Reuters
کیلیفورنیا کے شہر مونٹیری پارک میں فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید 10 افراد زخمی ہیں اور ملزم تاحال فرار ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ مانیٹری پارک کے بال روم ڈانس سٹوڈیو میں سنیچر کی رات دس بجے ہوا جو لاس اینجلس سے تقریباً 13 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔
نئے قمری سال کی خوشیاں منانے کے سلسلے میں اس سالانہ میلے میں ہزاروں امریکی شہری اس پارک میں جمع ہوئے تھے جن میں سے کئی کا تعلق ایشیائی کمیونٹی سے تھا۔
لاس اینجلس کاؤنٹی شیرف آفس کا کہنا ہے کہ وہ ایک مرد مشتبہ شخص کی تلاش کر رہے ہیں جو جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا لیکن اس کے بارے میں کوئی اور تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
کیپٹن اینڈریو میئر نے بتایا کہ ایمرجنسی سروسز والے کارکن جب جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں لوگوں کو ’چیختے ہوئے‘ سنا۔
اس کے بعد افسران نے 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ کم از کم 10 دیگر زخمی ہوئے ہیں جنھیں مقامی ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے مقصد کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا اس واقعے کو نفرت انگیز جرم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انھوں نے تصدیق کی کہ اتوار کے قمری سال کے تہوار کی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔
EPA
کیپٹن میئر نے مزید کہا کہ پولیس مونٹیری پارک کے شمال میں ایک مضافاتی علاقے الہمبرا میں ہونے والے واقعے سے آگاہ ہے، لیکن انھوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔
انھوں نے کہا ’ہمارے تفتیش کار جائے وقوعہ پر ہیں جو یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان دونوں واقعات کے درمیان کوئی تعلق ہے۔‘
سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا کہ الحمبرا میں دوسرے مقام پر کوئی زخمی نہیں ہوا لیکن پولیس جائے وقوعہ پر موجود ہے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں شہر میں پولیس کی بھاری نفری کو دکھایا گیا ہے، جو لاس اینجلس سے تقریباً آٹھ میل (13 کلومیٹر) مشرق میں واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سویڈن میں قرآن نذرِ آتش کرنے کا واقعہ: ترکی اور پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک کا سخت ردعمل
کیا پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے؟
’بندوق بردار نے ایشیائی امریکیوں پر کئی راؤنڈ فائر کیے‘
لاس اینجلس ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ تین لوگ ان کے ریستوران میں دوڑتے ہوئے آئے اور ان سے کہا کہ دروازہ بند کر لو کیونکہ اس علاقے میں ایک شخص کے پاس مشین گن موجود ہے۔
اخبار کے ایک رپورٹر جیونگ پارک نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعہ قریبی ڈانس سٹوڈیو میں ہوا ہے جہاں ایک بندوق بردار آیا جس کو ایک عینی شاہد نے مشین گن کے طور پر بیان کیا، ایک خودکار قسم کی بندوق جس نے زیادہ تر ایشیائی امریکیوں پر کئی راؤنڈ فائر کیے۔
ایک عینی شاہد نے جیونگ کو بتایا کہ چند منٹ بعد وہ کار میں فرار ہو گیا۔
میلے میں شریک دیگر افراد کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسی آوازیں سنی ہیں جو آتش بازی کی لگتی ہیں، جو انھیں غیر معمولی لگیں۔
ایک شخص گیبریل نے رؤئٹرز کو بتایا ’جب میں نے ہیلی کاپٹر کی آواز سنی تو تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ آتش بازی نہیں تھی۔ کیونکہ ہمارے یہاں کبھی ہیلی کاپٹر نہیں ہوتے۔‘
مونٹیری پارک میں سالانہ قمری نئے سال کا تہوار ایک ہفتے کے آخر تک جاری رہنے والا ایونٹ ہے جس میں گذشتہ سال ایک لاکھ سے زیادہ افراد شریک ہوئے تھے۔
سنیچر کی رات کی تقریبات مقامی وقت کے مطابق 21:00 بجے ختم ہونے والی تھیں۔
مونٹیری پارک کی آبادی تقریباً 60,000 افراد پر مشتمل ہے اور یہاں ایشیائی کمیونٹی آباد ہے۔