یمن کے حوثیوں کا سعودی عرب سے پاکستان جانے والے مال بردار بحری جہاز پر میزائل حملہ

اردو نیوز  |  Dec 27, 2023

یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے منگل کو بحیرہ احمر میں مال بردار بحری جہاز پر میزائل حملے اور اسرائیل پر ڈرون سے حملہ کرنے کی کوشش کی ذمہ داری قبول کی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایم ایس سی میڈیٹرینیئن شپنگ کمپنی کا کہنا ہے کہ ’حملے میں جہاز کے عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا۔‘کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ ’اس کا مال بردار بحری جہاز ’یونائیٹڈ 8‘ سعودی عرب سے پاکستان جا رہا تھا۔‘

’جہاز کے عملے نے فوری طور پر سمندر میں قریب ہی موجود اتحادی جنگی جہاز کو واقعے کی اطلاع دی کہ وہ حملے کی زد میں ہیں اور اس سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں۔‘ایک الگ بیان میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ ’اس کے لڑاکا طیارے نے بحیرہ احمیر کے علاقے میں دشمن کے ایک فضائی ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔‘  حوثی ملیشیا کے ترجمان یحییٰ ساریا کا ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ’ہمارے گروپ نے بحیرہ احمر میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔‘

انہوں نے جہاز کی شناخت ’ایم ایس سی یونائیٹڈ‘ کے طور پر کی اور کہا کہ ’تنبیہہ کے باوجود عملے کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا جس کے بعد حملہ کیا گیا۔‘یحییٰ ساریا نے مزید کہا کہ ’حوثیوں نے اسرائیل میں ’ایلات‘ اور دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن کیا ہے،‘ اُنہوں نے اِن جگہوں کو فلسطین کے مقبوضہ علاقے قرار دیا ہے۔

حوثیوں کے ترجمان یحییٰ ساریا نے اپنے خطاب میں یہ واضح نہیں کیا کہ آیا کسی ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

’امریکی لڑاکا طیارے اور بحری جنگی جہاز نے بحیرہ احمر میں حوثیوں کے 12 ڈرون مار گرائے‘ (فائل فوٹو: گیٹی امیجز)

امریکہ کی سینٹرل کمان نے ایک بیان کہا ہے کہ ’امریکی لڑاکا طیارے اور بحری جنگی جہاز نے بحیرہ احمر میں 12 ڈرون مار گرائے جبکہ تین اینٹی شپ بیلسٹک میزائل اور حوثیوں کی طرف سے داغے گئے دو کروز میزائل بھی تباہ کیے۔‘ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سینٹرل کمانڈ نے مزید لکھا کہ ’حوثیوں کے ان حملوں میں جہازوں کو کوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع ہے۔‘

یمن کی حوثی ملیشیا، جو دارالحکومت سمیت ملک کے بیشتر حصے پر قابض ہے، اکتوبر سے غزہ میں جاری لڑائی میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر کئی حملے کر چکی ہے۔‘اس حوالے سے حوثیوں کا کہنا ہے کہ ’جن تجارتی کمپنیوں کے یہ مال بردار جہاز ہیں اُن کے اسرائیل کے ساتھ روابط ہیں یا یہ بحری جہاز اسرائیل کے لیے سامان لے کر جاتے ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More