بظاہر لگ رہا ہے حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینیفشری ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

ہم نیوز  |  Aug 23, 2024

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ بظاہر لگ رہا ہے کہ حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینیفشری ہے،کیسے اس ملک میں لوگ اغوا ہوتے ہیں اور چیف ایگزیکٹو کچھ نہیں کرتے۔

اظہر مشوانی کے 2 لاپتا بھائیوں کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جس میں درخواست گزار کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیے۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کچھ معلوم ہوا ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے بتایا کہ آج بھی ہائی لیول پر رابطہ ہوا ہے، ہر لحاظ سے کوشش جاری ہے۔

بابراعوان نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ 5 قوانین بغاوت اور بغاوت پر اکسانے کو ڈیل کرتے ہیں۔ کہیں نہیں بتایا گیا قومی مفاد کیا ہے۔ مجھ سے پوچھیں گے قومی مفاد کیا ہے تو میں کہوں گا بجلی کی قیمت کم کرو۔

غیرملکی تحائف کی نیلامی سے حاصل 22 کروڑ روپے کا دستاویزاتی ریکارڈ توشہ خانہ سے غائب ہونے کا انکشاف

بلوچستان والا کہے گا مجھے گیس فراہم کرو، اس کا یہ قومی مفاد ہے۔ اس دوران پنجاب پولیس لاہور سے ایس پی عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور بتایا کہ فیملی کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کی گئی ہے۔

ریزولیوشن کم ہونے کی وجہ سے نادرا یا فرانزک ایجنسی سے کچھ پتا نہیں چل سکا۔ جیو فینسنگ 10 ہزار نمبرز کی حاصل کی لیکن ابھی تک کچھ معلوم نہیں۔ آج 23 اگست تک کوئی بھی قابل عمل معلومات نہیں ملی۔

سیف سٹی پراجیکٹ ہر اینگل سے کور نہیں کر پاتا۔ اس وقت تک کوئی بھی لا انفورسمنٹ ایجنسی اس حوالے سے کچھ پتا نہیں چلا سکی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینیفشری ہے۔ کیسے اس ملک میں لوگ اغوا ہوتے ہیں اور چیف ایگزیکٹو کچھ نہیں کرتے۔

اٹارنی جنرل نے کہا تھا وزیراعظم کو اس معاملے پر بریف کروں گا۔ چیف ایگزیکٹو کو ان معاملات کا پتا ہے مگر پھر بھی لوگ جبری طور پر لاپتا ہو جاتے ہیں۔ وکیل بابراعوان نے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس اس عدالت کے آرڈر پڑھنے کا وقت ہی نہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More