US Air Forces Europe-Africa via Getty Images
واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے دو ارکان کو گولی مارنے کے واقعے کے بعد اب تک امریکی حکام نے ایسے دو افغان پناہ گزین کی نشاندہی کی ہے جنھیں افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران ’آپریشن الائز ویلکم‘ کے تحت امریکہ میں پناہ دی گئی تھی۔
رواں ہفتے ایک افغان شہری کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے حکام کے بقول ٹک ٹاک پر اپنی ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک بم بنا رہے ہیں جس کا نشانہ فورٹ ورتھ کا علاقہ ہوگا۔ محمد داؤد الکوزی پر ریاستی سطح پر دہشت گردی کی دھمکی دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ الکوزی ’آپریشن الائز ویلکم‘ کے تحت امریکہ آئے تھے۔ ’ہم دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پر نہیں رہنے دیں گے۔‘
بیان کے مطابق انھیں منگل کے روز گرفتار کیا گیا جب انھوں نے ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں کہا کہ وہ فورٹ ورتھ کے علاقے میں دھماکے کے لیے بم تیار کر رہے ہیں۔
ڈی ایچ ایس کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستیں اور تمام پناہ گزینی کے فیصلے غیر معینہ مدت کے لیے روک دیے ہیں۔ امریکہ ان افراد کو پناہ نہیں دے گا جو ہمارے شہریوں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین کلیر لیویٹ نے ایکس پر کہا کہ ’جو بائیڈن کی جانب سے چار سال تک ہمارے ملک پر قومی سلامتی کے بحران کو جو کھلی چھوٹ دی گئی اس کی شدت کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔
’صدر ٹرمپ نے اپنی پوری ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہماری سرحدوں کے اندر اس برائی کو ختم کرنا جاری رکھیں۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے دو ارکان پر فائرنگ اور ایک کی ہلاکت کے واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کہا تھا کہ مشتبہ حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہے جو بائیڈن انتظامیہ کے دور میں افغان آبادکاری سکیم کے تحت امریکہ میں داخل ہوا تھا۔ ریپبلکن حکام نے بغیر ثبوت کے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جانچ پڑتال نہیں ہوئی تھی۔
ڈی ایچ ایس نے افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں کی کارروائی معطل کر دی ہے ’جب تک کہ سکیورٹی اور جانچ پڑتال کے پروٹوکول کا مزید جائزہ نہ لیا جائے۔‘
بائیڈن دور میں افغان باشندوں جانچ پڑتال پر تنقید
ڈی ایچ ایس نے کہا ہے کہ مشتبہ شخص، 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال، افغانستان کی آبادکاری کی سکیم ’آپریشن الائز ویلکم‘ کے تحت امریکہ میں داخل ہوئے۔
یہ سکیم اگست 2021 میں بائیڈن انتظامیہ کے تحت طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد ’خطرے کا شکار‘ افغانوں کی دوبارہ آبادکاری کے لیے شروع کی گئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’یہاں آئے، ان کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی۔‘
انھوں نے ایک صحافی کو ’احمق‘ کہا جب اس نے پوچھا کہ وہ واشنگٹن حملے کا الزام بائیڈن انتظامیہ پر کیوں لگا رہے ہیں۔
ایف بی آئی کی ایک نیوز کانفرنس میں، ادارے کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے دعویٰ کیا کہ پچھلی انتظامیہ نے ’ہزاروں لوگوں کو اس ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا، بغیر پس منظر کی جانچ یا پڑتال کے ایک بھی مرحلے کے۔‘
اور حملے کے روز جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں، ڈی ایچ ایس نے کہا کہ مشتبہ شخص ’ان ہزاروں افغان شہریوں میں سے ایک ہے جن کی جانچ نہیں ہوئی اور وہ بائیڈن انتظامیہ کے آپریشن الائز ویلکم پروگرام کے تحت ملک میں داخل ہوئے۔‘
’ہماری 20 سالہ شراکت داری کو فراموش نہ کریں‘: امیگریشن پالیسی میں سختی کے بعد افغان کمیونٹی کی ٹرمپ سے اپیلٹرمپ انتظامیہ کا ’ہر اجنبی کی مکمل جانچ پڑتال‘ تک پناہ گزینوں کی تمام درخواستوں پر فیصلے روکنے کا اعلانٹرمپ نے افغانستان اور ایران سمیت کن 12 ممالک کے شہریوں پر ’سفری پابندیاں‘ عائد کیں اور اس کی وجہ کیا ہے؟ٹرمپ کا تارکین وطن کو گوانتانامو بھیجنے کا اعلان اور امریکہ کے وہ شہر جو ’تارکین وطن کی پناہ گاہیں‘ ہیں
اس ہفتے ایکس پر نائب صدر جے ڈی وینس نے وہ تبصرے یاد دلائے جو انھوں نے 2021 میں کیے تھے، جن میں انھوں نے ’بغیر جانچ پڑتال افغان پناہ گزینوں کے لیے دروازے کھولنے کی بائیڈن پالیسی‘ پر تنقید کی تھی۔
انھوں نے اس سال کے شروع میں سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی جانچ کے نظام کی ناکامی کے بارے میں اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
جے ڈی وینس نے ایک افغان شہری کے معاملے کو نمایاں کیا جو طالبان کے قبضے کے بعد امریکہ لایا گیا تھا اور بعد میں دہشت گردی سے متعلق جرائم کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
فائرنگ کرنے والا شخص امریکہ میں کیسے آیا؟
رحمان اللہ لکنوال نے 8 ستمبر 2021 کو کابل کے سقوط کے فوراً بعد ’آپریشن الائز ویلکم‘ پروگرام کے ذریعے امریکہ میں داخلہ لیا۔
بہت سے افغانوں کو طالبان کی طرف سے شدید خطرات کا سامنا تھا، خاص طور پر وہ لوگ جنھوں نے مغربی حکومتوں کے ساتھ کام کیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ کی اس سال شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، افغان آباد کاری پروگرام اور ایک اور پروگرام جسے ’اینڈیورنگ ویلکم‘ کہا جاتا ہے، کے تحت 1,90,000 سے زیادہ افغانوں کو دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔
’آپریشن الائز ویلکم‘ پروگرام کے تحت آنے والے زیادہ تر افغان شہریوں کو ایک عمل کے تحت، جسے ’پیرول‘ کہا جاتا ہے، دو سال تک ملک میں رہنے کی اجازت دی گئی۔
پیرول پر موجود افغانوں پر رپورٹنگ کی مخصوص شرائط لاگو ہوتی ہیں (جیسے میڈیکل سکریننگ اور اہم ویکسینیشنز) اور اگر یہ شرائط پوری نہ ہوں تو وہ امریکہ میں رہنے کا حق کھو سکتے ہیں۔
وہ افغان جنھوں نے افغانستان میں امریکی فوج کی مدد کے لیے ’نمایاں خطرات‘ مول لیے، خصوصی امیگرنٹ ویزا (ایس آئی وی) کا عمل مکمل کرنے کے بعد مستقل قانونی رہائشی کے طور پر داخل کیے گئے۔
چیریٹی افغان ایویک کے مطابق، لکنوال کی ایک فعال ایس آئی وی درخواست موجود تھی لیکن انھیں موجودہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت اس سال پناہ دی گئی۔
اس سکیم کے تحت افغان پناہ گزین کی جانچ پڑتال کیسے ہوئی؟
ہم نے وائٹ ہاؤس سے لکنوال کی جانچ (ویٹنگ) کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ انھوں نے تفصیلات تو فراہم نہیں کیں، لیکن ہمیں یہ کہا کہ: ’یہ جانور یہاں کبھی نہ ہوتا اگر جو بائیڈن کی خطرناک پالیسیوں کی وجہ سے بےشمار بغیر جانچ پڑتال کے مجرموں کو ہمارے ملک پر حملہ کرنے اور امریکی عوام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جاتی۔‘
’ٹرمپ انتظامیہ ڈیموکریٹس کی مسلسل مخالفت کے باوجود ان درندوں کو ہمارے ملک سے باہر نکالنے اور بائیڈن انتظامیہ کی پیدا کردہ گندگی کو صاف کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔‘
بی بی سی نے ڈی ایچ ایس اور سی آئی اے سے بھی رابطہ کیا، لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا۔
اگرچہ ہمیں معلوم نہیں کہ مشتبہ شخص کی امریکہ میں داخلے سے پہلے کیا جانچ ہوئی تھی، لیکن ہمیں یہ ضرور معلوم ہے کہ وہ جس سکیم کے تحت آیا، اس میں جانچ کا طریقہ کار کیا ہونا تھا۔
’آپریشن الائز ویلکم‘ سکیم کی ایک سرکاری آرکائیو شدہ ویب سائٹ، جسے اس سال کے شروع میں آخری بار اپ ڈیٹ کیا گیا تھا، ایک ’سخت‘ اور ’کثیر پرتوں والا‘ جانچ کا عمل بیان کرتی ہے، جس کے مطابق ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے پہلے افغان شہریوں کی بائیومیٹرک معلومات، جیسے فنگر پرنٹس اور تصاویراکٹھا کرنا شامل ضروری ہے۔
اس میں متعدد سرکاری اداروں کا ذکر ہے جو جانچ کے عمل میں شامل تھے، جن میں ایف بی آئی اور نیشنل کاؤنٹر ٹیرراِزم سینٹر شامل ہیں۔
اُس وقت کے سیکریٹری برائے ہوم لینڈ سکیورٹی الیخاندرو مایورکاس، نے 2021 میں کہا تھا کہ حکومت نے اس سکیم کے تحت ’ٹھوس سکریننگ اور ویٹنگ کا نظام‘ قائم کیا ہے۔
Reutersامریکہ نے 2021 سے اب تک دو حکومتی پروگراموں کے ذریعے 190,000 سے زائد افغانوں کو آباد کیا ہے
اس پروگرام کی جانچ (ویٹنگ) کی ساکھ کے بارے میں مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
سنہ 2022 میں دفترِ معائنہ عامہ (او آئی جی) جو کہ ایک امریکی سرکاری نگرانی کا ادارہ ہے، کی جانب سے کی گئی ایک آڈٹ میں پایا گیا کہ ’انخلا کیے گئے افراد کی جانچ کے لیے استعمال ہونے والی کچھ معلومات (جیسے نام، تاریخ پیدائش، شناختی نمبر اور سفری دستاویزات کا ڈیٹا)‘ امریکی سرکاری ڈیٹا بیسز میں سرے سے غلط، نامکمل یا غائب تھا۔‘
او آئی جی نے کہا کہ یہ مسئلہ جزوی طور پر ڈی ایچ ایس کے پاس ان افغان انخلا شدہ افراد کی فہرست نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا جو ’مناسب شناختی دستاویزات سے محروم تھے۔‘
اس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) نے کچھ انخلا شدہ افراد کو ’جن کی مکمل جانچ نہیں ہوئی تھی‘ امریکہ میں داخل ہونے یا پیرول پر رہنے کی اجازت دی۔
دو سال بعد اسی سکیم کے ایک اور او آئی جیآڈٹ میں حکومت کی بعض افغان افراد کے بارے میں ممکنہ منفی معلومات (جیسے قومی سلامتی سے متعلق خدشات) کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت میں کمزوریاں پائی گئیں۔
تاہم، اس سال کے اوائل میں او آئی جی نے ایف بی آئی کو سکیم میں افغانوں کی سکریننگ میں اس کے کردار پر سراہا۔
آڈٹ میں کہا گیا: ’مجموعی طور پر ہم نے پایا کہ ایف بی آئی کے ذمہ دار تمام شعبوں نے مؤثر طریقے سے رابطہ کیا اور کسی بھی ممکنہ قومی سلامتی کے خطرات کو حل کیا۔‘
’آپریشن الائز ویلکم‘ کے آڈٹس کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ، بی بی سی ویریفائی نے جانچ کے عمل پر اپنی رائے لینے کے لیے کئی ماہرین سے بھی رابطہ کیا۔
کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے امیگریشن تجزیہ کار ایلیکس نوراسٹیہ نے کہا کہ او آئی جی کی رپورٹس کے مطابق یہ پروگرام ’عام حالات کے مقابلے میں زیادہ غیر مستقل‘ تھا، اور پناہ گزینوں کے زیادہ سخت جانچ کے عمل کے مقابلے میں کمزور تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’انخلا کی افراتفری کی وجہ سے معلومات ضائع ہوگئیں اور کچھ چیکس اس وقت تک نہیں کیے گئے جب تک پناہ گزین افغانستان سے نکل نہیں گئے تھے۔‘
نیشنل امیگریشن فورم کی صدر اور سی ای او جینی مرے نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ وہ امریکی فوجی اڈوں پر موجود تھیں جہاں انخلا شدہ افراد کی ابتدائی پروسیسنگ ہوتی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’انخلا کے دوران افراد کو فوجی اڈوں پر کئی ہفتے، بلکہ کئی مہینے تک رکھا گیا، جب تک کہ وہ امریکہ میں داخل ہونے کے لیے تیار نہیں ہو گئے۔ اسی دوران سکیورٹی جانچ اور طبی سکریننگ کا تفصیلی عمل مکمل کیا گیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سب سے بہترین جانچ بھی مستقبل کی پیشگوئی نہیں کر سکتی۔ ہو سکتا ہے کہ اس (لکنوال) کا ریکارڈ صاف ہو، وہ انسانی بنیادوں پر تحفظ کا مناسب امیدوار ہو، اور بعد میں کچھ تبدیل ہو گیا ہو۔‘
مس مرے نے کہا کہ انخلا کے چار سال بعد ہزاروں افغان محفوظ طریقے سے امریکہ میں دوبارہ آباد ہو چکے ہیں، اور یہ پہلا بڑا واقعہ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ حقیقت کہ ایک شخص نے ایک ہولناک کام کیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی افغان بھی خطرہ ہیں۔‘
Getty Imagesواشنگٹن ڈی سی میں ایک افغان ملزم کے ہاتھوں نیشنل گارڈ کے دو ارکان کو گولی مارنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن پالیسی میں تبدیلیوں کا اعلان کیا
سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے سی بی ایس نیوز جو بی بی سی کا امریکی شراکت دار ہے کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے افغانستان میں سی آئی اے کے ساتھ کام کیا تھا۔
بی بی سی کی افغان سروس نے لکنوال کی سابق فوجی یونٹ، قندھار سٹرائیک فورس (کے ایس ایف) کے ایک سپاہی سے بات کی۔
اس سپاہی نے بتایا کہ یونٹ میں شامل ہونے کے لیے جانچ (ویٹنگ) کا عمل ہوتا تھا، جو تقریباً تین سے چار ہفتے تک جاری رہتا تھا۔ اس میں کسی سینئرافسران کی جانب سے سفارش اور امیدوار کے موبائل فون کی ’کال ہسٹری چیک‘ شامل تھا۔
اگر امیدوار یہ مرحلہ پاس کر لیتا، تو اسے امریکی حکام کی جانب سے کیے جانے والے ایک سکیورٹی چیک کے لیے بھیجا جا سکتا تھا، جس میں درخواست گزار کے بائیومیٹرک ڈیٹا کا حصول شامل تھا۔
افغان سروس نے کے ایس ایف یونٹ کے ایک کمانڈر سے بات کرکے سپاہی کے بیان کی تصدیق کی، جنھوں نے سپاہی کی شناخت کی توثیق کی اور مزید بتایا کہ ویٹنگ کے عمل میں مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ بھی شامل تھی۔
BBC’ہماری 20 سالہ شراکت داری کو فراموش نہ کریں‘: امیگریشن پالیسی میں سختی کے بعد افغان کمیونٹی کی ٹرمپ سے اپیل’ہماری 20 سالہ شراکت داری کو فراموش نہ کریں‘: امیگریشن پالیسی میں سختی کے بعد افغان کمیونٹی کی ٹرمپ سے اپیلٹرمپ نے افغانستان اور ایران سمیت کن 12 ممالک کے شہریوں پر ’سفری پابندیاں‘ عائد کیں اور اس کی وجہ کیا ہے؟ٹرمپ کا تارکین وطن کو گوانتانامو بھیجنے کا اعلان اور امریکہ کے وہ شہر جو ’تارکین وطن کی پناہ گاہیں‘ ہیںلگ بھگ پانچ کروڑ تارکین وطن کے بغیر امریکہ کیسا نظر آئے گا؟