شہباز شریف اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

اردو نیوز  |  Aug 30, 2024

وزیراعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش کی حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

جمعے کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے بنگلہ دیش میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ’مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔‘

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات، ثقافتی تبادلوں اور عوام کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ وسیع تر علاقائی تعاون جنوبی ایشیا کے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پروفیسر محمد یونس کو چیف ایڈوائزر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور بنگلہ دیش کی سماجی و اقتصادی ترقی میں ان کے کردار کو سراہا۔

پروفیسر محمد یونس نے ٹیلی فون کال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

دوسریہ جانب ریڈیو پاکستان کے مطابق سیکریٹری خارجہ محمد سائرس سجاد قاضی نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مذاکرات کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے 50 ویں اجلاس کے موقع پر کیمرون میں بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کے مشیر توحید حسین سے ملاقات کے دوران کیا۔

23 اگست کو وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش میں حالیہ سیلابی صورتحال پر بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کو خط میں پاکستان کی جانب سے مدد کی پیشکش کی تھی۔

بنگلہ دیش میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ 57 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More