سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے ذریعے ملک میں پائیدار ترقی کے حامل منصوبے لائے جائیں، تمام بڑے قومی ترقیاتی منصوبوں کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن لازمی ہو گی، وزیراعظم محمد شہباز شریف

اے پی پی  |  May 15, 2024

اسلام آباد۔15مئی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام(پی ایس ڈی پی) کے ذریعے ملک میں پائیدار ترقی کے حامل منصوبے لائے جائیں،تمام بڑے قومی ترقیاتی منصوبوں کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن لازمی ہو گی، ترقیاتی بجٹ اور پی ایس ڈی پی کے حوالے سے وزیر منصوبہ بندی کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو پی ایس ڈی پی پروگرامز کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دینے کے حوالے سے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی تجاویز مرتب کرے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت منصوبہ بندی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے امور پر اہم اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں ایسے منصوبے لائے جائیں جس سے ملک کی پائیدار ترقی ممکن ہو سکے گی۔

وزیراعظم نے ہدایت دی کہ تمام بڑے قومی منصوبوں کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کروائی جائے۔ انہوں نے وزیراعظم کی ترقیاتی بجٹ اور پی ایس ڈی پی کے حوالے سے کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ۔ یہ کمیٹی پی ایس ڈی پی پروگرام کیلئے لائحہ عمل تشکیل دینے کے حوالے سے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی تجاویز مرتب کرے گی۔وزیراعظم نے پی ایس ڈی پی پروگرامز اور صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی اور روابط بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے تمام وفاقی وزارتوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے حوالے سے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ،وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وزیر پٹرولیم مصدق ملک، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More