چیمپئنز ٹرافی: انڈیا آسٹریلیا کو آؤٹ کلاس کر کے فائنل بھی دبئی لے گیا: عامر خاکوانی کا تجزیہ

اردو نیوز  |  Mar 05, 2025

پاکستان کے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 سے آوٹ ہونے کے بعد بیشتر پاکستانی شائقین نے کرکٹ کے حوالے سے ایک غیر جانبدارانہ معتدل سا نقطہ نظر اپنا لیا ہے۔ ’جو بھی ٹیم اچھا کھیلے، وہ جیت جائے‘ یہ وہ فقرہ ہے جو ہر طرف سنائی دیتا ہے۔منگل کی شام حقیقت یہ ہے کہ جو ٹیم اچھا کھیلی وہی جیتی اور آج پہلے سیمی فائنل میں وہ ٹیم انڈیا تھی جس نے آسٹریلیا سے بہتر بولنگ، بہتر فیلڈنگ اور بہتر بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، جس کے تجربہ کار کھلاڑی مشکل وقت میں زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کھیلے اور دباؤ کے باوجود اپنی ٹیم کو میچ جتوانے میں کامیاب رہے۔ 

اس پہلے سیمی فائنل میں اصل مقابلہ انڈین بولنگ اور آسٹریلوی بیٹنگ میں تھا۔ تاثر یہی ہے کہ آسٹریلوی بولنگ لائن اپ اپنے تجربہ کار بولروں کمنز، سٹارک اور ہیزل وڈ کے بغیر قدرے کمزور ہے۔آسٹریوی بیٹنگ البتہ خاصی مضبوط اور قابل اعتماد رہی ہے، جس میں ٹریوس ہیڈ، میکسویل اور کیری جیسے ہارڈ ہٹر اور سٹیو سمتھ ، لبوشین اور جوش انگلس جیسے وکٹ پر ٹھیرنے والے عمدہ بلے باز موجود ہیں۔ گروپ میچز میں انگلس نے سینچری بنائی جبکہ ہیڈ، سمتھ، کیری بھی رنز کرتے آئے ہیں۔ آج کے میچ میں البتہ آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپ نے کسی قدر کمزوری دکھائی، ان کے تجربہ کار سپرسٹار بلے باز غیر ذمہ دارانہ اور غیر ضروری شاٹس کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخری 10 اوورز یعنی ڈیتھ اوورز میں جب ان کی ضرورت تھی، یہ ڈریسنگ روم میں بیٹھے حسرت بھری نظروں سے گراؤنڈ کو دیکھ رہے تھے۔ٹریوس ہیڈ، سٹیو سمتھ، میکسویل ان سب نے اپنی وکٹیں سمپلی تھرو کیں۔ انگلس اور لبوشین کو بھی وکٹ پر ٹھرنا چاہیے تھا۔ کیری البتہ بدقسمت رہے کہ اچھی فیلڈنگ اور بہترین ڈائریکٹ تھرو کا نشانہ بن گئے۔ ابتدا اوپنر ٹریوس ہیڈ سے کرتے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں کھیلے، اچھا سٹارٹ دے دیا، پہلے سات اوورز میں ساڑھے چھ کا رن ریٹ  تھا۔ روہت شرما کو پریشان ہو کر آٹھویں اوور میں اپنے مسٹری سپنر ورون چکرورتی کو بلانا پڑا۔ٹریوس ہیڈ نے پہلے کبھی چکرورتی کو نہیں کھیلا تھا، وہ مگر اچھی طرح جانتا ہوگا کہ یہ مسٹری سپنر ہے جس کا گیند دونوں طرف سپن ہوتا ہے اور اس کے پاس خاصی ورائٹی ہے۔ ہیڈ نے ورون چکرورتی کی پہلے ہی گیند کو اٹھا کر اونچا شاٹ کھیل دیا۔

کپتان سٹیو سمتھ، اوپنر ٹریوس ہیڈ اور گلین میکسویل نے اپنی اپنی وکٹیں تھرو کیں (فوٹو: اے ایف پی)گیند ان کی توقع کے برعکس لیگ بریک کے بجائے گگلی تھا، شاٹ کی ٹائمنگ ٹھیک نہیں رہی اور ہیڈ آؤٹ ہوگئے۔ ہیڈ کو پہلی ایک دو گیندوں پر سنگل لے لینا چاہیے تھا یا ایک آدھ گیند روک کر سمجھنے کی کوشش کرتے۔ ہیڈ اچھی فارم میں تھے، وہ تھوڑی دیر اور رُک جاتے تو آسٹریلیا انڈین سپن بولنگ پر بھی دباؤ ڈال سکتا تھا۔ اس سے پہلے کوپر کونلی جو اس ٹورنامنٹ کا پہلا میچ کھیل رہے تھے، نے ہیڈ کے ساتھ اوپننگ کی، مگر ابتدائی سات گیندیں مسلسل بیٹ ہوئے، شامی نے بہت اچھی سوئنگ گیندیں کرائیں اور کبھی ان سوئنگ اور کبھی آؤٹ سوئنگ پر آسٹریلوی آل راؤنڈر کو حیرت زدہ کر دیا، آخرکوپر بھائی صاحب وکٹ کیپر کو کیج دے کر رُخصت ہوئے۔ انگلس اور مارنس لبوشین انڈین سپنرز کی نپی تلی گیندوں کا شکار ہوئے۔ گیند زیادہ ٹرن نہیں ہو رہا تھا، مگر جڈیجا نے وکٹ ٹو وکٹ بولنگ کرائی، رنز روکے اور اس کا نتیجہ مارنس لبوشین کو ایل بی ڈبلیو کرنے کی صورت میں ملا۔ جبکہ جوش انگلس بھی جڈیجا کی گیند پر ڈرائیو کرنے کی کوشش میں کوہلی کو کیچ دے بیٹھے۔ سٹیو سمتھ البتہ بہت اچھا کھیل رہے تھے، انہوں نے کمپوز رہتے ہوئے وکٹ کے چاروں طرف سٹروکس کھیلے، سنگل، ڈبلز کیے اور پارٹنرشپس بنانے کی کوشش کی۔

آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ کا 73 رنز پر آؤٹ ہو جانا اُن کی ٹیم کے لیے بڑا دھچکا تھا (فوٹو: اے ایف پی) تاہم بدقسمتی سے ان کے دوسرے اینڈ پر وکٹیں گرتی گئیں۔ البتہ سٹیو سمتھ نے تب سنگین غلطی کی جب کیری ان کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ کیری نے آتے ہی جارحانہ سٹروکس کھیلے، کلدیپ اور جڈیجا کو چوکے لگائے، ورن چکرورتی کو شاندار چھکا لگایا۔ایک مرحلے پر میچ کی پوزیشن یہ تھی کہ 36 اوورز میں آسٹریلیا نے ایک سو پچانوے (195) رنز بنائے تھے، چار آؤٹ ہوئے تھے۔ تب یہ لگ رہا تھا کہ اگلے 14 اوورز میں آسٹریلیا آسانی سے نوے پچانوے یا سو رنز بنا سکتا ہے۔اس لیے کہ ابھی میکسویل نے بھی آنا تھا۔ کیری نے پچھلے اوور میں ہاردک پانڈیا کو دو چوکے لگائے تھے، رن ریٹ ٹھیک تھا۔ سمتھ کو چاہیے تھا کہ وہ سنگلز لے کر کیری کو ہارڈ ہٹنگ کرنے دیتا کہ اس کا نیچرل جارحانہ انداز ہے۔اس کے بجائے 37 ویں اوور میں سٹیو سمتھ نجانے کیوں غیر ضروری جارحانہ انداز میں شامی کو باہر نکل کر اندھا دھند گھمانے کے چکر میں لو فل ٹاس پر بولڈ ہوگیا۔ یہ بڑا دھچکا تھا اور آسٹریلیا اس سے پھر سنبھل نہ سکا۔ سمتھ کی اننگ بہرحال اچھی تھی، انہوں نے 73 رنز بنائے۔ اس کے بعد اگلے اوور میں میکسویل نے اکشر پٹیل کو شاندار چھکا لگایا اور پھر اگلی گیند پر سنگل وغیرہ لینے کے بجائے غیر ضروری طور پر جارحانہ شاٹ کھیلنے کے چکر میں بولڈ ہوگیا۔ میکسویل نے بھی وکٹ تھرو کی۔

آسٹریلیا کو بیٹنگ میں پچیس تیس رنز زیادہ کرنا چاہیے تھے (فوٹو: اے ایف پی)سمتھ کے آؤٹ ہونے کے بعد میکسویل کو پتا تھا کہ اب ان کی آخری بیٹنگ جوڑی ہے اور ابھی بارہ تیرہ اوورز پڑے ہیں۔ ایک چھکا لگا لینے کے فوری بعد ایک اور شاٹ کھیلنے کی کیا ضرورت تھی؟سٹیو سمتھ اور میکسویل کے وکٹیں گنوانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ آخری 10 اوورز میں جب رنز کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، رنز بنانے کے لیے بیٹرز ہی نہیں تھے۔ صرف کیری نے کسی حد تک کوشش کی، مگر دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرتی رہیں، کیری نے اچھی نصف سینچری بنائی مگر وہ ایک تیزرفتار ڈبل رنز بنانے کے چکر میں اچھی تھرو کا شکار ہوگئے۔ آخری تین اوورز میں ہٹنگ کے لیے کوئی تھا ہی نہیں۔ آسٹریلیا نے آخری 10 اوورز میں صرف اکاون (51) رنز بنائے۔ اگر سمتھ اور میکسویل وکٹیں نہ گنواتے تو آسٹریلیا آسانی سے 30 رنز مزید بنا سکتا تھا۔ اگر ہدف دو سو نوے پچانوے یا 300 رنز ہوتا تو انڈین ٹیم پر زیادہ دباؤ ہوتا اور شاید نتیجہ مختلف نکلتا۔ آسٹریلوی بولنگ بُری نہیں رہی، خاص کر انڈیا کی ابتدائی دو وکٹیں جلد گر گئیں، روہت شرما اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 28 رنز پر آؤٹ ہوگئے، شبھمن گل بھی جلد آؤٹ ہوئے، تاہم پھر تجربہ کار وراٹ کوہلی نے اپنے کیریئر کی ایک اور بہت اچھی اننگ کھیلی۔

بلاشبہ اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ متوازن، مضبوط اور اِن فارم ٹیم انڈیا ہی کی نظر آئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)کوہلی کو کنگ کہا جاتا ہے تو یہ بجا ہے۔ آپ خود دیکھیں کہ پاکستان کے خلاف پریشر میچ میں کوہلی نے شاندار سینچری بنائی اور اب اس اہم ترین سیمی فائنل میں میچ وننگ اننگز کھیل ڈالی۔ یہ بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی ہوتا ہے۔ شریاس آئر پچھلے کچھ عرصے سے نمبر چار پر عمدہ بیٹنگ کر رہے ہیں، وہ جارحانہ شاٹس بھی کھیلتے ہیں اور مڈل آرڈر پر دباؤ نہیں آنے دیتے، چیمپینز ٹرافی میں بھی آئر کی کارکردگی اچھی رہی، آج بھی کوہلی اور شریاس آئر کی پارٹنرشپ اہم رہی، 90 رنز کی اس پارٹنرشپ نے انڈیا کو دباؤ سے باہر نکالا۔زمپا نے آئر کو آؤٹ کر لیا، پھر اکشر پٹیل اور کوہلی کی مختصر مگر مفید پارٹنر شپ رہی۔ اس کے بعد کے ایل راہل آیا اور اس نے بھی سینیئر بلے باز ہونے کا حق ادا کر دیا۔ اس دوران کوہلی کی وکٹ گر گئی، مگر کوہلی کے 84 رنز نے انڈیا کو فتح کے بہت قریب کر دیا تھا۔ راہل نے بھی جارحانہ شاٹس کھیل کر دباؤ کم کیا اور آخر میں ہاردک پانڈیا نے حسب معمول اپنا مفید کردار ادا کیا۔ جب ہدف کے تعاقب میں گیندیں اور رنز برابر تھے، تب پانڈیا نے تین چھکے لگائے۔ دو چھکے زمپا کو مسلسل دو گیندوں پر لگے۔ اس سے انڈین بیٹنگ پر دباؤ بالکل ختم ہوگیا۔ 

اگر آسٹریلوی فیلڈرز روہت شرما اور وراٹ کوہلی کے کیچز ڈراپ نہ کرتے تو شاید صورت حال مختلف ہوتی (فوٹو: اے ایف پی)آخر میں پانڈیا بھی آؤٹ ہوگیا مگر تب تک میچ بھی ختم ہوچکا تھا۔ کے راہل نے میسکویل کو چھکا لگا کر ہدف حاصل کر لیا، ابھی 11 گیندیں رہتی تھیں۔ یوں انڈیا فائنل میں پہنچ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ چیمپئز ٹرافی کا فائنل لاہور کے بجائے دبئی میں ہوگا۔ آسٹریلوی کھلاڑیوں کی کارکردگی بُری نہیں رہی، انہوں نے اچھی فائٹ کی، میچ دلچسپ بنائے رکھا، مگر ان کی کارکردگی غیر معمولی نہیں تھی۔ انڈیا کی موجودہ ٹیم کو ہرانے کے لیے مخالف ٹیم کو غیر معمولی کھیل پیش کرنا ہوگا، آسٹریلوی ٹیم ایسا نہ کر پائی۔ آسٹریلیا کو بیٹنگ میں پچیس تیس رنز زیادہ کرنا چاہیے تھے، اسے درمیانی اوورز میں وکٹیں حاصل کرنے کی ضرورت تھی، مگر اس کے سپنرز خاص کر تنویر سنگھا اتنا موثر ثابت نہ ہوسکا۔ زمپا بھی مہنگے رہے۔ کوہلی کا ایک کیچ بھی ڈراپ ہوا، وہ اگر پکڑ لیا جاتا تو شاید کچھ فرق پڑ جاتا۔ اس سے پہلے انہوں نے روہت شرما کو بھی چانس دیا۔ اینڈ میں وہی بات کہ جو ٹیم زیادہ اچھا کھیلی، جس نے پریشر بہتر ہینڈل کیا، جس کے سینیئر کھلاڑیوں نے اپنے تجربے کا فائدہ اٹھایا اور پینک (Panic) بٹن دبنے نہیں دیا، وہ ٹیم جیت گئی۔ آج وہ ٹیم انڈیا تھی۔ ویسے اس ٹورنامنٹ میں سب سے متوازن، مضبوط اور اِن فارم ٹیم انڈیا ہی کی نظر آئی ہے۔ وہ فائنل کھیلنے کی مستحق ہے اور اگر فائنل میں اس کی مخالف ٹیم غیر معمولی کھیل پیش نہ کر پائی تو اس بار چیمپئنز ٹرافی کی چیمپئن بھی انڈیا کی ٹیم ہی ہوگی۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More