’گولڈن ڈوم‘: ٹرمپ کا 175 ارب ڈالرز کی لاگت سے دفاعی نظام بنانے کا اعلان جو ’خلا سے داغے گئے میزائل بھی روک سکے گا‘

بی بی سی اردو  |  May 21, 2025

Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے امریکہ کو جدید میزائلوں اور دیگر فضائی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے ’گولڈن ڈوم‘ میزائل ڈیفنس سسٹم کے ڈیزائن کی منظوری دے دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ جدید دفاعی نظام ان کے دورِ صدارت کے ختم ہونے سے پہلے ہی تیار ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ دوسری بار عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا جدید فضائی دفاعی نظام بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جس سے امریکہ کو بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت دیگر فضائی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر اس منصوبے کے لیے 25 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں جبکہ اس کی کل لاگت 175 ارب ڈالرز آئے گی تاہم سرکاری اندازاوں کے مطابق آنے والی دہائیوں میں اس کی لاگت بڑھ کر کہیں زیادہ ہو جائے گی۔

پینٹاگون حکام خبردار کرتے آئے ہیں کہ امریکہ کا موجودہ دفاعی نظام چین اور روس کے جدید میزائلوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

منگل کے روز اوول آفس میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دراصل یہاں کوئی اس طرز کا جامع سسٹم ہے ہی نہیں۔

’ہمارے پاس مخصوص میزائل ہیں، میزائلوں سے دفاع کر سکتے ہیں لیکن کوئی جامع نظام نہیں۔۔۔ ایسا کبھی بھی کچھ نہیں رہا۔‘

Getty Images

امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ امریکی سپیس فورس کے جنرل مائیکل گیوٹلین اس منصوبے کی نگرانی کریں گے۔ جنرل گیوٹلین سپیس فورس کے خلائی آپریشن کے وائس چیف ہیں۔

دوسری مرتبہ صدر بننے کے سات روز بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے وزارتِ دفاع کو ایک ایسا دفاعی نظام کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا جو امریکہ کو لاحق ’سب سے زیادہ تباہ کن‘ فضائی خطرات سے نمٹنے کے قابل ہو۔

منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ نظام زمین، سمندر اور خلا میں جدید ترین ٹیکنالوجیز پر مشتمل ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت خلا میں سینسرز اور انٹرسیپٹرز بھی لگائے جائں گے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کینیڈا بھی اس منصوبے کا حصہ بننا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال کے اوائل میں امریکہ کے دورے پر آئے اس وقت کے کینیڈا کے وزیرِ دفاع بلی بلیئر نے بھی گولڈن ڈوم منصوبے میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ کینیڈا کے ’قومی مفاد‘ میں ہے۔

آئرن ڈوم اور دیگر اسرائیلی دفاعی نظام کیا ہیں اور وہ کیسے کام کرتے ہیں؟دفاعی ساز و سامان خریدنے پر اصرار اور تجارتی تعلقات میں برابری، ٹرمپ انتظامیہ انڈیا سے کیا چاہتی ہے؟’اسرائیل کے دفاع‘ کے لیے بھیجا جانے والا امریکی تھاڈ میزائل ڈیفینس سسٹم کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟پاکستانی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کا سلسلہ جاری: جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گولڈن ڈوم منصوبہ ’دنیا کے دوسرے کونے یا خلا سے لانچ کیے جانے والے میزائل کو بھی روک سکے گا۔‘

یہ منصوبہ اسرائیل کے آئرن ڈوم منصوبے سے متاثر ہے جسے اسرائیل سنہ 2011 سے راکٹوں اور میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کرتا آیا ہے۔

تاہم ’گولڈن ڈوم‘ اسرائیل کے آئرن ڈوم سے کئی گنا بہتر اور بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے بنایا جائے گا۔ یہ نظام آواز کی رفتار سے تیز ہائپرسونک میزائلوں اور خلا سے بمباری کرنے والے نظام سے بھی تحفظ فراہم کر سکے گا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس نظام کی کامیابی کی شرح تقریباً 100 فیصد ہے۔

اس سے قبل امریکی حکام کہہ چکے ہیں کہ گولڈن ڈوم کی مدد سے امریکہ میزائلوں کو فضا میں یا لانچ سے پہلے ہی روک پائے گا۔

امریکی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کے بیشتر پہلو ایک مرکزی کمانڈ کے تحت ہوں گے۔

اسرائیل کا آئرن ڈوم کیا ہے؟

آئرن ڈوم وہ فضائی دفاعی نظام ہے جس کا دنیا میں جنگ کے ماحول میں سب سے زیادہ تجربہ ہے اور اس کی وجہ حالیہ برسوں میں حماس اور غزہ سے دیگر عسکریت پسند گروپوں اور لبنان سے حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر داغے گئے میزائل ہیں۔

اسرائیل بھر میں آئرن ڈوم بیٹریاں نصب کی گئی ہیں۔ ایسی ہر بیٹری میں تین یا چار لانچرز ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک میں 20 میزائل ہوتے ہیں۔

آئرن ڈوم ریڈار کی مدد سے حملہ آور راکٹوں کی نشاندہی کرتا ہے اور حساب لگاتا ہے کہ ان میں سے کون سے آبادی والے علاقوں پر گرنے کے امکانات ہیں۔ پھر یہ نظام صرف انھی راکٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل داغتا ہے جبکہ باقی راکٹوں کو کھلے غیرآباد علاقوں میں گرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

BBC

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ آئرن ڈوم اب تک 90 فیصد حملہ آور راکٹوں کو تباہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس پر نصب ’تامیر‘ میزائلوں میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 50 ہزار ڈالر ہے۔

اسے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2006 کی جنگ کے بعد تیار کیا گیا تھا، جب حزب اللہ نے اسرائیل پر تقریباً چار ہزار راکٹ فائر کیے تھے، جس سے بہت زیادہ نقصان ہوا تھا اور درجنوں شہری مارے گئے تھے۔

امریکی تعاون کے نتیجے میں اسرائیلی کمپنیوں رفائل ایڈوانسڈ ڈیفینس سسٹمز اور اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز کا ڈیزائن کیا گیا یہ نظام 2011 سے کام کر رہا ہے اور اسی برس یہ لڑائی میں پہلی مرتبہ استعمال ہوا جب اس کی مدد سے غزہ سے داغے گئے ایک راکٹ کو روکا گیا۔

اکتوبر 2023 سے آئرن ڈوم میزائلوں نے غزہ سے حماس اور دیگر عسکریت پسند گروپوں اور جنوبی لبنان سے حزب اللہ کی طرف سے فائر کیے گئے ہزاروں راکٹوں کو روکا ہے۔

کیا انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ تنازع میں اصل فاتح چین ثابت ہوا؟’ٹاور 22‘، فضائی اڈے اور بحری بیڑے: امریکی افواج مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کیوں موجود ہیں؟اسرائیل اور ایران میں سے عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور کون ہے؟’400 سیکنڈ میں تل ابیب‘: عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے ’اسرائیل تک پہنچنے والے‘ ہائپرسونک میزائل کیسے بنائے؟روس کے سوخوئی 35 لڑاکا طیارے جو ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں مشکل بنا سکتے ہیںدفاعی نظام کو چکمہ دینے اور ٹینکوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے یوکرینی میزائل اور جدید ڈرونز نے کیسے مقبولیت حاصل کی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More