پاکستانی معیشت صرف آئی ایم ایف قرض سے بحال نہیں ہو سکتی، موڈیز کی اقتصادی ماہر

ہم نیوز  |  Feb 15, 2023

واشنگٹن: ممتاز عالمی ماہر اقتصادیات و معاشیات کترینہ ایل نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی معیشت صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) قرض سے بحال نہیں ہو سکتی ہے۔

برطانوی خببر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق موڈیز کی ماہر اقتصایات نے ایک انٹرویو میں پیشن گوئی کی ہے کہ سال رواں کے ابتدائی چھ ماہ میں پاکستان میں افراط زر کی شرح 33 فیصد کی بلند ترین سطح تک جانے کا امکان ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو درحقیقت مستحکم میکرو اکنامک مینجمنٹ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

کترینہ ایل نے کہا کہ پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے صرف آئی ایم ایف کا بیل آؤٹ پیکج ہرگز کافی نہیں ہو گا، معشیت کو ٹریک پر لانے کے لیے مسلسل اور مضبوط معاشی طریقہ کار کی ضرورت ہے، آئندہ بھی سخت ترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، مالی سال 2024 میں بھی مالیاتی و معاشی بحران اسی طرح جاری رہنے کا امکان ہے۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بلند ترین افراط زر کی وجہ سے کم آمدنی والے لوگ اور خاندان سخت مشکلات سے دوچار ہوں گے، اس وقت بھی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں مگر کم آمدنی والے گھرانے انہیں خریدنے سے انکار نہیں کرسکتے ہیں، انتہائی مہنگی خوراک لینے پہ مجبور ہیں، جنوری میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں سالانہ 27.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو موجودہ نصف صدی میں بلند ترین سطح پر ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عالمی ماہر اقتصادیات کترینہ ایل نے کہا کہ بہتری فوراً ہرگز نہیں آسکتی ہے، راتوں رات کچھ تبدیل نہیں ہوگا، پاکستان کا اس سے قبل بھی ٹریک ریکارڈ کوئی بہت زیادہ اچھا نہیں ہے، صرف اضافی فنڈز جمع کرنے سے بہت زیادہ فائدہ نہیں ملے گا۔

موڈیز کی ماہر اقتصادیات کترینہ ایل نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ملکی کرنسی کمزور ہے جس کی وجہ سے درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی عروج پر ہی رہنے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ موڈیز کے مطابق 2023 میں معاشی ترقی کی شرح 2.1 فیصد کے ارد گرد رہنے کا امکان ہے۔

ٹیکس بڑھانا ہو گا، سبسڈی ختم یا کم، آئی ایم ایف اعلامیہ

آئی ایم ایف سے نویں جائزے پر اتفاق کے بعد پروگرام کی بحالی سے پاکستان کو 2.5 ارب ڈالرز کے پیکج میں سے 1.1 ارب ڈالرز کی قسط جاری ہونے کا امکان ہے جس کا معاہدہ جون 2019 میں ہوا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More