’پارٹی کو اپوزیشن میں بیٹھنے کا کہا تو آصف زرداری نے کہا زبان سے نہیں پھر سکتا‘

اردو نیوز  |  Jan 21, 2024

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے اپوزیشن میں بیٹھنے کی خواہش ظاہر کی تھی مگر آصف علی زرداری نے جواب دیا کہ وہ زبان دے چکے ہیں اور اپنی بات سے نہیں پھر سکتے۔

سنیچر کی رات سما ٹی وی کو انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے نواز شریف کو واپس پاکستان بلانے کی بات کی تھی تاکہ الیکشن کرائے جا سکیں۔

اپنی اتحادی حکومت کے دنوں کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا اچھا فیصلہ کیا مگر سیاست دانوں نے موقع گنوا دیا۔

’شہباز شریف سے کہا تھا نواز شریف کو واپس بلاؤ، الیکشن کراؤ۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پارٹی کو کہا تھا مجھے اپوزیشن میں بیٹھنے دیں، آصف زرداری نے کہا زبان سے نہیں پھرسکتا۔‘

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ وہ آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر 8 فروری کے بعد سرپرائز دیں گے اور 172 کا نمبر پار کر کے جیالا وزیراعظم لائیں گے۔

قبل ازیں کوٹ ادو میں انتخابی جلسے سے خطاب میں بلاول نے کہا تھا کہ وہ عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں جبکہ باقی سیاست دان خلائی مخلوق سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’محنت اور خلوص نیت سے کام کریں گے تو ضرور کامیاب ہوں گے۔ اب شوبازی سے کام نہیں چلے گا، ماننا پڑے گا کہ ملک بھر میں مسائل ہیں لیکن اگر جدو جہد کریں تو ان مسائل کا حل مل کر نکالیں گے۔‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے دس نکاتی عوامی معاشی معاہدہ پیش کیا ہے۔ ’ان نکات پر عمل کر کے غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کا مقابلہ کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ تیر ایک ہی نشان ہے جو شیر کا راستہ روک سکتا ہے، جس سے شیر کا شکار کیا جاسکتا ہے، یہ تیر وہ ایک ہی نشان ہے جو سازش کو ناکام کروا سکتا ہے، یہ اس ملک کا نشان ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ باقی سیاسی جماعتیں اشرافیہ کی نمائندگی کرتی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی غریب عام شہری کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ہم ملک میں 30 لاکھ گھر بنا کر خواتین کو ان کے مالکانہ حقوق دیں گے، میں غریب عوام کو 300 یونٹ مفت بجلی دلوانے کا وعدہ پورا کروں گا، میں غریب آدمی کو بلا سود قرضے دلاؤں گا تاکہ وہ کاروبار کرسکے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More