’پشتو سٹینڈ اپ کامیڈی کے موجد‘، میراوس طویل علالت کے بعد چل بسے

اردو نیوز  |  Apr 04, 2025

صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے کئی فنکاروں نے اداکاری کے شعبے میں اپنا مقام بنایا مگر فنون لطیفہ کی دنیا میں صرف چند ہی فنکاروں کا سکہ چلا۔ انہی میں سے ایک مزاحیہ فنکار حیات خان تھے جو میراوس کے نام سے مقبول ہوئے۔ تاہم یہ مشہور فنکار جمعرات کو طویل علالت کے بعد چل بسے۔

میراوس کا تعلق ضلع چارسدہ کے تحصیل تنگی کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھا۔ انہوں نے سنہ 1980 سے ریڈیو پاکستان پشاور سے سفر کا آغاز کیا اور کچھ ہی عرصے میں پشتو مزاح، پیروڈی، لطیفہ گوئی میں اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد میں وہ سنہ 1982 میں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔

میراوس نے پہلی بار سٹینڈ اپ کامیڈی متعارف کرائی اور پی ٹی وی کے لیے 200 سے زائد کامیڈی شو ریکارڈ کرائے، جو اس دور میں سوپر ہٹ رہے۔ انہوں نے مزاحیہ خاکوں کے 800 ریڈیو کیسٹس بھی ریکارڈ کیے تھے جو بچوں، بڑوں اور خواتین میں یکساں مقبول ہوئے۔

وہ اپنی مزاحیہ شاعری کے لیے بھی مشہور تھے، اور کامیڈی کے دوران موقع محل پر برجستگی سے شاعری کرنےمیں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ان کے کہے ہوئے مزاحیہ پشتو ڈائیلاگز نے تین دہائیوں تک حکمرانی کی جو آج بھی ان کے مداحوں کو یاد ہیں۔

میرواس کو ان کی فنی خدمات کی بدولت پرائڈ اف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا تھا۔

میراوس ایک اصلاح پسند مزاحیہ فنکارصوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے معروف کامیڈین سیدالرحمان شینو نے میرواس کے انتقال کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے طنز و مزاح کی دنیا میں اپنے مخصوص انداز کی بدولت پشتون قوم کے دلوں پر راج کیا۔ میراوس کی مزاحیہ گفتگو میں اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا، اسی لیے مرد و خواتین ان کی کامیڈی کو پسند کرتے تھے۔

پشتو انڈسٹری کے سینیئر اداکار پروفیسر ڈاکٹر جمیل چترالی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’میراوس ایک شخصیت نہیں بلکہ پشتون کلچر میں ایک عہد کا نام ہے، جس نے سٹیج کلچر کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ سٹیج کامیڈی میں میراوس کو پشتونوں میں وہی مقام حاصل ہے جو کراچی کے عوام میں عمر شریف کو حاصل ہے۔ وہ جملہ بازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ان کے ڈائیلاگ میں ہمیشہ سماجی برائی کی نشاندہی کی گئی اور ایسے مفرد انداز سے کی گئی کہ برسوں لوگوں کو یاد رہے۔

میراوس نے پہلی بار سٹینڈ اپ کامیڈی متعارف کرائی اور پی ٹی وی کے لیے 200 سے زائد کامیڈی شو ریکارڈ کرائے۔ (فائل فوٹو: سکرین گریب)ڈاکٹر جمیل چترالی کا کہنا تھا کہ ’میرواس بیماری کی حالت میں ہنستے مسکراتے رہتا تھے، ان کی عیادت کے لیے ہسپتال گئے تو حسب عادت مزاحیہ انداز میں گفتگو کی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ میرواس کے جانے سے پشتون مزاح کا ایک عہد تمام ہوا۔

’وہ آخری ایام میں بہت تکلیف میں تھے‘معروف کامیڈین میرواس گذشتہ دو برسوں سے بیمار تھے۔ شوگر کی وجہ سے ان کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی تھی جبکہ آخری ایک برس میں عارضہ قلب سمیت دیگر بیماریوں نےان کو جکڑ لیا تھا۔ ان کے علاج معالجے کے لیے صوبائی حکومت نے بھی امداد تھی۔

بیماری اور غربت کی وجہ سے میرواس گُم سُم رہنے لگے تھے۔ ان کے بیٹے یسین خان کا کہنا تھا وہ آخری ایام میں بہت تکلیف میں تھے۔

’میرے والد کے مداح ان سے ملنے کے لیے کراچی اور افغانستان سے چارسدہ آتے تھے مگر انہوں نے کبھی کسی ملنے سے انکار نہیں کیا۔ میراوس کی شہرت کی وجہ سے تنگی گاؤں میرواس کلے کے نام سے مشہور تھا۔‘

یسین خان کے مطابق ان کے والد کو منگل کی رات کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا تاہم وہ جمعرات کے روز سہ پہر کو انتقال کر گئے۔

معروف کامیڈین میرواس گذشتہ دو برسوں سے بیمار تھے۔ (فائل فوٹو: سکرین گریب)وزیراعلٰی اور گورنر کا اظہار افسوسپشتو کے معروف کامیڈین کے انتقال پر وزیراعلٰی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ مرحوم میراوس اپنے فن کی وجہ سے ایک پسندیدہ عوامی فنکار تھے، فن کے شعبے میں مرحوم کے کام کو عرصہ دراز تک یاد رکھا جائے گا۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور مشیر ثقافت زاہد چن زیب نے میراوس کے وفات پر افسوس کا اظہار کیا اور پشتو ثقافت کے لیے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More