پاکستان میں بجلی انتہائی مہنگی ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، حکومت عوام کو ریلیف دینے کی پوری کوشش کے باوجود تاحال کوئی اہم فیصلہ نہیں کرسکی، اس لئے اب مہنگی بجلی بچانے کیلئے ملک بھر میں دکانیں اور کاروبار مغرب کے وقت بند کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
وزارتِ توانائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کاروبار جلدی بند کرنے کی تجویز پر یکم اکتوبر سے 15 فروری تک عمل درآمد کا امکان ہے جبکہ تجویز پر چاروں صوبائی حکومتوں کو عمل کرنے کا کہا جائے گا۔
بااخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے قانون سازی کا مسودہ بھی تیار کیا جا رہا۔اس اقدام سے روزانہ 1500 میگا واٹ سے زائد بجلی کی بچت ہوگی۔تجویز پر عمل درآمد کے لیے تمام چیمبرز آف فیڈریشن اور تاجر تنظیموں سے مشاورت شروع ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے تقریباً تمام شہروں میں بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے احتجاج کیا جارہا ہے اور بیشتر شہروں میں بل ادا نہ کرنے کی تحاریک بھی جاری ہیں۔
حکومت نے آئی ایم ایف سے بجلی صارفین کو ریلیف دینے کیلئے رجوع کیا تھا تاہم آئی ایم ایف نے حکومتی درخواست کو مستردکردیا تھا۔
گزشتہ روزحکومت نے بجلی کی چوری روکنے کے حوالے سے کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجلی کی چوری ختم ہونے تک سستی بجلی کی فراہمی نہ ممکن ہے اور اب ملک میں کاروبار جلدی بند کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔