نتن یاہو نے اسرائیل کی سکیورٹی سروس کے سربراہ کو کیوں برطرف کیا؟

بی بی سی اردو  |  Mar 17, 2025

Reutersاسرائیل کی داخلی سکیورٹی کی ایجنسی شین بیت کے سربراہ رونن بار

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کی جانب سے اسرائیل کی داخلی سکیورٹی کی ایجنسی شین بیت کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کے فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور بعض لوگوں کی جانب سے تو اسرائیلی وزیر اعظم کے اس فیصلے کو حیران کُن اور ’بے مثال‘ قرار دیا گیا ہے۔

نتن یاہو نے اپنے ایک ریکارڈ ویڈیو بیان میں رونن بار کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کی وجہ اعتماد کے فقدان کو قرار دیا۔

اس فیصلے کے جواب میں شین بیٹ کے سربراہ رونن بار نے کہا کہ ’وزیراعظم کی ذاتی وفاداریاں شین بیٹ قانون اور مفاد عامہ کے منافی ہیں۔‘ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایجنسی کی تحقیقات میں 7 اکتوبر کو اندرونی ناکامیوں کا انکشاف ہوا، لیکن تحقیقات میں حکومت اور وزیر اعظم کی پالیسیوں میں مسائل کا بھی انکشاف ہوا۔‘

اٹارنی جنرل گالی بہارو میارا نے وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ ’شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کی کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس سے قبل آپ کے فیصلے کے حوالے سے پیش کیے جانے والے حقائق اور قانونی بنیادوں اور جواز کا مکمل جائزہ لیا جانا ضروری ہے، نیز اس وقت اس طرح کے فیصلے سے مفادات کے ٹکراؤ کا خدشہ ہے۔

اسرائیلی حزب اختلاف نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی داخلی سکیورٹی کی ایجنسی شین بیت اس وقت وزیراعظم نتن یاہو اور قطریوں کے درمیان مالی معاملات سے متعلق ایک اہم نوعیت کی تحقیقات کر رہی ہے۔

نیتن یاہو کے اس فیصلے سے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو دھچکا پہنچا ہے

شین بیٹ کے سابق سربراہ یاکوف پیری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شین بیٹ کے موجودہ سربراہ رونن بار کی برطرفی سکیورٹی سروس کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔‘ انھوں نے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کی جانب سے بار کے خلاف لگائے گئے الزامات کو ’غلط‘ اور ’بے بُنیاد‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ایجنسی کے اندر ایک ایماندار اور انتہائی قابلِ قدر شخص ہیں۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پیری نے وضاحت کی کہ ’اسرائیل کے دشمن‘ اسرائیل کی داخلی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ’وزیر اعظم اور شین بیٹ کے سربراہ کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی انھیں افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملے کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔‘

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت اور جنرل سکیورٹی سروس کے درمیان یہ خلا قومی سلامتی کے لئے حقیقی خطرہ بن سکتا ہے۔

25 سال تک سکیورٹی سروس کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے پیری نے ان اقدامات کی وجہ سے اسرائیل میں عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’شین بیٹ کے سربراہ کی برطرفی سکیورٹی سروس کے استحکام اور مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔‘

آئل زمیر: نیتن یاہو کے سابق ملٹری سیکریٹری اور ’سخت گیر فوجی‘، اسرائیل کے نئے آرمی چیف کون ہیں؟نو کلومیٹر طویل ’نئی عسکری سرحد کی تعمیر‘: سیٹلائٹ تصاویر غزہ کی پٹی کے شمال میں نئی یہودی بستیوں کے قیام کا عندیہ ہیں؟اسرائیل عرب جنگ کا ’ہیرو‘ موشے دایان جس نے انڈیا کا خفیہ دورہ کیابرطانیہ اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک کا نتن یاہو کی گرفتاری کا عندیہ، اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری ہونے کا کیا مطلب ہے؟’شین بیٹ کے سربراہ برطرف کیے جانے کے ہی مستحق ہیں‘

اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار میر کوہن نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ بار کی برطرفی 7 اکتوبر کے حملے سے نمٹنے میں شین بیٹ کی ناکامی کے بعد کی گئی ہے۔ کوہن نے اس واقعے کی روشنی میں بار کی برطرفی کو ضروری قرار دیا۔

کوہن نے وضاحت کی کہ بار کی برطرفی کا تعلق شین بیٹ کی سیاست سے نہیں تھا بلکہ قومی سلامتی کے مفادات کے حصول اور اسرائیلی عوام کے تحفظ سے تھا۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم شین بیٹ کے سربراہ کی تقرری اور برطرفی کے ذمہ دار ہیں جس کا مطلب ہے کہ بار کی برطرفی اسی دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

برطرفی کے فیصلے کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے امکان کے بارے میں کوہن نے کہا کہ ’عوامی احتجاج میں اضافہ ہوسکتا ہے خاص طور پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگ باہر نکلیں گے لیکن یہ کہ وہ جنرل سکیورٹی سروس کے مقابلے میں حکومت کی تبدیلی سے زیادہ قریبی طور پر منسلک ہوسکتے ہیں۔

Reutersکیا اسرائیلی وزیر اعظم سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کو برطرف کر سکتے ہیں؟

اسرائیلی قانونی ماہر مائیکل اسفرڈ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شین بیٹ کے سربراہ کو برطرف کرنے کے قانونی پہلوؤں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی صرف ذاتی یا سیاسی وجوہات کی بنا پر نہیں کی گئی۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ شین بیٹ کے سربراہ نہ صرف وزیر اعظم بلکہ مجموعی طور پر ریاست اور معاشرے کی خدمت کرتے ہیں لہذا انھیں صرف واضح پیشہ ورانہ اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہی برطرف کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ وزیر اعظم کے پاس شین بیٹ کے سربراہ کو برطرف کرنے کا اختیار ہے لیکن کچھ معاملات میں کنیسیٹ یا سلامتی کونسل جیسے اداروں کی منظوری کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی عدلیہ برطرفی کے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتی ہے اگر اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے تو۔

نتن یاہو کے فیصلے کے حق میں حکومتی ووٹ کے نفاذ کی توقع ہے لیکن یہ اس بات سے مشروط ہے کہ اٹارنی جنرل اس پر اعتراض نہ کریں۔

اگر اس فیصلے کے خلاف عدالت میں درخواستیں دائر کی جاتی ہیں تو سپریم کورٹ کو بھی اس کیس پر فیصلہ سنانے کا حق حاصل ہے اور اس کا فیصلہ اسرائیل میں کنیسیٹ یا حکومت سے بھی زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے۔

برطانیہ اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک کا نتن یاہو کی گرفتاری کا عندیہ، اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری ہونے کا کیا مطلب ہے؟آئل زمیر: نیتن یاہو کے سابق ملٹری سیکریٹری اور ’سخت گیر فوجی‘، اسرائیل کے نئے آرمی چیف کون ہیں؟نو کلومیٹر طویل ’نئی عسکری سرحد کی تعمیر‘: سیٹلائٹ تصاویر غزہ کی پٹی کے شمال میں نئی یہودی بستیوں کے قیام کا عندیہ ہیں؟اسرائیل عرب جنگ کا ’ہیرو‘ موشے دایان جس نے انڈیا کا خفیہ دورہ کیامتنازع نقشے پر سعودی عرب، فلسطین اور عرب لیگ کی مذمت: ’گریٹر اسرائیل‘ کا تصور صرف ’شدت پسندوں کا خواب‘ یا کوئی ٹھوس منصوبہاسرائیل کا قیام کیسے اور کیوں عمل میں آیا اور غزہ کے ساتھ اِس کے تنازع کی تاریخ کیا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More