آذربائیجان کے صدر اسلام آباد میں، پاکستان کو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اُمید

اردو نیوز  |  Jul 11, 2024

آذربائیجان کے صدر الہام علیوف جمعرات کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں ۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق جمعرات کو نور خان ایئربیس پر وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کا پرتپاک استقبال کیا۔

اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔ صدر الہام علیوف کو توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

آذربائیجان کے صدر وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق الہام علیوف کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ ملنے کی اُمید ہے۔

آذربائیجان کے صدر رواں ماہ قازقستان میں ہونے والی پاکستان-ترکی-آذربائیجان سہ فریقی افتتاحی سربراہی اجلاس کے بعد پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

سربراہی اجلاس میں شہباز شریف نے شرکت کی تھی اور تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں سہ فریقی ادارہ جاتی میکانزم کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔

پاکستان کے وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے ایک روز قبل بتایا تھا کہ آذربائیجان پاکستان میں دو سے تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر غور کر رہا ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے بتایا تھا کہ ’آذربائیجان پاکستان میں 2 سے 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر غور کر رہا ہے۔‘

انہوں نے ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو میں کہا تھا کہ آذربائیجان معدنیات، تیل اور گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں خصوصی دلچسپی رکھتا ہے۔

وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا کہ آذربائیجان تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے پر توجہ دے رہا ہے اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کو بڑھانے کا خواہشمند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف دوست ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے اتحادیوں کی امداد پر سرمایہ کاری کو ترجیح دی۔‘

وزیر پٹرولیم نے کہا کہ صدر الہام علیوف کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ ملنے کی اُمید ہے۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More