رمضان میں زکوٰۃ سے متعلق اکثر لوگ مختلف سوال کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک عام سوال یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ اگر کسی خاتون کے پاس 10 سے 11 لاکھ روپے مالیت کے سونے اور چاندی کے زیورات ہوں، جو وہ مختلف مواقع پر استعمال کرتی ہیں، تو ان کے متعلق زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟
جنگ نیوز میں شائع آرٹیکل کے مطابق ان زیورات پر زکوٰۃ واجب ہے۔ سونے اور چاندی کے زیورات، چاہے استعمال میں ہوں یا نہ ہوں، اگر نصاب کے برابر ہوں تو ان پر زکوٰۃ فرض ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ ان زیورات کی مالک بنیں، تو اس دن کی قمری تاریخ یاد رکھیں اور ایک سال مکمل ہونے پر، اسی قمری تاریخ کو، ان زیورات کی مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ ادا کریں۔
اگر یہ خاتون پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں اور رمضان المبارک میں زکوٰۃ ادا کرتی ہیں، تو انہیں اپنے موجودہ اموال کے ساتھ، رمضان سے 7 ماہ قبل خریدے گئے زیورات کی بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ تاہم، اگر وہ پہلے صاحبِ نصاب نہیں تھیں اور ان زیورات کی خریداری سے صاحبِ نصاب بنی ہیں، تو ان زیورات پر سال گزرنے کے بعد ہی زکوٰۃ واجب ہوگی، چاہے رمضان المبارک 7 ماہ بعد ہی کیوں نہ آئے۔ اس صورت میں، پورا سال گزرنے پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔