سٹاک ایکسچینج میں 1300 پوائنٹس کی کمی، ’کریش‘ ہونے کا خدشہ

اردو نیوز  |  Feb 12, 2024

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دوسری جانب ایسی مشکل صورتحال میں ملکی معیشت مزید ہچکولے کھاتے نظر آ رہی ہے۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے آغاز سے ایک بار پھر منفی رجحان دیکھا گیا ہے۔ کاروباری اوقات کے ابتدائی حصے میں ایک سو انڈیکس 13 سو پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 61 ہزار پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی صورتحال میں ایک غیر یقینی کی کیفیت ہے اور سرمایہ کار اس وقت محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حکومت کی تشکیل کا جلد فیصلہ نہ ہوسکا تو مارکیٹ کریش کرسکتی ہے۔

کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر مندی کے بادل چھائے رہے، 100 انڈیکس اپنی 62 ہزار پوائنٹس کی سطح سے نیچے آگیا۔

کاروبار کے آغاز سے انڈیکس دباؤ میں دیکھا گیا اور دوران ٹریڈنگ 12 بجے مارکیٹ 13 سو 22 پوائنٹس کمی کے ساتھ 61 ہزار 632 پوانٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتی نظرآئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بھی مارکیٹ میں منفی رجحان دیکھا گیا تھا۔

معاشی امور کے ماہر عبدالعظیم کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال ہے اور حکومت کے قیام میں تاخیر سے مارکیٹ پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے سے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان دیکھا گیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پیعبدالعظیم نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ حکومت سازی کے حوالے سے معاملات اگر چند دنوں میں حل نہیں ہوتے تو مارکیٹ کریش بھی کرسکتی ہے۔

سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے حوالے سے سوال پر عبدالعظیم کا کہنا تھا کہ اگر اتحادی حکومت بن جائے اور معاشی پروگرام پیش کرے تو مارکیٹ تیزی سے ریکور بھی ہو سکتی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس صورتحال کو بہتر بنانا سیاست دانوں کے ہاتھ میں ہے۔

دوسری جانب ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے سیکریٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ایک غیر یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود انتظامی کنڑول بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں ہزار 12 سو پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے اور اتنی بڑی مارکیٹ میں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

ظفر پراچہ نے مزید کہا کہ اتحادی حکومت کا بننا اچھی علامت نہیں ہے اور اتحادی حکومت سے عالمی مالیاتی ادارے کچھ حد تک محتاط ہی رہتے ہیں۔

’اتحادی حکومت ہوتی ہے تو کسی بھی وقت عدم اعتماد کی تحریک یا اعلٰی شخصیات کی تبدیلی ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ ادارے قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہیں۔‘

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More