’کچھ نہیں بچا، سمجھ نہیں آ رہا کہاں جائیں‘، پنجاب میں سیلاب میں پھنسے خاندانوں کی دردناک داستانیں

اردو نیوز  |  Aug 29, 2025

پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی اور خاص طور پر اپر پنجاب میں سیالکوٹ ریجن میں جموں سے آنے والے برساتی نالوں نے تباہی مچا رکھی ہے۔

اگرچہ ان علاقوں میں پانی کا بہاؤ کم ہو رہا ہے لیکن یہ سیلاب اپنے پیچھے کئی دردناک داستانیں چھوڑ گیا ہے۔

ایسی ہی ایک درد بھری کہانی سمڑیال کے گاؤں ماجرہ کلاں میں ایک گھر کی ہے جہاں ایک ہی خاندان کے چھ افراد بچوں سمیت لوگوں کی نظروں کے سامنے سیلاب میں بہہ گئے۔

اس گاؤں کے ایک بزرگ حاجی شمشیر نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’عمران نامی 36 سالہ نوجوان ہمارے ساتھ والے گھر میں رہتا تھا۔ جب اچانک رات کو پانی آیا تو ان کو نکلتے ہوئے تھوڑی دیر ہو گئی۔ ہم لوگ بھاگ کر چھتوں پر چڑھ گئے ان کے ہاں سیڑھیاں نہیں تھیں تو گلی میں نکلے اور اپنے رشتہ داروں کی طرف بھاگے لیکن پانی اتنا آ گیا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے پانی میں بہہ گئے۔‘

ماجرہ کلاں میں اس وقت سوگ کا عالم ہے اور ریسکیو ٹیمیں ڈوب جانے والے افراد کو تلاش کر رہی ہیں۔ عمران اور ان کی اہلیہ اور دو بچوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ابھی بھی دو بچیوں کی تلاش جاری ہے۔

حاجی شمشیر بتاتے ہیں کہ ’یہ سب کچھ اتنا آناً فاناً ہوا کہ ہم سنبھل ہی نہ سکے۔ میں نے اپنے ہوش میں اس طرح کی صورت حال 1973 میں دیکھی جبکہ اس کے بعد 2025 میں۔ اس دفعہ فرق صرف یہ تھا کہ زیادہ اچانک اور تیز پانی تھا۔ گاؤں کی گلیوں میں چھ چھ فٹ کی لہریں تھیں۔ بس قیامت کا سماں تھا۔‘

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث پنجاب میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ اپر پنجاب میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو مالی نقصان بھی پہنچا۔

سمڑیال کے گاؤں ماجرہ کلاں کے ایک ہی خاندان کے چھ افراد سیلاب میں بہہ گئے (فوٹو: اے ایف پی)ظفروال کی ایک خاتون عزرہ بی بی نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا تین مرلے کا گھر پانی میں بہہ گیا۔

’میری بچی کا جہیز کا سامان تھا وہ سارے کا سارا پانی میں بہہ گیا۔ اس وقت میرے بچے گھر میں اکیلے تھے جب شور مچا کہ پانی آ رہا ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی کام پے تھے ہم گھر بھاگے لیکن ہم صرف اپنے بچوں کو ہی بچا سکے۔‘

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جب پانی نیچے گیا تو واپس جا کر دیکھا تو گھر پانی میں بہہ گیا تھا اور ساری زندگی کی محنت کی کمائی ختم ہو چکی تھی۔ ہم نے کُھلے آسمان کے تلے رات گزاری ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں جائیں۔‘

تحصیل ظفروال میں نالہ ڈیک نے تباہی مچائی اور کھڑی فصلوں کو بھی اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔

محمد علی کی نرمے کی 10 ایکڑ کی فصل تباہ ہو گئی، وہ بتاتے ہیں کہ ’کسی کا بھی کچھ نہیں بچا۔ میرا دس ایکڑ کا نرما تھا۔ سب ختم ہو گیا۔ ہم تو بجلی کے بل ہی بھر بھر کے ختم ہو گئے ہیں اب فصل ہوئی تو اسے پانی بہا کر لے گیا۔‘

ماجرہ کلاں میں اس وقت سوگ کا عالم ہے اور ریسکیو ٹیمیں ڈوب جانے والے افراد کو تلاش کر رہی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)انہوں نے کہا کہ ’لوگوں کی محنت ان کی آنکھوں کے سامنے ختم ہوئی۔ ایسی بے بسی تھی کہ آپ کو بتا نہیں سکتے۔ کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے لیکن ہمیں دُکھ اس بات کا بھی ہے کہ ہمیں حکومتی مشینری بھی حرکت میں نظر نہیں آئی۔ کچھ علاقوں کو صرف بند بہتر کر کے بچایا جا سکتا تھا۔‘

دوسری طرف پنجاب حکومت نے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو صوبے میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا ٹاسک دے دیا ہے۔

وزیراعلیٰ آفس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پنجاب کا خزانہ بھرا ہوا ہے اور وسائل کی کسی قسم کی کوئی قلت نہیں ہے۔ اس مشکل وقت میں حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ حکومت لوگوں کے نقصان کو پورا کرنے میں مدد کرے گی۔‘

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More