لاہور ہائی کورٹ نے سفید کاغذ کے صرف ایک حصے کو استعمال کر کے دوسرا حصہ ضائع کرنے پر نوٹس لے لیا، اب سفید کاغذ کا بے جا استعمال نہیں کیا جا سکے گا، عدالت کا حکم۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے سرکاری اداروں میں سفید کاغذ دونوں جانب سے استعمال نہ کرنے سے متعلق ابوذر سلمان خان نیازی ایڈووکیٹ کی درخواست کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کاغذ کے بے جا استعمال پر نوٹس لے لیا، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت سفید کاغذ کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے لئے اقدامات کرے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کاغذ کے زیادہ استعمال کی وجہ سے درختوں کی کٹائی میں اضافہ ہورہا ہے، جو کہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن سکتا ہے، جب دونوں جانب سے کاغذ کا استعمال نہیں ہوگا تو کاغذ ضائع ہوگا اور اس سے کاغذ کی ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ درختوں کی کٹائی میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ یہ معاملہ مفادِ عامہ کے لئے بہت اہم ہے اور لوگوں کو اس سے متعلق آگاہی دینا بھی بہت ضروری ہے۔
واضح رہے کہ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سرکاری اداروں سمیت عدالتوں میں بھی کاغذ کے دونوں جانب سے استعمال کا حکم نامہ جاری کیا جائے، تاکہ سفید کاغذ کا ضائع کرنا ماحولیاتی آلودگی کا سبب نہ بنے، جس پر عدالت نے ایکشن لیتے ہوئے وفاقی حکومت کو سفید کاغذ کے غیر ضروری استعمال سے روکنے کا حکم دے دیا۔