BBC
’اس وقت پنجاب سے آٹا اور گندم آنا بند ہے۔ کچھ عرصہ آتا رہا، اب پچھلے بیس دنوں سے بالکل بند ہے۔ حکومتِ بلوچستان شور مچا رہی ہے کہ آٹا دے دیں لیکن کہیں سے کچھ جواب نہیں مل رہا ہے۔ ایسی صورت میں ایرانی بارڈر سے آنے والے آٹے سے کام چل رہا ہے۔‘
گوادر سے تعلق رکھنے والے میر بہرام بلوچ بتاتے ہیں کہ یہاں ایران سے سمگل ہو کر پہنچنے والا آٹا بھی ’کبھی کبھار کم پڑ جاتا ہے۔‘
بہرام اور ان کا خاندان آٹے کی کم از کم دو بوریاں جمع کر کے رکھتے ہیں لیکن تین ماہ سے ایک بوری لانے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایران سے آٹا آنے کے بعد اب حالات کچھ حد تک بہتر ہیں۔ لیکن یہ بھی کبھی کبھار کم آتا ہے کیونکہ ایران میں انتظامیہ لوگوں پر پابندی لگا دیتی ہے۔
’ہمیں تو صرف بچوں کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ رات کو انھیں روٹی ملے گی یا نہیں۔‘
پاکستان میں آٹے کا بحران آتے ہی صوبے اور خاص طور سے گوادر کے تاجروں نے مختلف راستوں سے سستا آٹا منگوانا شروع کر دیا ہے۔ اس کی ایک مثال گوادر کے حالیہ دورے کے دوران دیکھنے میں آئی۔
یہاں پر ایرانی بارڈر نزدیک ہونے کے نتیجے میں پچھلے تین ماہ سے ایرانی آٹا پہنچ رہا ہے۔ یہ عمومی طور پر غیر قانونی راستے سے گوادر پہنچتا ہے لیکن تاجروں کے مطابق یہ یہاں کے عوام کو ریلیف دیتا ہے۔
BBC
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر ناصر خان نے بتایا کہ ’آٹے پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ اور اس کی امپورٹ پر بھی پابندی ہے کیونکہ یہ بنیادی ضرورت کی اشیا میں شامل ہے۔
’لیکن سندھ اور پنجاب کے ضلعی راستے بند ہونے کی وجہ سے پاکستان کے باقی صوبوں کی طرح یہاں بھی بحران کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں اگر لوگ ایران سے آٹا منگوا رہے ہیں تو کیوں نہیں؟‘
اس وقت کراچی سے بھی آٹا گوادر پہنچ رہا ہے جو تقریباً 150 روپے فی کلو کے حساب سے مل رہا ہے لیکن اب بھی چند لوگ ہیں جو تاجران کے گودام تک پہنچ کر ایرانی آٹے کا ہی پوچھتے ہیں۔
بہرام نے بتایا کہ ’اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ایرانی آٹا چکّی کا ہوتا ہے اور طبیعت پر گراں نہیں پڑتا۔ جبکہ یہاں کراچی سے پہنچنے والا آٹا ضرورت سے زیادہ ریفائن کیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شاید کچھ لوگوں کو پسند آئے لیکن میرے خاندان کے لیے میں نہیں لیتا۔‘
گوادر کے ایک گودام کے سامنے نیلے رنگ کی گاڑیاں یا پِک اپ ٹرک یہ بوریاں لاتی ہیں۔ ان پِک اپ ٹرکس کا قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس میں ایک وقت میں صرف 25 بوریاں آ سکتی ہیں اور کیونکہ یہ سامان غیر قانونی راستے، لیکن بلوچستان انتظامیہ کے سامنے سے، آتا ہے اس لیے ان گاڑیوں کو نہیں روکا جاتا۔
اس وقت پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر کچھ لوگ جس قسم کا آٹا مارکیٹ سے مل سکتا ہے، لے لیتے ہیں۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ بلوچستان سے متصل ایران کے بارڈر سے اشیا خورد و نوش آنے کی بات چھڑی ہو۔ لیکن وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اس سرحد پر باقاعدہ طور پر تجارت فعال نہیں؟
BBC
صوبائی حکومت کے ترجمان بتاتے ہیں کہ معاملات کچھ حد تک پیچیدہ ہیں۔
اپریل 2021 میں حکومتِ پاکستان اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا تھا۔ اس معاہدے کا پسِ منظر یہی تھا کہ چونکہ ایران کی سرحد پر باڑ لگائی جا رہی ہے اس کے نتیجے میں ایران سے متصل بلوچستان کے اضلاع کا روزگار متاثر نہ ہو جائے۔
یہ جو ایک انفارمل تجارت دونوں ممالک کے درمیان جاری ہے وہ ایک فارمل شکل اختیار کر لے۔
بلوچستان کی صوبائی حکومت سے وابستہ سیکریٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس عابد سلیم نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کی سرحد پر اس طرح کی تین مارکیٹس بن رہی ہیں اور باقی تین دوسرے مرحلے میں بنیں گی۔
ان تین میں سے ایک تربت سے آگے مند کے مقام پر مکمل ہو گئی ہے۔ جبکہ اس کی افتتاحی تقریب بھی پلان ہو رہی ہے۔ اسے مند-پشین جوائنٹ بارڈر مارکیٹ کہتے ہیں۔ ’دوسری بارڈر مارکیٹ بن رہی ہے پنجگور میں، چیدگی-کوہاک مارکیٹ، پاکستان کی طرف چیدگی ہے اور ایران کی طرف کوہاک ہے۔ یہ مارکیٹ بھی تکمیل ہونے والی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
25 کی روٹی، 30 روپے کا نان: پاکستان میں آٹا غریب کی پہنچ سے باہر کیوں؟
’وہ آٹا نہیں مل رہا جس کے لیے روزانہ مزدوری چھوڑتا ہوں‘
’ہم ٹرالر مافیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے، ان کے پاس بندوقیں ہوتی ہیں‘
ان کے مطابق تیسری مارکیٹ گوادر کی طرف بن رہی ہے جسے گبد – ریمدان بارڈر کہتے ہیں۔ یہاں پر بارٹر ٹریڈ ہوگی جس کا مطلب ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو سامان کے بدلے سامان دیں گے۔
دونوں جانب سرحد پر تاجر یا دکاندار اپنا سامان لے کر بیٹھیں گے اور ہفتے میں تین یا چار دن ایسا ہوا کرے گا۔ اس وقت جن اشیا کو بارٹر کرنے کی بات ہورہی ہے، ان میں آٹا بھی شامل ہے۔
حال ہی میں پاکستان اور ایران کے درمیان مزید 39 یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے زاہدان اور کوئٹہ چیمبرز کے درمیان بھی معاہدوں پر دستخظ ہوئے تھے۔
BBC
عابد سلیم نے بتایا کہ ’اس دوران حکومتِ پاکستان نے کوئٹہ چیمبر کی پشت پناہی کرتے ہوئے انھیں پورا سسٹم تیار کرکے دیا، جن میں قواعد و ضوابط کے ساتھ یہ بات بھی شامل تھی کہ کس طرح سے تجارت ہو گی۔
’لیکن زاہدان سے آنے والے چیمبر کا ایران کی حکومت نے ساتھ نہیں دیا۔ جس کے نتیجے میں جس طرح کی تجارت کی ہم لوگ توقع کر رہے تھے وہ ابھی تک شروع نہیں ہوئی ہے۔‘
اس تاخیر کی ایک وجہ ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان کے شہر زاہدان میں جاری احتجاج ہیں۔ تاجر بتاتے ہیں کہ معاہدوں پر بات چیت مکمل ہونے کے بعد احتجاج میں جب تیزی آئی تو زاہدان میں موبائل نیٹ ورک اور واٹس ایپ بند ہونے کی وجہ سے کسی سے بات نہیں ہو سکی۔
سیکریٹری انڈسٹریز عابد نے بتایا کہ ’تاثر یہی مل رہا ہے کہ تہران زاہدان چیمبر کے ساتھ کوئٹہ چیمبر کے تجارتی معاہدے آگے نہیں بڑھانا چاہتا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان بارڈر کراسنگ پوائنٹس بھی بنے ہوئے ہیں جن کا مطلب ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو اور کسٹم ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم یہاں موجود ہوتی ہیں۔ اور جو بھی سامان اس وقت ایران سے پاکستان آرہا ہے اس پر ٹیکس لگ رہا ہے۔ جن میں بسکٹ، دہی، دودھ، کھانا پکانے والا آئل وغیرہ شامل ہے۔ ان چیزوں میں ابھی تک آٹا شامل نہیں ہے۔
عابد سلیم نے کہا کہ ایران میں ایک صوبے سے دوسرے صوبے تک بھی آٹا خاصا ریگولیٹ ہوکر آتا ہے۔ ’تو اس آٹے کا پاکستان آنا دور کی بات ہے۔‘
لیکن گوادر کے انجمن تاجران کے صدر غلام حسین دشتی نے بتایا کہ اس وقت ایران سے آٹا آ رہا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت غیر قانونی راستوں سے آٹا پہنچ رہا ہے لیکن ماضی میں ایران سے آنے والی چیزوں کے مقابلے میں اس آٹے کی مقدار کم ہے۔
BBC
’ہم لوگ تقریباً 20 سے 25 آٹے کی بوریاں منگوا رہے ہیں۔ اور ایسا پچھلے دو تین ماہ سے کر رہے ہیں۔ اور کیوں نہ منگوائیں جب یہی آٹا ہمیں ایران سے 22 روپے فی کلو مل رہا ہے جسے ہم یہاں پر 95 روپے فی کلو بیچتے ہیں اور یہاں پر 150 روپے فی کلو مل رہا ہے۔ تو آپ خود سوچ لیں، جسے کھانا کھانا ہے وہ کم قیمت والا ہی کھائے گا۔‘
ایف پی سی سی آئی کہ ناصر خان نے کہا کہ پچھلے دو سال سے گندم کی فصل کم ہو رہی ہے۔ ’عمران خان صاحب کے دورِ حکومت سے انھوں نے امپورٹ شروع کر دی تھی۔ لیکن حکومت نے جب دیکھا کہ عالمی منڈی میں ریٹ بڑھ گئے ہیں تو انھوں نے امپورٹ بند کر دی۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں اس سے گندم کی فصل کو مزید نقصان پہنچا۔ ’یہاں آنے والا آٹا تاجکستان سے ایران، ایران سے پاکستان اور پھر افغانستان پہنچتا ہے۔ اور اسی طرح ایران اور افغانستان سے بھی پاکستان آتا ہے۔‘
پنجاب میں آٹے کی قیمت میں اضافے کے بعد وہاں سے آٹا آنا بند ہوگیا۔ ناصر خان نے کہا کہ ’ایسے میں ہمارے چند ایسے بھی ڈیلرز ہیں جو اس پابندی والے آٹے کے ٹرک کو 50000 روپے سے ڈیڑھ لاکھ روپے رشوت دے کر بلوچستان میں لے کر آئے۔ اب جب یہ بند ہوگا تو ایران سے آٹے کو ترجیح دی جائے گی۔‘