پاکستان میں ایران کے سفارت خانے نے صوبہ سیستان میں آٹھ پاکستانیوں کے بہیمانہ قتل کی مذمت کی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا ہے۔اتوار کو ایرانی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کا سفارت خانہ ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں 8 پاکستانی شہریوں کے خلاف غیر انسانی اور بزدلانہ مسلح واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تمام شکلوں کے خاتمے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اجتماعی اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔‘
ایرانی سفارت خانے نے ’دہشت گردی‘ کو پورے خطے کے لیے ایک مشترکہ خطرہ قرار دیا۔ بیان کے مطابق دہشت گردی اور انتہاپسندی نے حالیہ دہائیوں میں ہزاروں بے گناہ افراد کی جانیں لی ہیں۔‘سفارت خانے کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے ذریعے ’غدار عناصر، بین الاقوامی دہشت گردی کے ساتھ مل کر پورے خطے میں سلامتی اور استحکام کو نشانہ بناتے ہیں۔‘
مقامی میڈیا کے مطابق ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان میں سنیچر کو مبینہ طور پر آٹھ پاکستانی شہریوں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایران کے صوبہ سیستان کے علاقے مہرستان میں آٹھ پاکستانیوں کے بہیمانہ قتل پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔سنیچر کی رات کو وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایرانی سرزمین پر پاکستانیوں کے قتل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کا ناسور خطے میں موجود تمام مالک کے لیے تباہ کن ہے۔ خطے میں موجود ممالک کو مل کر دہشت گردی کے خلاف مربوط حکمت عملی پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔‘انہوں نے کہا کہ ’ایرانی حکومت ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرنے کے بعد سزا دے اور اس بہیمانہ اقدام کی وجوہات عوام کے سامنے لائے۔‘