وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے ہماری خواہش ہے کہ بجلی کا ریٹ 50 روپے کم ہو جائے، آئی ایم ایف سے کیپٹو پاور پلانٹس پر بات چیت جاری ہے، 10 سے 12 روپے فی یونٹ تک بجلی سستی کر سکتے ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ اب تک 1100 ارب روپے کی بچت کر چکے ہیں، آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات میں اب حکومتی پاور پلانٹس کی باری ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے گی، نظر ثانی کے بعد عوام کو بہت اچھی بچت ہو گی۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ کے الیکٹرک نے ملٹی ایئر ٹیرف کی مد میں بہت بڑی رقم مانگی ہے، میرے خیال میں یہ ملٹی ایئر ٹیرف اتنا نہیں بنتا، بہت کم ہونا چاہیے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیپرا پاکستان کی عوام کا مفاد مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔
اویس لغاری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے کنڈا کلچر کے خاتمے کے ایجنڈے پر ملاقات ہوئی تھی، کنڈا کلچر پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی کارکردگی اچھی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت پاور سیکٹر میں بھی اصلاحات متعارف کروائی ہیں، وفاقی حکومت نے مہنگے بجلی معاہدوں سے جان چھڑوانے کے لیے کئی آئی پی پیز سے معاہدوں پر نظر ثانی کی ہے۔
بجلی کے گردشی قرض کو کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے، لائن لاسز پر کنٹرول کے لیے بھی کوشییں کی جارہی ہیں۔
گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا تھا کہ ہم چاہتے ہیں اگلے 4 سال میں توانائی کا شعبہ بحران سے نکل آئے، پہلے صنعتوں کو ساڑھے 58 روپے کا ملنے والا بجلی کا یونٹ اب 47 روپے 17 پیسے میں فراہم کیا جارہا ہے، انڈسٹری سے سالانہ 150 ارب کی کراس سبسڈی کا بوجھ کم کیا گیا ہے۔