بارکھان واقعہ: بازیاب لڑکی سے جنسی زیادتی کے شواہد ملے: پولیس سرجن

اردو نیوز  |  Feb 26, 2023

بلوچستان کے ضلع بارکھان میں مبینہ طور پر صوبائی وزیر کی نجی جیل سے بازیاب ہونے والی خاتون اور ان کے بچوں کا طبی معائنہ کیا گیا ہے۔

سنیچر کو سول ہسپتال کوئٹہ کے طبی معائنے کے بعد پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ ’خان محمد مری کی 17 سالہ بیٹی فرزانہ سے جنسی زیادتی کے شواہد ملے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ خان محمد مری کی اہلیہ، بیٹی اور دو بیٹوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے گئے ہیں۔

پولیس سرجن کے مطابق ’50 سالہ گراں ناز کے ساتھ زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔ ان پر صرف جسمانی تشدد کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’خان محمد مری کی بیٹی کے بائیں پاؤں پر سگریٹ کے جلنے کے نشانات بھی ہیں۔‘

’خان محمد مری کے دو بیٹوں نے بھی جنسی ذیادتی کیے جانے کا بیان دیا تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔‘

ڈاکٹر عائشہ فیض نے مزید بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے حاصل کئے گئے نمونے پنجاب فرانزک بھیجے گئے ہیں۔

بارکھان سے ملنے والی 17 سالہ لڑکی کو لاوارث قرار دے کر دفن کردیا گیا

ادھر بارکھان سے 20 فروری کو ملنے والی 17 سالہ لڑکی کو لاوارث قرار دے کر کوئٹہ کے قریب ضلع مستونگ کے علاقے دشت کے ایدھی قبرستان میں امانتاً دفن کردیا گیا۔

17 سالہ لڑکی کو لاوارث قرار دے کر مستونگ کے علاقے دشت کے ایدھی قبرستان میں امانتاً دفن کردیا گیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کے مطابق ’خود کو لڑکی کا رشتہ دار کہنے والا ایک شخص لاش لینے ہسپتال پہنچا تھا، انہیں کرائم برانچ پولیس سے رابطہ کرنے کا کہا گیا۔‘

تاہم چند گھنٹے بعد پولیس نے لاش کو لاوارث قرار دے کر فلاحی تنظیم ایدھی کے حوالے کردیا تاکہ انہیں دفنایا جاسکے۔

خان محمد مری کی اہلیہ گراں ناز نے الزام لگایا تھا کہ ’مقتولہ لڑکی بھی ان کے ساتھ صوبائی وزیر کی نجی جیل میں قید تھی جس کا نام امیرہ بی بی تھا، ان کے والدین وفات پاچکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس یتیم لڑکی کی صوبائی وزیر کے ملازم سے شادی کروائی گئی تھی لیکن اس کے باوجود لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بھی بنایا جاتا تھا۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More