کرن ناز، اشفاق ستی کہانی میں نیا رخ لیکر سامنے آگئیں

ہم نیوز  |  Jan 29, 2024

نجی ٹی وی اے آر وائی کے میزبان اشفاق ستی پر اہلیہ نومیکا کی جانب سے تشدد کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد ٹی وی میزبان کرن ناز نے اپنی ٹوئٹ میں نئے دعوے کردئیے ہیں۔

اینکر اشفاق ستی کو معطل کر دیا گیا

کرن ناز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر طویل ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ

اشفاق اسحاق میرے آج ٹی وی کے ساتھی ایک بہترین ٹی وی اینکر جن کی اہلیہ نے ان پر مار پیٹ کا الزام لگایا۔کہانی کا دوسرا رخ اشفاق کی اجازت سے آپکے سامنے رکھ رہی ہوں۔

اشفاق کی پہلی بیوی کے تین بچے نومیکا(دوسری) کے ساتھ رہتے ہیں اور بچوں کو اجازت نہیں کہ وہ اشفاق کی تیسری بیوی کے گھر جائیں ،نومیکا اپنی والدہ کے گھر گئیں تو اشفاق بچوں کے ساتھ وہاں چلے گئے۔جس پر نومیکا نے بہت ہنگامہ کیا۔ بچوں پر تشدد کیا۔اشفاق کو گالیاں دیں۔مارا جس کے جواب میں اشفاق نے خاتون کو دھکا دیا اور وہ دروازے سے ٹکرائیں۔

صنم جاوید کا این اے 119 سے الیکشن نہ لڑنے کا اعلان

جو تصاویر نومیکا نے پوسٹ کی اسی طرح کی تصاویر اشفاق کی بھی ہیں۔نومیکا نے الزام لگایا کہ پہلے انکی کردار کشی کی گئی پھر تشدد کیا گیا۔جبکہ وڈیو میں نومیکا کی زبان سنی جاسکتی ہے۔جو کمرے کے باہر کھڑے انکے بچوں نے بنائی ہے۔خاتون نے ARY کے دفتر جاکر بھی بڑا شور شرابا اور ہنگامہ کیا ہے۔

اشفاق اور انکے بچے اس وقت شدید خوف اور تکلیف میں ہیں۔بچے اسکول نہیں جارہے کہ وہاں آنٹی(نومیکا) آکر مار پیٹ نہ کریں۔اشفاق اور انکی تیسری اہلیہ خوف زدہ ہیں کہ انہیں مار نہ دیا جائے۔اشفاق کے مطابق نومیکا کے بھائی رانا عمران،رانا سلمان اور والد اس سے پہلے بھی انہیں ڈرا دھمکا کر پیسے بٹورتے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی میں شامل کیوں نہیں ہوا بتا کر دوست کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا، چوہدری نثار

اس جھگڑے کے بعد بھی گھر میں آکر بیٹھ گئے۔اشفاق کو ڈراتے دھمکاتے رہے کہ رقم دیں ورنہ سوشل میڈیا پر بدنام کریں گے۔رانا عمران نے ایک لاکھ روپے لیے اور چلے گئے۔اشفاق کہتے ہیں میں اتنا بڑا ظالم ہوں کہ نہ اپنا تحفظ کرسکتا ہوں نہ اپنے بچوں کا۔

میں عورت کو گالی دینے والے اس پر تشدد کرنے والے کسی بھی مرد کو سپورٹ نہیں کرسکتی۔بلکل اسی طرح مرد اور اسکے بچوں کو گالی دینے والی،مارنے پیٹنے اور بدنام کرنے والی عورت کے ساتھ میں نہیں کھڑی ہوسکتی۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More