رمضان نے بھی ہمارا کیا بگاڑ لیا

،تصویر کا ذریعہsocial media
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, تجزیہ کار
چار پانچ برس کی عمر تک مجھے بس یہی معلوم تھا کہ بچوں کا روزہ بڑوں سے الگ ہوتا ہے۔ بچے ایک افطار دوپہر میں اور ایک شام میں بڑوں کے ساتھ کر سکتے ہیں اور جب پیاس لگے تو پانی بھی پی سکتے ہیں۔ اس طرح کے روزے کو معلوم نہیں کیوں اٹ پٹا روزہ کہتے تھے۔
البتہ یہ تلقین ضرور ہوتی تھی کہ سال کے گیارہ مہینوں میں بالعموم اور رمضان میں بالخصوص غصہ، ضد، گالم گلوچ، جھگڑا، حرص اور بے زبان جانوروں کو تنگ کرنا حرام ہے اور ان حرکتوں کا گناہ عام دنوں سے دس گنا زیادہ ہوتا ہے۔
مگر جب ہم سات آٹھ برس کے ہوئے تو والدین اور آس پاس کے بڑوں پر شک ہونے لگا کہ کچھ تو گڑبڑ ہے۔ آخر ہمیں کیوں دو افطاریوں والا روزہ رکھوایا جاتا ہے اور خود کیوں ایک افطاری والا روزہ رکھتے ہیں اور پانی بھی نہیں پیتے۔
چنانچہ ایک روز میں نے خود ہی فیصلہ کر لیا اور گھر والوں پر سہہ پہر چار بجے یہ بم پھوڑا کہ آج ہم نے آپ والا روزہ رکھ لیا ہے۔ کسی خوشامد اور دھمکی کا اثر لینے سے بھی انکار کر دیا۔ چنانچہ ابا بادلِ نخواستہ پہلی بار عصر کی باجماعت نماز کے لیے ساتھ لے کر گئے اور واپسی پر تازہ پھولوں کا ہار بھی خریدا ( تب تک کاغذی پھولوں کا رواج نہیں آیا تھا)۔
اس شام کی افطار میں ہم اکیلے وی آئی پی تھے جس نے ہار پہنا ہوا تھا۔ ابا فوٹو گرافر تھے تو انھوں نے تصویریں بھی کھینچیں۔ پہلی بار میں نے خود کو بڑا بڑا سا محسوس کیا۔ مگر ساتھ ہی پابند بھی کر دیا گیا کہ آئندہ بڑوں کو بتائے بغیر روزہ نہیں رکھنا۔ جس عمر میں روزہ فرض ہو جائے گا خود بخود رکھوا دیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس واقعہ کو نصف صدی بیت چکی۔ ان پچاس برسوں میں سحری اور افطاری اور تروایح کے معنی بدلتے گئے۔ سحری ہر گھر کا نجی معاملہ تھا۔ کس نے کیا کھایا یا نہیں کھایا۔ اس کے بارے میں نہ کوئی سوال نہ کوئی تاکا جھانکی۔
افطار میں سوائے کھجور، بیسن یا روح افزا کچھ بھی باہر سے نہیں آتا تھا۔ ہر شے گھر میں آنے والے ماہوار راشن میں سے تیار ہوتی تھی اور روزہ کھلنے سے آدھا گھنٹہ پہلے آس پاس کے مستحقین اور ہمسائیوں کے ہاں خوان پوش سے ڈھک کے پہنچائی جاتی تھی۔
افطاری کے لوازمات ہی کھانا بھی تصور کیے جاتے تھے۔ افطار ڈنر کا الگ سے تصور نہیں تھا۔ اجتماعی افطار صرف مسجد میں ہوتی تھی جہاں محلے بھر سے کچھ نہ کچھ بھیجا جاتا تھا۔
تراویح رمضان کا چاند نظر آتے ہی شروع ہو جاتی اور شوال کے چاند کا اعلان ہوتے ہی مکمل ہو جاتی۔ تروایح پڑھانے والے مولوی صاحب کو کوئی جوڑا دیتا، کوئی ہار پہنا دیتا اور کوئی خاموشی سے نذرانہ تھما دیتا۔ مولوی صاحب سب کو دعائیں اور عید کے چاند کی مبارکباد دیتے ہوئے گلے ملتے اور رمضان کی رخصتی کا ذکر کرتے ہوئے تھوڑے سے گلوگیر بھی ہو جاتے۔
نصف صدی میں یہ روحانی ماحول کب ایک کمرشل انڈسٹریل طبقاتی روپ دھارتا چلا گیا، پتہ بھی نہیں چلا۔ کرکٹ ٹیسٹ سے ون ڈے اور پھر بیس اور دس اوورز سیریز کی طرح انتیس تیس روزہ تراویح کی روایت پندرہ روزہ، ہفت روزہ اور پھر تین دن کی ایکسپریس تروایح میں بدلتے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ گویا خدا بھی خوش رہے اور کاروبار پر بھی آنچ نہ آئے۔ آخر دنیا کمانے کا بھی تو یہی سیزن ہے۔
افطار کا خالص گھریلو تجربہ سیاسی افطار جھمگھٹوں سے ہوتا ہوا کارپوریٹ اجتماعات کے راستے جانے کب ریستورانوں کے افطار ڈنرز کے ہاتھوں ہائی جیک ہو کے ریٹ کارڈز کی اشتہار بازی اور طرح طرح کی درجنوں ڈشوں کی رال ٹپک اشتہا کے پلِ صراط سے گذر کے اسٹیٹس کی گود میں جا بیٹھا۔
اگر آپ کو آج کا بھگدڑی سماج دیکھنا ہو تو کسی بھی رستوران یا افطار پارٹی میں جانے کا تجربہ کر لیں۔ اذان سے نصف گھنٹہ پہلے ہی ہر میز پر افطار پکوانوں سے بھری پلیٹوں کی شکل میں چھوٹے چھوٹے ہمالیہ نمودار ہونے لگتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان میں سے آدھے نذرِ شکم ہو جاتے ہیں اور آدھے پلیٹ میں ہی رہ جاتے ہیں۔ خوردنی لپاڈکی کا اصل دور ذرا دیر بعد شروع ہوتا ہے۔ افطار بوفے کے جس کونے پر سب سے زیادہ ہجوم ہو سمجھ لیجیے کہ وہاں بار بی کیو موجود ہے۔
مجھے ذاتی طور پر افطار و سحری پر گھر سے باہر جانا ہرگز پسند نہیں مگر تین دن قبل ایک مہربان نے بصد اصرار ایک مشہور ریستوران میں افطار پر مدعو کیا۔ وہاں پہنچ کر روزہ کشائی سے زیادہ چشم کشائی ہو گئی۔
گنجائش سے زائد مدعوئین جن میں اکثریت معززینِ سیاست و کاروبار و نوکر شاہی و میڈیا کی تھی۔ یہ ہجوم ’ہمالیائی افطار‘ کے بعد آہستہ آہستہ دوبارہ بوفے ڈنر کی ڈشوں سے سجی میزوں کے گرد منڈلاتے ہوئے کچھ دیر تو احتراماً صبرِ رمضان میں مبتلا رہا ہے مگر کب تک؟ کچھ اتاولوں نے بالاخر ہلہ بول ہی دیا۔
چشمِ فلک نے بھی دیکھا کہ از قسمِ روسٹ، چکن تکے اور چرغے ہوا میں اڑ رہے ہیں اور کیچ کیے جا رے ہیں۔ ویٹرز خالی قابوں کو بھرنے کے لیے پراتوں میں جو تازہ گرماگرم باری بی کیو رسد لا رہے ہیں وہ میز تک پہنچنے سے پہلے آدھے راستے میں ہی لٹ لٹا کر پلیٹوں میں اتر رہی ہے۔
لگ بھگ پونے گھنٹے بعد فاتحینِ افطاری چھٹنے لگے۔ ان میں سے اکثر معززینِ کرام شوفر بردار گاڑیوں میں کڑکڑاتا لٹھا سوٹ سنبھالتے ہوئے بیٹھ رہے ہیں اور ان کے مسلح و غیر مسلح محافظ بھی شکرے بنے گول گول دیدے تیزی سے گھما رہے ہیں۔
میں نے اپنے میزبان کے ماتھے پر جب پسینہ دیکھا تو یہ سوچ کر کچھ قرار آ گیا کہ کوئی تو ہے جس کے ماتھے پر عرقِ انفعال باقی ہے۔
رمضان کی حرص کش تعلیمات کا مزید حشر دیکھنا ہو تو احترام رمضان کے نام پر جمائے گئے ٹی وی شوز میں کھچا کھچ بھرے شرکاِ عام کا انہماک و حشر دیکھ لیجیے۔ ان سے کیا کیا کہہ اور کروا کر ایک سرکسی ماحول میں تحائف بانٹے جاتے ہیں۔
مگر کچھ بھی تو قابلِ حیرت نہیں۔ جب فرد، سماج اور ریاست سمیت سب کے سب عدم تحفظ سے کشید ہونے والے عدم اعتماد میں اندر تک مبتلا ہوں تو وہ نفسانفسی کی شکل میں باہر آ کر ہر رنگ میں اپنا رنگ تو دکھائے گا۔ رمضان آیا اور چلا بھی گیا۔ ہمارا اس کی روایات و تعلیمات نے کیا بگاڑ لیا۔ پھر آ جائے گا اگلے برس۔