچی کی جگہ تبدیل ہونے کا پوچھا۔ ’میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ گرے، میں نہیں چاہتی تھی کہ اسے چوٹ لگے‘ کیرولائن نے جواب دیا اور ایک بار پھر گھر سے روانہ ہو گئیں۔

تقریباً اسی وقت لوز نے ایک زور دار دھماکہ سنا۔ وہ اوپر بیڈ روم میں گئیں تو دیکھا کہ وہاں آگ لگ چکی تھی۔ آگ اور دھوئیں کے درمیان ڈیلیمار کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ وہ موسم سرما کی ایک سرد رات تھی، اس کے باوجود کھڑکیاں کھلی تھیں۔

گھبراہٹ کے عالم میں لوز کی پیشانی جلنے لگی، دروازے کے ہینڈل کو چھونے سے یوں لگتا تھا جیسے وہ ابل رہے ہوں۔ چند منٹ بعد آگ بجھانے والا عملہ پہنچا اور آگ بجھا دی گئی۔ انھوں نے گدے کا ایک ٹکڑا لپیٹ کر لوز کے حوالے کیا اور کہا کہ یہی ڈیلیمار کی باقیات ہیں۔

اس دوران پریشان حال پیڈرو بھی گھر واپس پہنچے، جہاں ان کی ملاقات سڑک کنارے کھڑی کیرولائن سے ہوئی۔

Getty Imagesلوز کے گھر میں آگ لگی جہاں وہ اپنے شوہر،دو کمسن بیٹوں اور 10 دن کی بیٹی، ڈیلیمار، کے ساتھ رہتی تھیںخاندان کی سالگرہ

اس وقت کیرولائن بھی ایک بچے کی ماں بننے والی تھیں۔ وہ خوش نظر آتی تھیں۔ ان کے گھر والے، ان کے دوست، کام کے ساتھی، سبھی ان کی یہ باتیں سنتے کہ ان کے ہاں چوتھا بچہ پیدا ہونے والا ہے۔

وہ ایک لڑکی تھی جسے عالیہ کا نام دیا گیا۔ کیرولائن نے بتایا کہ انھوں نے دوست کی مدد سے بچی کو گھر میں ہی جنم دیا ہے۔ کیرولائن لوز اور پیڈرو کے گھر سے 20 کلومیٹر دور رہتی تھیں، اس لیے ان کی آپس میں زیادہ ملاقاتیں نہیں ہوتی تھیں۔ کچھ سال بعد لوز اور پیڈرو میں علیحدگی ہو گئی۔

پھر جنوری 2004 میں پیڈرو کی بہن کے گھر سالگرہ کی ایک تقریب ہوئی۔ اگرچہ لوز اور پیڈرو الگ ہو چکے تھے، لیکن لوز کے پیڈرو کے خاندان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے تو سالگرہ کی تقریب میں لوز کو بھی مدعو کیا گیا۔

جب لوز تقریب میں پہنچیں تو انھوں نے کیرولائن کو ایک ننھی بچی کے ہم راہ دیکھا، فوراً ایک چیز نے ان کی توجہ حاصل کر لی، بچی کے گالوں میں پڑھنے والے گڑھے (ڈمپلز)۔

انھوں نے فوراً ہی اپنی بہن سے کہا کہ یہ بچی ڈیلیمار ہے۔

Delimar Veraڈیلیمار کو جب حقیقت کا پتا چلا تو انھیں لگا کہ وہ دو ماؤں کے ساتھ زندگی گزار سکیں گی

جب وہ بچی دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے اوپر کی منزل پر گئی تو لوز بھی پیچھے پیچھے چلی گئیں اور کہا، ’تمہارے بالوں میں چیونگم لگ گئی ہے۔‘

لوز نے عالیہ کے بال اتنے زور سے کھینچے کہ ایک لٹ ان کے ہاتھ میں آ گئی۔ عالیہ نیچے گئی تو کیرولائن نے کہا، انھیں جانا ہو گا۔ عالیہ نے وجہ پوچھی تو کیرولائن نے جواب دیا، ’یہاں ایک بری عورت ہے جو تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہے، کیا تم نہیں چاہوں گی کہ میں تمہیں اس سے دور کروں۔‘

میڈیکل کلینک

چند ہفتے بعدکیرولائن عالیہ اور اپنی ایک اور بیٹی اینجلیکا کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گئیں۔ جب وہ اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے تو کیرولائن انھیں باتھ روم میں لے گئیں۔

انھوں نے اینجلیکا سے کہا کہ دروازے پر نظر رکھے، پھر سپرے کرنے والی ایک بوتل نکالی جس میں شفاف مائع تھا۔ عالیہ کو اپنا منہ کھولنے کا کہا گیا، کیرولائن نے وہ مائع اس کی زبان پر چھڑک کر حکم دیا، ’اسے نگلنا مت۔‘

کئی بار یہ عمل دہرانے کے بعد عالیہ کو ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا جہاں اس کی زبان سے سیمپل لیا گیا۔ وہ شفاف مائع در اصل کیرولائن کا تھوک تھا اور وہ ڈی این اے ٹیسٹ کروا رہی تھیں (یہ ثابت کرنے کے لیے کہ عالیہ انہی کی بیٹی ہے)۔

لیکن لوز کے پاس بھی عالیہ کے بالوں کی لٹ موجود تھی، انھوں نے بھی پولیس کو ڈی این اے ٹیسٹ کرانے پر رضا مند کر لیا۔

انھیں ایک قانون ساز بھی ملا جو ان کی بات سننے کو تیار تھا، اس کے ذریعے وہ ایک وکیل تک پہنچیں جو یہ کیس لینے کو تیار ہو گیا۔

فروری 2004 میں وہ ثابت ہو گیا جس کا لوز کو یقین تھا۔ چھ سالہ عالیہ ہرنانڈز اصل میں ڈیلیمار ویرا تھی۔ کیرولائن نے اپنے حمل کے بارے میں جھوٹ بول کر بچی کو اغوا کر لیا تھا۔ اپنا جرم تسلیم کرنے پر کیرولائن کو جیل بھیج دیا گیا۔

Delimar Veraاس اغوا میں کیرولین کا ساتھ کس سے دیا، اس بارے میں اب بھی شکوک و شبہات باقی ہیںدو ماؤں کا تصور

ننھی ڈیلیمار کی زندگی بدل کر رہ گئی۔ وہ لوز سے پوچھنا چاہتی تھیں، ’آپ مجھے میری ماں سے دور کیوں کر رہی ہیں؟‘

ڈیلیمار یاد کرتی ہیں، ’جب وقت گزرا اور میں نے خبروں میں دیکھا تو کیرولائن کو ایک مجرم کے طور پر دکھایا جا رہا تھا۔‘

ڈیلیمار کو اپنا نام بھی پسند نہ آیا، ’پہلے پہل تو مجھے اپنے نام سے نفرت محسوس ہوئی۔ لوگ مجھے ڈیلیمار پکارتے تو میں انھیں نظر انداز کر دیتی۔‘

وہ ایسی ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ رہ رہی تھیں، جو ان کے لیے بالکل اجنبی تھے۔

آخر کار، ڈیلیمار نے اپنی زندگی میں آئی اس ڈرامائی تبدیلی کو قبول کر لیا۔

واقعے کے تقریباً 30 سال بعد ڈیلیمار یاد کرتی ہیں، ’میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس صورت حال کا مثبت پہلو سوچا جائے، مجھے واقعی لگتا تھا میری دو مائیں ہیں، کیرولائن اور لوز۔ میں نے سوچا کہ اپنی ماں کے ساتھ ایک شان دار زندگی گزار سکتی ہوں، اور شاید ایک زندگی کیرولائن کے ساتھ بھی گزار سکتی ہوں۔ شاید چند ماہ بعد۔ شاید چند سال بعد۔ لیکن ایک دن ہم پھر ساتھ ہوں گے۔‘

لیکن ڈیلیمار کا غصہ ختم نہ ہوا تھا۔ وہ جیل میں کیرولائن سے ملنے گئیں اور ان پر برس پڑیں۔

’یہ بہت مشکل تھا، میں نے (کیرولائن سے) پوچھا، آپ کے تو تین بچے اور بھی تھے، پھر آپ نے مجھے اغوا کیا ہی کیوں؟ آپ نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ مجھے ایسی صورت حال میں کیوں ڈالا جہاں میں الجھن میں ہوں، جہاں اس قدر تبدیلیاں ہیں۔ لیکن کیرولائن نے معذرت نہ کی، بس اتنا کہا، ہم پھر ملیں گے۔ مجھے لگا یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔‘

Getty Images2007 میں ڈیلیمار اور ان کی والدہ

ڈیلیمار اس کے بعد کبھی کیرولائن سے نہ ملیں۔ لیکن کئی سوالات آج بھی ان کے دماغ میں گردش کرتے ہیں۔

اگر آگ لگنے کے فوراً بعد کیرولائن ان کے والد پیڈرو کو سڑک پر ملیں، تو انھوں نے بچی کو چرایا کیسے؟

یقیناً ان کا کوئی ساتھی رہا ہو گا جو کھڑکی کے راستے آیا اور انہیں چرا لے گیا۔ وہ کون تھا؟ اس وقت کیرولائن نے پیڈرو کو بھی اس میں ملوث کرنے کی کوشش کی تھی۔ کیا واقعی والد کا اس اغوا سے کوئی تعلق تھا۔ پیڈرو اس سے انکار کر چکے ہیں اور ڈیلیمار کہتی ہیں انھیں اپنے والد کی بات پر یقین ہے۔

’لیکن ہم جانتے ہیں کیرولائن کے ساتھ کوئی اور بھی تھا، کوئی ایسا شخص جو ان کی حفاظت کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا تھا‘

ڈیلیمار نے کہا، ’جس شخص نے مجھے پالنے سے نکال کر کھڑکی کے راستے باہر پھینکا، وہ رات کی تاریکی میں ہوا کے ساتھ ہی غائب ہو گیا۔ بد قسمتی سے ہم آج تک نہیں جانتے کہ وہ کون تھا۔‘

گجرات میں تین بچوں کو قتل اور لاشوں کو نذر آتش کرنے کے الزام میں والدہ گرفتار: پولیس ملزمان تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟نور خان: جب پی آئی اے کے سربراہ نے طیارہ اغوا کرنے والے ہائی جیکر پر تنہا قابو پا لیااغوا کے بعد بازیاب ہونے والی چنگیز خان کی وہ اہلیہ جن کے مشوروں اور مدد سے منگول سلطنت کی بنیاد رکھی گئیمنڈی بہاؤالدین: پانچ سالہ بچے کا اغوا اور بازیابی، ’کوئی جانتا تھا کہ باغ بکنے کے بعد گھر میں رقم ہے‘قندھار ہائی جیکنگ: انڈین مسافر طیارے کا اغوا جس کے بعد کھٹمنڈو ایئرپورٹ پر انڈیا کو اضافی سکیورٹی چیک کی اجازت دینا پڑی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More