اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ، عدالتوں کے قریب مظاہروں پر پابندی

اردو نیوز  |  Mar 02, 2023

اسلام آباد میں قائم عدالتوں کے گرد و نواح میں مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد پولیس نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔عدالتوں کے احاطے میں صرف وکلا، صحافیوں اور زِیرسماعت مقدمات سے متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

’دہشت گردی اور دیگر خطرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔‘

خیال رہے کہ دو روز قبل منگل کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں اُن کے خلاف دہشت گردی اور کارِ سرکار میں مداخلت کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔

اس دوران پی ٹی آئی کارکنوں کی دھکم پیل کے دوران اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس کے دروازوں کو نقصان پہنچا تھا۔

پولیس نے جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔

وفاقی دارالحکومت کی عدالتوں کی سیکیورٹی ۔

اسلام آباد میں قائم عدالتوں کے گرد و نواح میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔عدالتوں کے احاطے میں صرف وکلاء، صحافیوں اور زیر سماعت مقدمات سے متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

— Islamabad Police (@ICT_Police) March 2, 2023

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ’مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا۔‘

پولیس کا کہنا تھا کہ ’ہجوم میں سے کلاشنکوف اور دیگر اسلحے سمیت افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔‘

ترجمان اسلام آباد پولیس کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک منصوبے کے تحت جوڈیشل کمپلیکس اور ہائی کورٹ پر حملے کی کوشش کی گئی۔‘

اسلام آباد پولیس کے مطابق ’اس حوالے سے 25 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مختلف صوبوں میں ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔‘

’ایک سیاسی جماعت کے رہنما ہجوم کی قیادت کررہے تھے جنہوں نے عوام کو نقصان کے لیے اُکسایا اور توڑ پھوڑ کے لیے آمادہ کیا۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More