الیکشن کے لیے نااہلی کا فیصلہ برقرار، صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد

اردو نیوز  |  Jan 07, 2024

لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبیونل نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر اور پارٹی کی سرگرم کارکن صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف دائر اپیلیں خارج کرتے ہوئے ریٹرننگ افسران کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

اتوار کے روز سماعت کرتے ہوئے الیکشن ٹریبیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے حماد اظہر اور صنم جاوید کی اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔

صنم جاوید نے عام انتخابات لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے حلقہ این اے 119 اور 120 کے علاوہ پی پی 150سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جبکہ حماد اظہر نے حلقہ این اے 129 اور پی پی 171 سے کاغذات جمع کروائے تھے۔

الیکشن ٹریبیونل کے جسٹس طارق ندیم نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 129 سے متعلق حماد اظہر کی اپیل خارج کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

جبکہ علیحدہ فیصلے میں جسٹس احمد ندیم نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی171 سے متعلق ریٹرننگ افسر کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے حماد اظہر اور ان کے والد میاں اظہر کو اہل الیکشن لڑنے کے لیے اہل قرار دے دیا ہے۔

ریٹرننگ افسران نے اعتراض لگاتے ہوئے صنم جاوید اور حماد اظہر کے کاغذات مسترد کر دیے تھے جس کے خلاف الیکشن ٹریبیونل میں اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔

سنیچر کو الیکشن ٹریبیونل نے ملتان سے سابق وزیر خارجہ اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل خارج کی تھی۔

ملتان سے الیکشن لڑنے کے لیے شاہ محمود قریشی کی این اے 150، این اے151 اور پی پی 218 سے اپیلیں مسترد ہوئی ہیں۔

 بینک اکاؤنٹس اور غیرملکی دورے چھپانے پر حبا فواد کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے۔ فوٹو: ٹوئٹر حبا چوہدریصوبہ سندھ میں الیکشن ٹریبیونل نے شاہ محمود قریشی کو حلقہ این اے 214 تھر پارکر سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی تھی۔

جبکہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی اور بیٹی مہر بانو قریشی کے این اے 150، این اے 151، پی پی 218 اور پی پی 219 سے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی اہلیہ حبا چوہدری کے خلاف لگائے گئے الزامات کو راولپنڈی الیکشن ٹریبیونل نے درست قرار دیا ہے۔ 

الیکشن ٹریبیونل نے بیان میں کہا تھا کہ حبا فواد چوہدری نے 9 بینک اکاؤنٹس اور تین غیرملکی دورے چھپائے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More