جعفر ایکسپریس حملہ: کیا بلوچستان میں شدت پسندوں کی کارروائیاں روکنے کے لیے حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟

بی بی سی اردو  |  Mar 13, 2025

Getty Images

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس کی بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے) کی جانب سے ہائی جیکنگ کے واقعے کے بعد سے حکومتی سطح پر جاری ہونے والے بیانات سے واضح ہو رہا ہے کہ ریاست آنے والے دنوں میں اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کر سکتی ہے۔

کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ کے باعث صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حکمتِ عملی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

حملے کے ایک روز بعد پاکستانی فوج کے ترجمان، وزیرِ اعظم، ان کے وزرا اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے بیانات خاصے جارحانہ تھے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بدھ کی رات نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی کہ وہ پاکستان کے معصوم شہریوں کو سڑکوں پر، ٹرینوں میں بسوں میں یا بازاروں میں اپنے گمراہ کن نظریات اور اپنے بیرونی آقاؤں کی ایما پر اور سہولت کاری کے ذریعے معصوم لوگوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس کا یہ واقعہ ’رولز آف دی گیم‘ کو تبدیل کر دے گا۔

ادھر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پورے پاکستان کو دہشت گردی کے معاملے پر کنفیوز کیا ہے، وہ آپ کو مار رہے ہیں، آپ جرگہ کرنے کی بات کر رہے ہیں جو ریاست کو توڑنے کی بات کرے گا، بندوق اٹھائے گا ریاست اس کا قلع قمع کرے گی۔‘

جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد وزیرِ اعظم جمعرات کو کوئٹہ بھی جائیں گے اور وہاں پر وہ حکمتِ عملی کا اعلان بھی کریں گے۔

اس سب کے درمیان بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ اختر مینگل کے بیان پر بھی بدھ کو خاصی بات ہوئی۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’بلوچستان کا کوئی ایسا علاقہ باقی نہیں جہاں حکومت یہ دعویٰ کر سکے کہ اُس کا کنٹرول ہے۔‘

’ہم نے خبردار کیا تھا، ہم سے پہلے والوں نے بھی خبردار کیا تھا مگر اُن باتوں کو سنجیدہ لینے کی بجائے لوگوں کا نہ صرف مذاق اڑایا گیا بلکہ لوٹ مار اور قتل عام کا بازار گرم کیا گیا۔‘

ان کا یہ بیان پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ایک عرصے سے جاری شورش اور قوم پرست علحیدگی پسند تنظیموں کی ریاستی اداروں کے خلاف شدت پسند کارروائیوں کی شدت کو بیان کرتا ہے۔

ویسے تو بلوچستان میں عسکریت پسندی کی ابتدا بلوچستان کے پاکستان کے الحاق کے ساتھ ہی ہو گئی تھی جب ریاستِ قلات کے پرنس کریم نے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔

اس کے بعد 1960 کی دہائی میں جب نوروز خان اور ان کے بیٹوں کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت بھی صوبے میں ایک چھوٹی عسکریت پسند تحریک اٹھی تھی۔

بلوچستان میں منظم اور ایک فلسفے کے تحت عسکریت پسندی کا آغاز 1970 کی دہائی میں ہوا جب بلوچستان کی پہلی منتخب اسمبلی اور حکومت کو معطل کیا گیا تھا۔

اس وقت سردار عطااللہ مینگل ہی صوبے کے وزیر اعلیٰ اور میر غوث بخش بزنجو گورنر تھے جن کا تعلق نیشنل عوامی پارٹی سے تھا۔

Getty Imagesبلوچستان میں بدامنی کے واقعات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی

حالیہ کچھ عرصے کے دوران صوبے میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اگر صوبائی محمکہ داخلہ کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو سنہ 2024 میں بلوچستان میں حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے مجموعی 548 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 245 حملے صرف سکیورٹی فورسز پر ہوئے ہیں۔

جنوری 2024 سے 16 دسمبر تک کے اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر 125 سکیورٹی اہلکار مارے گئے جبکہ 283 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے اور زخمی ہونے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق وفاقی سکیورٹی فورسز سے تھا۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے وسیع و عریض بالخصوص دور دراز کے علاقوں میں وفاق کے ماتحت فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ برس کے دوران بلوچستان میں ایف سی پر حملوں کے مجموعی طور پر 135 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 55 اہلکار مارے گئے جبکہ 168 زخمی ہوئے۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر سب سے زیادہ حملے بلوچ آبادی والے علاقوں میں ہوئے، جن میں مکران ڈویژن کے تین اضلاع کیچ، پنجگور اور گوادر کے علاوہ آواران، قلات، مستونگ، خاران، ضلع کچھی میں درہ بولان، نوشکی، کوہلو اور خضدار کے علاقے شامل ہیں۔ کوئٹہ کے علاوہ پشتون آبادی والے علاقے ہرنائی اور دُکی میں بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

بلوچستان کے بلوچ اکثریتی علاقوں میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی، کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ اور مختلف عسکری تنظیموں کے اتحاد براس یعنی بلوچ راجی آجوئی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں کے چند واقعات پشتون آبادی والے علاقوں میں ژوب، قلعہ عبداللہ اور پشین میں ہوتے رہے ہیں۔ ان حملوں کے ساتھ ساتھ کوئٹہ شہر میں بعض واقعات کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

اس تمام صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں میں شدت کیوں آئی ہے اور سکیورٹی اداروں کی موجودہ حکمت عملی ان حملوں کو روکنے میں کارگر ثابت کیوں نہیں ہو رہی اور انھیں کیا چیلنجز درپیش ہیں؟

Getty Imagesشدت پسند کارروائیوں میں اضافہ کیوں ہوا؟

سابق وزیرِ اعلیٰ اختر مینگل سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی آج کا واقعہ نہیں بلکہ ’یہ وہ لاوا ہے جو 70، 72 سال سے پک رہا تھا۔‘

’یہ تو ایک ٹرین ہائی جیک کی گئی جس کے بارے میں بات ہو رہی ہے لیکن بلوچستان کے لوگوں کو 72 سال سے یرغمال کر کے رکھا ہوا ہے، ان کے سیاسی، معاشی اور انسانی حقوق کو ہائی جیک کیا گیا، آج کی صورتحال اس کا نتیجہ ہے۔‘

پاکستان میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کے ماہر عامر رانا کہتے ہیں کہ ’صوبے میں شدت پسندی ایک اور انتہا کو پہنچ چکی ہے اور حکومت نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حکمت عملی اس کو روکنے یا دبانے میں غیر مؤثر ثابت ہو رہی۔‘

’اس کی سب سے بڑی وجہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلہ اور اعتماد کی فضا نہ ہونا ہے۔‘

تجزیہ کار امتیاز گل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی بنیادی وجوہات بلوچ عوام کے بنیادی مطالبات کی شنوائی نہ ہونا ہے۔ ان مطالبات میں معاشی و سماجی ترقی کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا مسئلہ صوبے میں بلوچ افراد کی جبری گمشدگیاں ہیں۔‘

انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی ایک اور بڑی وجہ صوبے میں جاری پراکسی وار ہے جس میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد براس شامل ہیں۔

’اس صورتحال میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت اور غیر ملکی ایما پر پاکستان اور چین کے مفادات کو ضرب لگانے اور چین کے خلاف ایک محاز کھڑا کیا گیا ہے۔‘

اس بارے میں بات کرتے ہوئے میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر جعفر ایکسپریس جیسے حملے کی بات کریں تو یہ کسی ایک گروہ کے لیے ممکن نہیں بلکہ اس میں پاکستان مخالف قوتوں کی معاونت شامل ہوتی ہے جو انٹیلجنس سمیت اسلحہ وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس طرح کی کارروائیوں میں شدت کا ایک اور عنصر چین کی صوبے میں سرمایہ کاری ہے اور جو ممالک سی پیک سمیت پاکستان اور چین کی دوستی سے خائف ہیں وہ اس میں ملوث ہیں۔‘

Getty Imagesقانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلوچستان میں کیا چیلنجز درپیش ہیں؟

امتیاز گل اس بارے میں کہتے ہیں کہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کو بلوچستان میں مختلف طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سیاسی اور آپریشنل نوعیت کے چیلنجز شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر حکومت کی بات کریں تو سیاسی طور پر بلوچستان میں کرپشن ایک بہت بڑا چیلنج ہے اس مسئلہ کے وجہ سے صوبے میں تعمیر و ترقی متاثر رہی اور معاشرے میں محرومیوں نے جنم لیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’دہائیوں سے صوبے کو اربوں کے فنڈ ملنے کے باوجود وہاں تعیمر و ترقی نہ ہونے کے برابر ہے اور بلوچستان کے عوام نے اس پر ہمت ہار کر اسے تقدیر کا لکھا مان لیا ہے۔‘

’ان چیزوں کا فائدہ اٹھا کر یہ شدت پسند تنظیمیں پڑھے لکھے نوجوانوں کی ذہن سازی کرتی ہیں اور انھیں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر اکساتی ہیں۔ اور وہ یہ جواز بھی پیش کرتی ہیں کہ وہ یہ سب کچھ ایک آزاد بلوچستان کے لیے کر رہے ہیں۔‘

عامر رانا کے مطابق ’ریاست یا سکیورٹی اداروں کی حکمت عملی کارگر ثابت نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شدت پسندی روکنے میں سیاسی عنصر کی کمی ہے۔

’ریاست نے صرف عسکری آپشن اور جبر اور طاقت کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ریاستی اداروں کو سب سے بڑا چیلنج انٹیلجنس کا ہے اور انٹیلجنس آتی ہے عوامی اعتماد کے ساتھ اور عوامی اعتماد آتا ہے مذاکرات یا ڈائیلاگ کے ساتھ۔‘

اس بارے میں بات کرتے ہوئے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ’اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بلوچستان ایک وسیع علاقہ، یہ ایک قبیلہ نہیں ہے جسے آپ کنٹرول کر لیں گے۔‘

’دوسرا بلوچستان کے نوجوانوں نے ریاستی مظالم اپنی آنکھوں سے دیکھے اور سہے ہیں اور یہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں۔ نفرت کا انبار جو حکومت نے اپنے رویے اور ہتھکنڈوں سے کھڑا کیا، وہ آج پورے بلوچستان میں پھیل چکا ہے۔‘

کیا بلوچستان میں حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے؟

امتیاز گل کہتے ہیں کہ بلوچستان میں وسیع پیمانے پر آپریشن بہت مشکل ہو گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ریاست کو یہاں جبر یا طاقت کی حکمت عملی بدل کر قانون کی بالا دستی کا نظام، صوبے میں تعمیر و ترقی اور عملی طور پر بلوچ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنا ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ریاست کو یہاں کے نوجوان کو قومی دھارے میں واپس لانے کے لیے اسے کچھ فائدے، مراعات اور سہولیات دینا ہو گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد حاصل کرنا سب سے اہم اور سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ’ایسا لگتا ہے عوام کے ریاستی اداروں پر اعتماد میں فقدان کے باعث وہ ان تنظیموں کے خوف اور کبھی کبھار نظریاتی حمایت کے باعث چپ بیٹھ جاتے ہیں اور ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دیتے۔ ریاست کو عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہو گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ بلوچ عوام کے ترقی کے لیے چھوٹے چھوٹے عسکری نہیں بلکہ عملی آپریشن کرنا ہوں گے، جس میں قانون کی پاسداری، صوبے میں کرپشن کا خاتمہ، سیاسی نمائندگی سمیت دیگرعوامل شامل ہیں۔

ممکنہ آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے عامر رانا کا کہنا تھا کہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا اور اس کا فیصلہ سکیورٹی اداروں نے ہی کرنا ہے۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ ’نیا فوجی آپریشن شروع کرنے سے پہلے یہ تو بتائیں کے مشرف دور میں شروع ہونے والا فوجی آپریشن ختم کب ہوا تھا؟ اس کا کیا نتیجہ نکلا اور وہ اب بھی کیوں جا ری ہے؟‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایوب دور میں جب آپریشن ہوا تو یحییٰ خان نے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے مذاکرات کیے تھے، بھٹو دور میں آپریشن کے بعد ضیا الحق نے اسے ختم کر کے مذاکرات کیے تھے، لیکن مشرف دور کے بعد ایسا نہیں ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر نئے فوجی آپریشن کی بات ہوئی تو معاملات اس حد تک بگڑ جائیں گے کہ پھر واپسی کا کوئی راستہ ہی نہ رہے۔‘

میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان کا آپریشن کی آپشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سب سے پہلے سیاسی آپشن کا استعمال کرنا ہو گا، مقامی مشاران کو اس مرحلے میں شامل کرنا ہو گا، پھر صوبائی اسمبلی میں بیٹھ کر فیصلہ کرے اور پھر فیڈرل حکومت بتائے، پھر اگر وہ دونوں اپنے ہاتھ اٹھا دیں تو فوجی آپشن بھی ممکن ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر چند ہزار لوگ ایک صوبے کا امن خراب کر رہے ہیں تو ان کے خلاف آپریشن بھی ہو سکتا ہے اور دوسرے آپشن بھی ایکسرائز ہو سکتے ہیں۔‘

فوج کا 33 شدت پسندوں کی ہلاکت، 300 مغویوں کی بازیابی کا دعویٰ: ’جعفر ایکسپریس کے واقعے کے بعد رولز آف دی گیم تبدیل ہو گئے ہیں‘جعفر ایکسپریس پر حملہ کیسے ہوا؟ شدت پسندوں سے لڑنے والے پولیس اہلکار کے مغوی بننے سے فرار تک کی کہانیجعفر ایکسپریس حملے پر حکام معلومات دینے سے گریزاں: ’ایسا کرنے سے خلا پیدا ہوتا ہے اور پروپیگنڈا پھیلتا ہے‘جعفر ایکسپریس کے مسافروں نے کیا دیکھا؟: ’ان کے لیڈر نے کہا سکیورٹی اہلکاروں پر خصوصی نظر رکھو، یہ ہاتھ سے نکلنے نہیں چاہییں‘بلوچستان میں شدت پسندوں کا ٹرین پر حملہ: بی ایل اے کیا ہے اور اس کی قیادت سرداروں سے متوسط طبقے تک کیسے پہنچی؟کیا بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More