پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ’جیل بھرو تحریک‘ اب عمران خان کے لیے ’ڈوب مرو تحریک‘ بن چکی ہے۔وزیر داخلہ نے اتوار کو فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ خود کہتے ہیں کہ ہم نے جیل میں جانا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ہم آپ کو جیلوں کی سیر کروا رہے ہیں تاکہ آپ کو جیلوں کے حالات کا پتا چلے۔ پہلے دور دراز کی جیلیں بھریں گے اور پھر قریبی جیلوں میں بھیجیں گے۔ ابھی ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، لیہ اور راجن پور کی جیلوں میں کافی گنجائش ہے۔‘انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’ہم نے کسی بھی جج کے بارے میں نہیں کہا کہ یہ آڈیو اس کی ہے۔ ہم کہتے ہیں پرویز الٰہی کی آڈیو کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔‘تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک کے سلسلے میں لاہور اور راولپنڈی میں گرفتاریاں ہوئی ہیں تاہم پشاور میں معاملہ صرف احتجاج تک محدود رہا۔پہلے روز بدھ جو لاہور سے شاہ محمود قریشی، اسد عمر، اعظم سواتی سمیت 70 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر کے کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا۔بعدازاں تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی رہنماؤں کو لاہور کی بجائے دور دراز کی جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب گرفتار رہنماؤں کی ضمانے کے لیے عدالتی چارہ جوئی بھی کی گئی۔جمعرات کو پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی قیادت اور کارکنوں نے تین گھنٹے تک سینٹرل جیل پشاور کے باہر احتجاج کیا مگر گرفتاری نہ دی۔ اس کے اگلے روز جمعے کو پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنان نے راولپنڈی کے کمیٹی چوک پر احتجاج کے بعد گرفتاریاں دیں۔راولپنڈی سے گرفتار ہونے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں میں میں زلفی بخاری، صداقت علی عباسی، میجر لطاسب ستی، فیاض الحسن چوہان، واثق قیوم اور اعجاز خان اعجازی شامل ہیں جنہیں اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے۔