اٹلی کشتی حادثہ، پاکستانیوں کی ہلاکت کی اطلاعات پر حقائق سامنے لانے کا حکم

اردو نیوز  |  Feb 27, 2023

وزیراعظم شہباز شریف نے اٹلی میں کشتی کے حادثے میں پاکستانیوں کی ہلاکت کے حوالے سے رپورٹس سامنے انے کے بعد حقائق سامنے لانے کا حکم دیا ہے۔

پیر کو ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ ’اٹلی میں کشتی کے حادثے میں 24 سے زائد پاکستانیوں کی ہلاکت کی رپورٹس گہرے دکھ اور تشویش کا باعث ہیں۔ میں نے دفتر خارجہ کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ جلد از جلد حقائق تک پہنچا جائے اور قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔‘

اتوار کو اٹلی کے ساحلی شہر کروٹون کے قریب تارکین وطن کی ایک کشتی الٹنے سے کم از کم 59 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کشتی کے حادثے کی خبر آنے کے کچھ دیر بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی تھی کہ ہلاک ہونے والوں میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔

اتوار کی رات ایک ٹویٹ میں دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’ہم اٹلی کے ساحل پر ڈوب جانے والی کشتی میں پاکستانیوں کی موجودگی کے امکانات سے متعلق اطلاعات کا غور سے جائزہ لے رہے ہیں۔‘

حادثے کے بعد کروٹون کے ریسکیو سینٹر کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں 12 بچے اور 33 خواتین بھی شامل ہیں۔

اطالوی کوسٹ گارڈ کے مطابق گنجائش سے زیادہ مسافروں کو لے جانے والی کشتی کروٹون کے ساحل سے دور سمندر کی بپھرے لہروں کی وجہ سے الٹ گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ شدید لہروں کے باعث امدادی کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔

کشتی کا حادثہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کچھ ہی دن قبل اٹلی کی دائیں بازو کی سخت گیر حکومت نے تارکین وطن کو بچانے کے ایک متنازع نئے قانون کے مسودے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے۔

اتوار کو ہونے والے حادثے میں 59 افراد کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی تھی (فائل فوٹو: عرب نیوز)انتہائی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والی صدر جارجیا میلونی نے گزشتہ برس اکتوبر میں اقتدار حاصل کیا تھا۔ ان کی جماعت نے ووٹرز کے سامنے اپنے منشور میں غیرقانونی تارکین وطن کو آنے سے روکنے کا وعدہ کیا تھا۔

نئے قانون کے تحت امدادی کارکن ایک وقت میں تارکین وطن کی متاثرہ کشتیوں میں سے صرف ایک کو بچانے کوشش کریں گے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے بعد وسطی بحیرہ روم میں ڈوبنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

یورپ میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے اس راستے کو دنیا کی خطرناک کراسنگ سمجھا جاتا ہے۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More