کشمیر کے تعلیمی اداروں میں طلبا اور خواتین اساتذہ کے لیے حجاب لازمی قرار

اردو نیوز  |  Mar 06, 2023

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں حکومت نے طالبات اور خواتین اساتذہ کے لیے حجاب پہننے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ’مشاہدے میں آیا ہے کہ جن ادارہ جات میں مخلوط نظام تعلیم رائج ہے ان میں طالبات اور معلمات کو حجاب کی پابندی نہیں کروائی جاتی۔‘

ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بمطابق جاری شدہ ہدایات جن ادارہ جات میں مخلوط نظام تعلیم رائج ہے ان میں طالبات اور معلمات کو سختی سے حجاب پہننے کا پابندی کیا جائے۔‘

محکمہ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ جن اداروں میں ہدایات کی خلاف ورزی ہو گی وہاں ادارے کے سربراہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی جانب سے جاری سرکلر کو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا جا رہا ہے اور صارفین اس پر تبصرے بھی کر رہے ہیں۔

کشمیری صحافی جلال الدین مغل نے حکومتی سرکلر شیئر کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’مرد اساتذہ اور طلبا کے بارے میں سرکاری حکم نامے میں کوئی وضاحت شامل نہیں۔‘

آزاد کشمیر میں سرکاری حکم نامے کے ذریعے تعلمی اداروں میں طالبات اور استانیوں پر حجاب کی پابندی عائد کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ادارے کے سربراہ کے خلاف کاروائی ہو گی۔ مرد اساتذہ اور طلباء کے بارے میں سرکاری حکم نامے میں کوئی وضاحت شامل نہیں۔ pic.twitter.com/r4q6h1XZ1C

— Jalaluddin Mughal (@Jalalmughal) March 5, 2023

پاکستانی صحافی انصار عباسی نے حکومت کے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’بہت اچھا فیصلہ ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی یہ فیصلہ کرنا چاہیے۔‘

آزاد کشمیر حکومت نے مخلوط تعلیمی اداروں میں حجاب کی پابندی کا حکم دیا ہے، جیو نیوز

بہت اچھا فیصلہ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی یہ فیصلہ کرنا چاہیے۔

— Ansar Abbasi (@AnsarAAbbasi) March 6, 2023

ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی کارکن نگہت داد نے حکومتی شخصیات پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’عورتوں کے بارے میں تاریخی فیصلے کرنے والے کمزور آدمی۔ جب او کچھ تاریخی نہ کر پائیں تو عورتوں کی ذاتی زندگی کے بارے میں مجموعی فیصلے کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔‘

عورتوں کے بارے میں تاریخی فیصلے کرنے والے کمزور آدمی - جب اور کچھ تاریخی نہ کر پائیں تو عورتوں کی ذاتی زندگی کے بارے میں مجموعی فیصلے کرنا شروع ہوجاتیں ہیں کیونکہ چورن تو یہی بکتا ہے pic.twitter.com/tSXWgN6rnw

— Nighat Dad (@nighatdad) March 6, 2023

وہ تعلیمی ادارے جہاں صرف لڑکیاں زیر تعلیم ہیں وہاں اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More