ترکیہ میں زلزلے سے قبل پیشگوئی کرنیوالے ڈچ سائنسدان نے پاکستان میں آئندہ 48 گھنٹوں میں طاقتور زلزلے کی پیشگوئی کی ہے جس کی شدت 6 یا اس سے زائد ہو سکتی ہے۔
زلزلہ پیما ریسرچ انسٹیٹیوٹ سولر سسٹم جیومیٹری سروے نے چمن فالٹ لائن کو انتہائی طاقتور ممکنہ زلزلہ کا ریجن قرار دیتے ہوئے سطح سمندر کے قریب فضا میں برقی چارج کے اتار چڑھاؤ کی اطلاع دی ہے، جس کی وجہ سے نقشے میں جامنی رنگ والے علاقوں بشمول بلوچستان میں آئندہ چند روز میں طاقتور زلزلہ آ سکتا ہے۔
یہ خبر وائرل ہوتے ہی ہر کوئی اضطراب میں مبتلا ہے کہ کیا واقعی پاکستان کو ایک خوفناک زلزلے کا سامنا ہے تاہم پاکستان کے نیشنل سسمک مانیٹرنگ سنٹر کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ یہ بات صرف پیشگوئیوں کی حد تک ہے یا پھر پاکستان کو واقعی کسی بڑے زلزلے سے خطرہ ہے۔
یاد رہےکہ 6 فروری 2023ء کو دو طاقتور زلزلے جنوبی اور وسطی ترکیہ میں آئے۔ پہلا واقعہ غازی انتیپ شہر کے مغرب میں پیش آیا، جس سے ترکیہ اور سوریہ میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ پہلے زلزلے کو 1939ء کے ایرزنکن کے زلزلے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جو کہ ترکیہ کو ٹکرانے والے سب سے طاقتور آلاتی طور پر ریکارڈ کیا گیا زلزلہ تھا۔
پہلے زلزلے کے بعد متعدد آفٹر شاکس آئے جن میں سے سب سے زیادہ شدت 6.7 میگاواٹ تھی۔ دوسرا زلزلہ 9 گھنٹے بعد قہرمان مرعش شہر میں آیا، جس کی زیادہ سے زیادہ مرکلی شدت بھی IX تھی اور اس کی شدت ایم ڈبلیو ڈبلیو 7.5 تھی۔ ترکیہ کے 10 صوبوں میں زلزلے کی وجہ سے تقریباً 43ہزار 550 اموات ہوئیں اور لاکھوں افراد زخمی ہوئے تھے۔