پاکستان کا عالمی برادری پردنیا بھر کے سمندروں کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر زور

اے پی پی  |  Jun 13, 2024

اقوام متحدہ ۔13جون (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ میں زور دیا ہے کہ عالمی برادری دنیا بھر کے سمندروں کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندےسفیر عثمان جدون نے اقوام متحدہ کے قانون برائے سمندری کنونشن (یواین سی ایل اوایس ) کے ایک اجلاس میں کہاکہ سمند ر جو زمین پر زندگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ، موسمیاتی تغیرات سمندروں کو گرم کر رہی ہیں ، موسم کے انداز میں خلل ڈال رہی ہیں اور سمندری ماحولیاتی نظام کو تبدیل کر رہی ہے۔

عثمان جدون نےیواین سی ایل اوایس کے فریقین کو اجلاس میں بتایا کہ سمندری حیاتیاتی تنوع حد سے زیادہ استحصال اور سمندری تیزابیت کا شکار ہے، ایک تہائی سے زیادہ مچھلیوں کے ذخیرے کو غیر مستحکم طریقے کار سے شکار کیا جا تا ہے۔انہوں نےمزید کہاکہ ساحلی پانی کیمیکلز، پلاسٹک اور دیگر فضلہ سے آلودہ ہو رہے ہیں۔سفیر جدون نے یو این سی ایل او ایس کے تین اداروں انٹرنیشنل ٹریبونل لا آف سی (آئی ٹی ایل او ایس)، کمیشن آن دی لِمِٹس آف دی کانٹی ننٹل شیلف (سی ایل سی ایس) اور انٹرنیشنل سی بیڈ اتھارٹی (آئی ایس اے)کے کام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

انہوں نے انٹرنیشنل ٹریبونل لا آف سی کے کام کو بھی سراہا اور موسمیاتی تبدیلی اور بین الاقوامی قانون کے بارے میں اس کی مشاورتی رائے کو تسلیم کیا، جو کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے سمندری آلودگی کو کم کرنے کے لیے(یواین سی ایل او ایس ) کے تحت ریاستوں کی ذمہ داریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نےیواین سی ایل او ایساور اس کے 1994 کے نفاذ کے معاہدے کے نفاذ کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے سمندروں کے تحفظ اور پائیدار استعمال پر پائیدار ترقی کے ہدف 14 سمیت 2030 کے ایجنڈے کی پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔واضح رہے سمندری کنونشن کا 1982 کا قانون سمندر، سمندری تہہ ، زیر زمین مٹی اور سمندری ماحول کے استعمال اور تحفظ کے لیے ایک جامع قانونی ڈھانچہ مرتب کرتا ہے، جس میں قدرتی اور ثقافتی وسائل بھی شامل ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More