الیکشن کمیشن نے صوبہ پنجاب میں انتخابات کے لیے صدر مملکت کو 30 اپریل سے سات مئی تک کی تاریخیں تجویز کر دی ہیں۔جمعے کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو خط لکھا ہے جس میں صوبہ پنجاب میں انتخابات کے لیے 30 اپریل سے سات مئی تک کی تاریخیں تجویز کی ہیں۔پریس ریلیز کے مطابق جمعے کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا جس میں الیکشن کمیشن کے ممبران کے علاوہ سینیئر افسران نے شرکت کی۔’صدر مملکت کی طرف سے تاریخ کے انتخاب کے بعد الیکشن کمیشن اپنے آئینی اور قانونی فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہے۔‘پریس ریلیز میں مزید کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے گورنر خیبر پختونخوا کو بھی مراسلہ بھیجا ہے جس میں تحریر کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں الیکشن کمیشن جواب کا منتظر ہے۔دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کا حکم دیتے ہوئے شیڈول معطل کر دیا ہے۔جمعے کو سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کی منظوری اور ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنایا ہے۔ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس سید ارشد علی نے کیس کی سماعت کی۔عدالت نے قومی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کا حکم دیتے ہوئے 16 اور 19 مارچ کو ہونے والے انتخابات کا شیڈول معطل کر دیا ہے۔خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی کُل 24 نشستوں پر ضمنی انتخابت ہونے تھے۔تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر گوہر خان نے موقف اپنایا کہ بغیر ویریفکیشن ممبران کے استعفے منظور کیے، جب پی ٹی آئی قیادت نے 123 ممبران کے استعفے ایک ساتھ منظور کرنے کا کہا تو اس وقت سپیکر نے منظور نہیں کیے۔انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے خود کہا تھا کہ ایک ایک رکن کو بلا کر ویریفکیشن کی جائے گے جس کے بعد استعفے منظور کیے جائیں گے۔