قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی کو جائیداد ضبط کرنے کا اختیار بھی مل گیا ہے؟

اردو نیوز  |  Aug 31, 2025

پاکستان کی وفاقی حکومت نے قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو مزید بااختیار بنانے کے لیے ادارے کو جائیداد ضبط یا منجمد کرنے کا اختیار بھی دے دیا ہے۔اس حوالے سے این سی سی آئی اے کے نئے رولز پر مبنی ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے تحت ایجنسی کو جائیداد منجمد کرنے یا ملکیت کی ضبطی سمیت انتظامی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ این سی سی آئی اے کن کیسز میں اور کس طریقۂ کار کے تحت ملزموں کی جائیداد ضبط یا منجمد کر سکتی ہے؟

وفاقی حکومت نے قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو نئے اختیارات تفویض کر دیے ہیں، جن کا باضابطہ نوٹیفیکیشن وزارتِ داخلہ نے جاری کیا ہے۔یہ اختیارات اور رولز ’این سی سی آئی اے رولز 2025‘ کے تحت پیکا ایکٹ میں شامل کیے گئے ہیں، جنہیں وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔اس سے قبل این سی سی آئی اے، ایف آئی اے سائبر کرائم کے لیے وضع کیے گئے رولز کے تحت کام کر رہی تھی، تاہم اب این سی سی آئی اے کے لیے الگ رولز مرتب کیے گئے ہیں۔ان قوانین کے تحت ایجنسی کو جائیداد منجمد یا بحال کرنے کا اختیار مل چکا ہے، البتہ اس کے لیے ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے کی منظوری لازمی ہوگی۔نیشنل سائبر کرائم کنٹرول ایجنسی کو آن لائن مالیاتی فراڈ سے متعلق ان کیسز میں جائیداد منجمد کرنے اور ضبط کرنے کی اجازت ہے جن میں مالیاتی فراڈ کی شکایات یا شواہد موجود ہوں۔علاوہ ازیں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق وارداتوں کے حوالے سے بھی این سی سی آئی اے کے نئے رولز بنائے گئے ہیں۔مزید برآں سائبر قوانین کے تحت پیسے کی منتقلی یا بین الاقوامی دھوکہ دہی کے واقعات میں بھی این سی سی آئی اے کو مزید بااختیار بنایا گیا ہے۔اب پاکستان سے باہر یا بین الاقوامی سرحد پار کرنے والے فنڈز یا سائبر کرائم نیٹ ورکس میں شامل جائیدادوں کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔تاہم یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ نئے رولز کے تحت این سی سی آئی اے کے لیے جائیداد منجمد یا ضبط کرنے کے لیے براہِ راست کورٹ کی پیشگی اجازت لازمی نہیں بلکہ یہ کام صرف ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے کی تحریری منظوری سے کیا جا سکے گا۔

ایجنسی کو ان کیسز میں جائیداد منجمد کرنے اور ضبط کرنے کی اجازت ہے جن میں مالیاتی فراڈ کی شکایات یا شواہد موجود ہوں (فائل فوٹو: پَکسابے) 

کن حالات میں جائیداد ضبط یا منجمد کی جا سکتی ہے؟قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ اگر کسی شخص یا گروہ نے آن لائن دھوکہ دہی کے ذریعے رقم حاصل کی ہو اور اس رقم سے جائیداد خریدی یا اس میں اضافہ کیا ہو تو وہ اُس جائیداد کو ضبط کر سکے گی۔علاوہ ازیں سائبر کرائم کے ذریعے حاصل شدہ پیسے سے جائیداد یا دیگر اثاثے بنانے میں بھی این سی سی آئی اے کو یہ اختیار حاصل ہے۔اسی طرح اگر کسی شخص نے بچوں کے استحصال سے حاصل شدہ آمدنی کو جائیداد میں لگایا ہو تو اس کیس میں بھی این سی سی آئی اے کو یہ اختیار حاصل ہوگا۔تحقیقاتـی ایجنسی کو تفویض کردہ رُولز کے مطابق بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورکس میں بھی اگر سائبر کرائم کے ذریعے بیرون ملک یا سرحد پار زمین حاصل کی گئی ہو تو یہ رُولز اس پر بھی لاگو ہوں گے۔اردو نیوز نے اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے پاکستان میں سائبر سکیورٹی کے ماہر اور ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر ونگ عمار جعفری سے رابطہ کیا۔اُنہوں نے بتایا کہ ’بنیادی طور پر این سی سی آئی اے کو جو اختیارات دیے گئے ہیں، وہ ماضی میں ایف آئی اے کے سائبر ونگ کے پاس بھی موجود تھے۔‘

بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق بھی این سی سی آئی اے کے نئے رولز بنائے گئے ہیں (فائل فوٹو: گیٹی)

’اب چونکہ ایف آئی اے کے پاس پہلے ہی بے شمار ذمہ داریاں ہیں، اس لیے سائبر کرائم سے متعلق تمام تر اختیارات اور ذمہ داریاں اب اس نئی ایجنسی کو منتقل کر دی گئی ہیں۔‘اس سوال کے جواب میں کہ کن ملزمان کی جائیداد ضبط یا منجمد ہو سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے خیال میں ایسے ملزم جو ایجنسی کے ساتھ تعاون نہ کریں اور اشتہاری ہو جائیں تو اُن کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے۔‘اسلام آباد میں مقیم سائبر سکیورٹی کے ماہر محمد اسد الرحمان، جنہیں سرکاری اداروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے، کا کہنا ہے کہ ’اس نوعیت کے اختیارات ایف آئی اے کے پاس بھی موجود تھے۔‘’تاہم جائیداد ضبط یا منجمد کرنے کے لیے متعلقہ اتھارٹی سے اجازت لینا ضروری ہوتا تھا۔ نئے رولز کے تحت این سی سی آئی اے کو اب یہ اقدام براہِ راست کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔‘ان کے مطابق ’پہلے جو سائبر کریمینلز فراڈ کے ذریعے اثاثے بناتے تھے، ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہو پاتی تھی، تاہم اس قانون کے تحت ایسے افراد قانون کی گرفت میں آسکیں گے۔‘’اگر اب ایسے افراد غیر قانونی جائیداد بنائیں گے تو انہیں علم ہوگا کہ این سی سی آئی اے یہ اثاثے ضبط کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ متاثرہ شہریوں کے مالی نقصانات کی ریکوری میں بھی یہ اختیارات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔‘تاہم محمد اسد الرحمان نے خبردار کیا کہ ’پاکستان میں قوانین کے غلط استعمال کے واقعات عام ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ این سی سی آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے یہ اختیارات صرف مکمل تحقیقات اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی استعمال کریں، اور انہیں سیاسی یا ذاتی انتقام کے لیے ہتھیار نہ بنایا جائے۔‘

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More