ہم نیوز | Oct 13, 2024
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوکا آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے پیغامہماری تاریخ ان کیلئے ناگوار ہے جو سمجھتے ہیں پاکستانی سیاست کا آغاز کرکٹ ورلڈ کپ سے ہوتا ہے، بلاول بھٹوآئینی ارتقاء، منشور اور میثاق جمہوریت کیلئے ہمارا عزم ہمیشہ یکساں رہا ،چاہے چہرے بدلتے رہے، بلاول بھٹوہم کبھی کسی کے کہنے پرقانون سازی یا آئین میں ترمیم نہیں کرتے، بلاول بھٹو زرداریہم اپنی نسلوں کے لیے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بلاول بھٹوہمیں 18ویں ترمیم میں 1973 کے آئین کو بحال کرنے کے لیے 30 سال لگے، بلاول بھٹوافتخار چودھری کی سیاست کے عدالتی فیصلوں کے نقصانات کو دور کرنے کیلیے 2دہائیاں لگ چکیں26ویں ترمیم عجلت میں نہیں کی جا رہی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری26ویں ترمیم کافی عرصہ پہلے ہی ہونی چاہیے تھی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداریجسٹس(ر) دراب پٹیل ان 4 ججز میں شامل تھے جنہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو بری کیا، بلاول بھٹوجسٹس(ر) دراب پٹیل نے بھٹو شہید کے عدالتی قتل کا حصہ بننے سے انکار کیا، بلاول بھٹوجسٹس(ر) دراب پٹیل کا مؤقف تھا قائد عوام کو سزا دینے کیلئے کوئی ثبوت نہیں تھا، بلاول بھٹوجسٹس(ر) دراب پٹیل بھٹو شہید کیس میں گواہ کو قابل اعتبار نہیں سمجھتے تھے، بلاول بھٹود راب پٹیل نے کہا تھا بھٹو شہید کا ان کی غیر موجودگی میں مقدمہ چلانا ایک غلطی تھی، بلاول بھٹوجسے تسلیم کرنے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کو 45 سال لگے، بلاول بھٹو زرداریدراب پٹیل نے 1981 میں ضیاء الحق کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا ، بلاول بھٹوجسٹس(ر) دراب پٹیل اگر ایسا نہ کرتے تو وہ پاکستان کے چیف جسٹس بن جاتے، بلاول بھٹو زرداریجسٹس(ر) دراب پٹیل کے تجربے نے ثابت کیا وفاقی آئینی عدالت ضرورت تھی، بلاول بھٹوجسٹس(ر) پٹیل نے آئینی عدالت کا خیال اپنے ساتھیوں سے شیئر کیا جو ان سے متفق تھے، بلاول بھٹو
Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More