بتائیے کہ آپ کوکیز کے بارے میں متفق ہیں

ہم آپ کو بہترین آن لائن تجربہ دینے کے لیے کوکیز استعمال کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ہمیں بتائیں کہ آپ ان تمام کوکیز کے استعمال سے متفق ہیں

توہین مذہب کے مقدمات پر کمیشن تشکیل دینے کی درخواست: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لیے تیار فریق جوڈیشل کمیشن کے لیے کیوں تیار نہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ

توہین مذہب کے قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں گرفتار 134 متاثرین کے اہلخانہ نے وفاقی حکومت کو ایک تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے لیے درخواست دی تھی۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے کمیشن کی تشکیل نہ کرنے پر ان 134 میں سے 101 افراد کے اہلخانہ نے کمیشن کی تشکیل سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹس میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

خلاصہ

  • ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کے تبصروں میں دہشت گرد حملوں میں شہری ہلاکتوں کو کم کرکے پیش کیا گیا ہے۔ شرپسند عناصر کے جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔
  • امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی ایک رپورٹ میں انڈیا کی انٹیلیجنس ایجنسی 'را' پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے خلاف پابندیوں کی سفارش کی ہے۔
  • وزیر اعظم کی گوادر میں فائرنگ سے پانچ مسافروں کی ہلاکت کی مذمت: 'ملک دشمن عناصر کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے'
  • بلوچستان میں انتظامیہ کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں بدھ کی شب تشدد کے واقعات میں سی ٹی ڈی کے ایک اسسٹنٹ سب انسپیکٹر سمیت کم ازکم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • جنوبی کوریا کے جنگلات میں 'تباہ کن' آگ بجھانے کے لیے امدادی کاروائیاں جاری، ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو گئی

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا تاہم بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

  2. توہین مذہب کے مقدمات پر کمیشن تشکیل دینے کی درخواست: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لیے تیار فریق جوڈیشل کمیشن کے لیے کیوں تیار نہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    bbc

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے توہین مذہب کے مقدمات کے اندراج سے متعلق کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان درخواستوں میں چند فریق، جو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لیے تو تیار ہیں، جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے کیوں تیار نہیں ہیں؟

    واضح رہے کہ توہین مذہب کے قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں گرفتار 134 متاثرین کے اہلخانہ نے وفاقی حکومت کو ایک تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے لیے درخواست دی تھی۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے کمیشن کی تشکیل نہ کرنے پر ان 134 میں سے 101 افراد کے اہلخانہ نے کمیشن کی تشکیل سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹس میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

    ان درخواستوں میں موقف اپنایا گیا تھا کہ توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان کے عزیزوں کو پھنسایا گیا لہذا جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کی جائیں۔اسی حوالے سے حال ہی میں نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق نے اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2024 کے درمیان درج ہونے والے توہین مذہب کے مقدمات پر ایک مفصل رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق چند افراد کو سوشل میڈیا کے ذریعے ٹریپ کیا گیا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران توہین مذہب کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں 450 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا جن پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر ایسا مواد شیئر کیا جو توہین مذہب کے ذمرے میں آتا ہے۔ ان 450 گرفتار ملزمان میں 99 فیصد مسلمان ہیں جبکہ 90 فیصد طالب علم ہیں۔

    جمعرات کے دن جب ان درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے سماعت کی تو ان درخواستوں میں بنائے گئے ایک فریق، سعید انور، کے وکیل نے جوڈیشل کمیشن کی مخالفت میں موقف اپنایا کہ توہین مذہب کے مقدمات میں سزائیں پانے والے 30 سے زیادہ افراد نے اپیلیں دائر کر رکھی ہیں، اس لیے ان کے ورثا کمشین کی تشکیل کے لیے درخواست نہیں دے سکتے۔ واضح رہے کہ سعید انور کی مدعیت میں بھی توہین مذہب کا ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    سعید انور کے وکیل کا کہنا تھا کہ توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اگر کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے تو وہ صرف ایک رپورٹ بنا دے گا جس پر عمل درآمد کرنا کسی بھی ادارے کا ایک صوبدیدی اختیار ہوگا جبکہ جے آئی ٹی کسی بھی معاملے کی تحقیقات کر سکے گی جس میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہوں گے جو کہ ایسے معاملات کی چھان بین کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات سے متعلق جے آئی ٹی بنانے پر تو وہ متفق ہیں لیکن کمیشن بنانے پر اعتراض سمجھ سے بالاتر ہے۔

    واضح رہے کہ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے نمائندگان نے ملک کی مختلف جیلوں میں جا کر ان ملزمان سے ملاقاتیں کی ہیں جو توہین مذہب کے مقدمات میں قید ہیں۔ نیشنل کمیشن نے بھی توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے جے آئی ٹی بنانے کی تجویز دی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جواب طلب کیے جانے پر وزارت داخلہ کے ایک نمائندہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی وزارت کمیشن تشکیل دینے کو تیار ہے اور چونکہ کمیشن کی تشکیل کا اختیار وفاقی کابینہ کے پاس ہے تو اس لیے عدالت نہ صرف انھیں مہلت دے بلکہ کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے گائیڈ لائن بھی دے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کے بعد وزارت داخلہ کو جو گائیڈ لائن دی تھی اس کے مطابق کمیشن سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم کیا جائے جبکہ اس کمیشن میں ایف آئی اے سائبر کرائم کے علاوہ آئی ٹی ایکسپرٹ اور ایک مذہنی سکالر کو بھی شامل کیا جائے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ سارا معاملہ آن لائن ہو رہا ہے اس لیے کمیشن یہ طے کرے کہ توہین مذہب کا غلط استعمال نہ ہو۔

    توہین مذہب کے قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں نامزد 101 درخواست گزاروں کے وکیل عثمان وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا کہ توہین مذہب کا معاملہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور جو معاملہ اتنا حساس اور پورے ملک میں پھیلا ہوا ہو، اس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کیسے تشکیل دی جا سکتی ہے۔

    عثمان وڑائچ کا کہنا تھا کہ توہین مذہب سے متعلق جو مقدمات بنائے گئے ہیں ان کی تحقیقات کے لیے اگر جے آئی ٹی بنائی جاتی ہے تو ان میں سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا جج ہوگا نہ ہی کوئی ریٹائرڈ پولیس افسر ہوگا۔

    عدالت نے کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواستوں کی سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔

  3. کوئٹہ ڈبل روڈ پر پولیس موبائل کے قریب دھماکہ، تین افراد ہلاک 21 زخمی

    کوئٹہ

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں ایک مصروف بازار کے قریب ہونے والے دھماکے میں تین افراد ہلاک اور 21 زخمی ہو گئے ہیں۔

    بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق کوئٹہ کے وسط میں ڈبل روڑ پر ہونے والے اس دھماکے میں پولیس موبائل وین کو نشانہ بنایا گیا۔

    جائے حادثہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس موبائل وین اور اس کے قریب ہی کھڑے ایک موٹرسائکل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز جائے حادثہ پر پہنچ گئیں جہاں سے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    حکومتِ بلوچستان کے ہیلتھ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر وسیم بیگ نے بھی اس دھماکے میں تین افراد کی ہلاکت اور 21 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    ترجمان بلوچستان حکومت کی جانب سے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

  4. بلوچستان سے متعلق اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کے تبصرے غیر متوازن ہیں، شدت پسندوں کی مدد کے لیے سڑکوں کی بندشیں اور تخریبی سرگرمیاں ناقابل قبول ہیں: دفتر خارجہ

    پاکستان کے دفتر خارجہ

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے بلوچستان سے متعلق اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کے بیان پر رد عمل میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کے تبصرے یکطرفہ، غیر متوازن اور غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔ دہشت گرد حملوں میں شہری ہلاکتوں کو کم کرکے پیش کیا گیا ہے۔ شرپسند عناصر کے جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ عوامی بیانات میں معروضیت، حقائق کی درستی اور مکمل سیاق و سباق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے تاہم اس معاملے میں اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کے تبصرے متوازن نہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کسی بھی فرد یا گروہ کو انسانی حقوق کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے، حکومت خاص طور پر دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرے گی۔

    بلوچستان میں بدامنی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شرپسند عناصر جان بوجھ کر عوامی خدمات میں خلل ڈالنے کی کوشش میں ہیں اور اس دوران شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

    کوئٹہ سٹیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انھوں نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں شدت پسندوں کے ساتھ ملی بھگت ثابت ہو چکی ہے جبکہ ریاستی اقدامات کو روکنے کے لیے منظم رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ شدت پسندوں کی مدد کے لیے سڑکوں کی بندشیں اور دیگر تخریبی سرگرمیاں ناقابل قبول ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جعفر ایکسپریس آپریشن میں مارے گئے پانچ دہشت گردوں کی لاشیں زبردستی قبضے میں لینا شرپسندوں اور شدت پسندوں کے گٹھ جوڑ کو کھلا ثبوت ہے۔ پولیس نے ان میں سے تین لاشیں واپس حاصل کر لیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ دشدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کسی قسم کی رعایت یا معافی کی گنجائش نہیں جبکہ حکومت کے تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔ ہر شہری کو آئینی حقوق کے تحت قانونی چارہ جوئی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

  5. احمد نورانی کے دو لاپتا بھائیوں کی بازیابی کی درخواست کی سماعت، آئی جی اسلام آباد نے عدالت سے دو ہفتے کی مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی کے نو دن سے لا پتا دو بھائیوں کی بازیابی کی درخواست کی سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد نے دو ہفتوں کا وقت مانگ لیا۔

    لاپتا بیٹوں کی درخواست گزار اور احمد نورانی کی والدہ اپنی بیٹی کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئیں جبکہ درخواست گزار کی وکیل ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی بھی عدالت کے سامنے موجود تھے۔

    آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ’میں نے اس معاملے کو سپروائز کیا ہے۔ سپیشل تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے، جیو فینسنگ کرائی ہے۔ 27 تھانوں یا سی ٹی ڈی کے پاس کسی کے پاس یہ موجود نہیں۔ ملک بھر کے آئی جی جیل خانہ جات سے بھی رابطہ کیا ہے کہیں پتا نہیں چل رہا۔‘

    یاد رہے کہ پاکستانی صحافی احمد نورانی کے دو بھائیوں کو 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر 'حملہ' کر کے اغوا کر لیا گیا تھا۔

    احمد نورانی گذشتہ کئی برس سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ احمد نورانی کی والدہ نے اپنے بیٹوں کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پیٹیشن بھی دائر کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ منگل کی رات ایک بج کر پانچ منٹ پر ان کے دو بیٹوں کو بظاہر ملک کے دو خفیہ اداروں کے نامعلوم اہلکاروں نے اغوا کر لیا ہے۔

    درخواست میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’حراست میں لیے گئے دونوں افراد انجینیئرز ہیں اور ان کا اپنے بھائی احمد نورانی کی رپورٹنگ یا تحقیقاتی صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

    احمد نورانی کی والدہ امینہ بشیر کی جانب سے سیکریٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور تھانہ نون کے ایس ایچ او کو فریق بنایا گیا ہے۔

    جمعرات کے روز سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ آپ کو کتنا وقت چاہیے؟

    جس کے جواب میں آئی جی نے کہا کہ دو ہفتے ہمیں دے دیں۔ عدالت کے استفسار پر آئی جی پنجاب نے دو لاپتا بھائیوں کی بازیابی کے لیے مہلت طلب کی تو احمد نورانی کی والدہ روسٹرم پر آبدیدہ ہوگئیں۔

    احمد نورانی کی والدہ نے کہا کہ ’آپ اللہ کو حاضر ناظر جان کر بتائیں اگر آپ کے بچے ہوتے یا ان کے بچے ہوتے تو کیا کرتے۔ اس روز میں نے آپ سے پوچھا تھا میرے بیٹوں کو کچھ ہو گیا تو کون ذمہ دار ہو گا۔ عدالت دونوں لاپتہ بھائیوں کو ریکور کرکے پیش کرنے کا حکم دے۔

    آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ تمام صوبوں کے آئی جیز سے رابطہ ہوا ہے ان سے بھی معلومات مانگی ہیں۔ آئی جی آئی بی کو بھی ہم نے لکھا ہے ایف آئی اے سے بھی جواب ابھی آنا ہے۔ ابھی تک کوئی بھی اس نام کے لوگ بیرون ملک نہیں گئے۔

    وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ ’جن جن کے کیمرے تھے پولیس نے اپنے پاس لے لیے ہیں۔ کل بھی ایک صحافی کو اٹھایا گیا تھا پھر ایف آئی اے نے پیش کر دیا۔

    جسٹس انعام امین منہاس سیکریٹری دفاع کو آئندہ سماعت پر جواب جمع کروانے کی ہدایات جاری کر دیں۔ عدالت نے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردی۔

  6. 16 روز کے تعطل کے بعد کوئٹہ کے لیے ٹرین سروس بحال، جعفر ایکسپریس پشاور سے کوئٹہ کے لیے روانہ

    پشاور سے کوئٹہ کے دوران ٹرین کا سفر تقریبا دو ہفتے معطل رہنے کے بعد جمعرات کے روز بحال کر دیا گیا

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشن16 روز بعد آج صبح جعفر ایکسپریس 300 مسافروں کو پشاور سے لے کر کوئٹہ روانہ ہوئی

    پشاور سے کوئٹہ کے دوران ٹرین کا سفر تقریبا دو ہفتے معطل رہنے کے بعد جمعرات کے روز بحال کر دیا گیا ہے جس کے بعد پشاور کے ریلوے سٹیشن سے جعفر ایکسپریس کوئٹہ کے لیے روانہ کر دی گئی ہے۔

    بی بی سی کو ریلوے اہلکاروں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح 7:30 پر جعفر ایکسپریس کوئٹہ کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔ 16 روز تک اس روٹ پر ٹرین سروس معطل رہنے کے بعد آج 300 مسافر جعفر ایکسپریس میں روانہ ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ 11 مارچ کو بلوچستان کے علاقے بولان میں دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے خواتین اور بچوں سمیت تمام مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

    اس حملے سے متعلق پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے علاقے بولان میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ کے بعد 354 مسافروں کو ریسکیو کیا گیا جبکہ اس حملے میں 18 فوجی اور ایف سی اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    سرکاری ٹی وی کے مطابق جمعرات کی صبح وفاقی وزیر امیر مقام نے مسافروں کو پشاور سے رخصت کیا جبکہ جعفر ایکسپریس جمعے کو کوئٹہ سے پشاور آئے گی۔

    میڈیا سے گفتگو میں امیر مقام نے کہا کہ جو بلوچستان کی ترقی روکنا چاہتے تھے انھیں مایوسی ہوئی، دہشت گردی کے خلاف قوم متحد ہے۔ مخصوص جماعت نفرت و شر انگیزی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

  7. امریکی کمیشن کی رپورٹ میں انڈین خفیہ ایجنسی ’را‘ پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث پابندیاں عائد کرنے کی سفارش

    دارالحکومت دلی میں را کا ہیڈ کوارٹر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنانڈیا کے دارالحکومت دلی میں را کا ہیڈ کوارٹر

    امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی ایک رپورٹ میں انڈیا کی انٹیلیجنس ایجنسی ’را‘ پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے خلاف پابندیوں کی سفارش کی ہے۔

    امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے منگل کو اپنی سالانہ رپورٹ 2025 جاری کی ہے جس میں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب انڈیا نے اس رپورٹ کو مسترد اور حقائق کے منافی قرار دے کر تنظیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی پینل نے مذہبی آزادی کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انڈیا میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک ابتر ہوتا جا رہا ہے اور سکھ علیحدگی پسندوں کے قتل کی سازشوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر کمیشن نے سفارش کی ہے کہ انڈیا کی ایجنسی را پر پابندیاں عائد کی جائیں۔

    روئٹرز کے مطابق کمیشن نے منگل کو جاری کی گئی رپورٹ میں کہا کہ ’ 2024 میں انڈیا میں مذہبی آزادی کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے اور اس عرصے کے دوران مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملوں اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہوتا گیا۔‘

    رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی (بی جے پی) نے گزشتہ سال کی انتخابی مہم کے دوران ’مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی اور غلط معلومات کا پروپیگنڈا کیا۔‘

    انڈیا نے بدھ کے روز اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’متعصبانہ اور سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کی تشخیص‘ کا حصہ قرار دیا۔

    بی بی سی بنگلہ کے مطابق بدھ کی شام انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نےایک بیان نہ صرف امریکی کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کر دیا بلکہ حقائق کے منافی قرار دے کر ان سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی سے جاری وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی اس کی وضاحت کرے کہ اس نے صورتحال کے بارے میں اپنے ’جانبدارانہ رویے کا اظہار کیا اور حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا ہے۔

    رپورٹ میں کیا کہا گیا؟

    یو ایس سی آئی آر ایف نے ایک بار پھر 2023 میں نیویارک میں ایک امریکی سکھ شہری کے قتل کی کوشش میں انڈیا کی انٹیلی جنس ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ ’را‘ کے ایک افسر اور ملک کے چھ سفارت کاروں کے ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

    تنظیم نے اپنی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ الزامات مختلف بین الاقوامی رپورٹس اور کینیڈین حکومت کی انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہیں۔

    کمیشن کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ امریکی حکومت انڈیا کے وکاس یادیو جیسے افراد اور را جیسی تنظیموں پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں پر پابندیاں عائد کرے۔

    رپورٹ میں انڈیا میں اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور ان کی جان و مال پر حملوں کے متعدد واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

    uscirf/ScreenGrab

    ،تصویر کا ذریعہuscirf/ScreenGrab

    ،تصویر کا کیپشنرپورٹ میں پاکستان میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں

    پاکستان کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی سفارش

    دوسری جانب رپورٹ میں پاکستان میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے مطابق مذہبی آزادی کی منظم، جاری اور سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر پاکستان کو خصوصی تشویش کے ملک یا سی پی سی قرار دینے کی سفارش بھی کی ہے۔

    رپورٹ میں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پائے جانے والے پاکستانی حکام اور سرکاری ایجنسیوں پر مخصوص مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سفارش کی گئی ہے کہ ایسے افراد کے اثاثے منجمد کیے جائیں اور امریکہ میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تشدد، ٹارگٹ کلنگ، جبری تبدیلی مذہب اور دیگر مذہبی بنیادوں پر جرائم پر اکسانے ان میں حصہ لینے والوں کا احتساب کیا جائے۔

  8. وزیر اعظم کی گوادر میں فائرنگ سے پانچ مسافروں کی ہلاکت کی مذمت: ’ملک دشمن عناصر کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘

    بلوچستان فائرنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے کلمت میں بس سے اتار کر مسافروں پر فائرنگ کر کے پانچ افراد کو ہلاک کرنے کوافسوسناک قرار دیتے ہوئے اس واقعے شدید مذمت کی ہے۔

    پانچ افراد کی ہلاکت کا واقعہ گزشتہ روز ضلع گوادر میں کوسٹل ہائی وے پر پسنی اور کلمت کے درمیان پیش آیا تھا۔

    کوسٹل ہائی وے پولیس کے ایس پی حفیظ بلوچ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’نامعلوم مسلح افراد نے گوادر کی جانب سے کراچی جانے والی ایک بس سے چھ افراد کو اتارا۔ بس سے اتارنے کے بعد مسلح افراد نے ان پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس علاقے میں مسلح افراد نے ایک گاڑی کو بھی نذرآتش کیا۔‘

    خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی اس علاقے میں مسلح افراد نے کوسٹل ہائی وے پر چار گیس باوزرز کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے جاری بیان میں مسافر بس پر فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں نے بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا، شر پسند عناصر بلوچستان کی ترقی کے دشمن ہیں۔ ملک دشمن عناصر کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘

    بیان کے مطابق وزیر اعظم نے اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سپہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

    مستونگ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے اسسٹنٹ سب انسپیکٹر جاوید لہڑی ہلاک

    دوسری جانب ضلع مستونگ میں ناکہ بندی کے دوران مسلح افراد سی ٹی ڈی کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سی ٹی ڈی کے اسسٹنٹ سب انسپیکٹر جاوید لہڑی ہلاک ہو گئے جبکہ دوسرے اہلکار زخمی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر مستونگ زوہیب کبزئی نے تصدیق کی ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ جیکب آباد شاہراہ پردرہ بولان کے بعض مقامات پر ناکہ بندی کرنے کے علاوہ کوئٹہ کراچی ہائی وے پر بھی ناکہ بندی کی۔

    ان کے مطابق ضلع مستونگ میں ناکہ بندی کے دوران مسلح افراد سی ٹی ڈی کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں سی ٹی ڈی کے اسسٹنٹ سب انسپیکٹر جاوید لہڑی ہلاک ہو گئے جبکہ دوسرے اہلکار زخمی ہیں۔

    ادھر تربت شہر میں نامعلوم افراد نے تین گرینیڈز فائر کیے جن میں سے ایک بی اینڈ آر کالونی میں رہائشی کوارٹر پر گرا۔ کیچ پولیس کے سربراہ راشد رحمان زہری نے بتایا کہ گرینیڈ پھٹنے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے جن میں میاں بیوی اور ان کی تین بچیاں شامل ہیں۔

  9. جنوبی کوریا کے جنگلات میں ’تباہ کن‘ آگ بجھانے کے لیے امدادی کاروائیاں جاری، ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو گئی

    جنوبی کوریا کی جنگل کی آگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی کوریا کے حکام نے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

    ایک ہفتے قبل لگنے والی آگ سے کم از کم 26 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 30 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہو گئے ہیں جبکہ ہزاروں ہیکٹر رقبہ مکمل جل چکا ہے۔ حکام کے مطابق آگ کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مقانیکر چکے ہیں۔

    کوریا فاریسٹ سروس کے مطابق شمالی صوبے گیونگ سانگ میں اس وقت 35 ہزار ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلی آگ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی آگ ہے۔

    جنوبی کوریا جنگلات میں لگی آگ

    ،تصویر کا ذریعہSouth Korean Army/News1

    جمعے کے روز لگنے والی اس آگ میں تیز اور خشک ہواؤں کی وجہ سے شدت آئی۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں سے آٹھ افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔

    بدھ کے روز ریسکیو آپریشن کے دوران فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا جس دوران ایک پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ آگ لگنے سے کم از کم تین فائر فائٹرز بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    آگ پر قابو پانے کے لئے ہزاروں فائر فائٹرز اور فوجی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ آگ سے یوسیونگ شہر میں ایک 1300 سال پرانا مندر جل کر تباہ ہو گیا ہے جبکہ دیگر ثقافتی مقامات کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

  10. بلوچستان میں بدھ کی شب تشدد کے مختلف واقعات میں کم سے کم چھ افراد ہلاک, محمد کاظم بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان میں انتظامیہ کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں بدھ کی شب تشدد کے واقعات میں سی ٹی ڈی کے ایک اسسٹنٹ سب انسپیکٹر سمیت کم ازکم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    کوسٹل ہائی وے پولیس کے ایس پی حفیظ بلوچ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’نامعلوم مسلح افراد نے گوادر کی جانب سے کراچی جانے والی ایک بس سے چھ افراد کو اتارا۔¬

    یہ واقعہ ضلع گوادر میں کوسٹل ہائی وے پر پسنی اور کلمت کے درمیان پیش آیا ہے۔

    ’بس سے اتارنے کے بعد مسلح افراد نے ان پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس علاقے میں مسلح افراد نے ایک گاڑی کو بھی نذرآتش کیا۔‘

    خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی اس علاقے میں مسلح افراد نے کوسٹل ہائی وے پر چار گیس بائوزرز کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مستونگ ذوہیب کبزئی نے تصدیق کی ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ جیکب آباد شاہراہ پردرہ بولان کے بعض مقامات پر ناکہ بندی کرنے کے علاوہ کوئٹہ کراچی ہائی وے پر بھی ناکہ بندی کی۔

    ان کے مطابق ضلع مستونگ میں ناکہ بندی کے دوران مسلح افراد سی ٹی ڈی کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سی ٹی ڈی کے اسسٹنٹ سب انسپیکٹر جاوید لہڑی ہلاک ہو گئے جبکہ دوسرے اہلکار زخمی ہیں۔

    ادھر تربت شہر میں نامعلوم افراد نے تین گرینیڈز فائر کیے جن میں سے ایک بی اینڈ آر کالونی میں رہائشی کوارٹر پر گرا۔ کیچ پولیس کے سربراہ راشد رحمان زہری نے بتایا کہ گرینیڈ پھٹنے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے جن میں میاں بیوی اور ان کی تین بچیاں شامل ہیں۔

    ان کے مطابق زخمیوں کی طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    ضلع کیچ کے علاقے تجابان میں نامعلوم افراد نے ناکہ بندی کے دوران چار کنٹینروں کو آگ لگائی ہے۔ کیچ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ان میں سے ایک کنٹینر کو بچا لیا گیا جبکہ تین کنٹینرز کو آگ سے نقصان پہنچا۔ اہلکار نے بتایا کہ یہ کنٹینرز گوادر پورٹ سے یوریا کھاد لے کر افغانستان کی جانب جا رہے تھے۔

  11. بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں چوتھے روز بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔

    یہ مظاہرے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کیے گئے۔

    کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کو مظاہرہ نہیں کرنے دیا گیا اور احتجاج کے لیے جمع ہونے والوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ گرفتاریاں بھی کی گئیں۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے ان گرفتاریوں کے خلاف بلوچستان بھر میں مظاہروں کی کال دی گئی تھی۔

    کوئٹہ شہر میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام مظاہرہ کوئٹہ پریس کلب کے باہرکیا گیا۔

    مظاہرے میں عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما بھی اظہار یکجہتی کے طور پر شریک ہوئے۔

    مظاہرے سے بی این پی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ، اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی اور این ڈی ایم کے رہنما احمد جان کاکڑ کے علاوہ دیگر رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاری اور ان پر تشدد کی مذمت کی۔

    دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے کوئٹہ شہر سمیت آٹھ شہروں میں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔

    کوئٹہ میں اسمنگلی روڈ پر بورڈ آفس سے پریس کلب تک ریلی نکالی جانی تھی لیکن بورڈ آفس پر پولیس کی بھاری نفری نے ریلی میں شرکت کے لیے آنے والوں کومنتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ بعض لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ بورڈ آفس سے احتجاج کے لیے جمع ہونے والی نو خواتین کو گرفتار کیا گیا جن کو بعد میں سول لائنز پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا۔

    کوئٹہ کے علاوہ جن دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیئے گئے ان میں وڈھ ، سوراب، پنجگور، نوکنڈی ، تمپ اور وندر وغیرہ شامل تھے۔

  12. سماجی کارکن سمی دین محمد کی رہائی کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی

    Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشندرخواست کے مطابق سمی 24 مارچ کو ساڑھے پانچ بجے دیگر کارکنوں کے ساتھ، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے کراچی پریس کلب کے قریب پرامن احتجاج کر رہی تھیں۔

    سندھ ہائی کورٹ میں سمی دین محمد کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔ سمی دین محمد کی چھوٹی بہن مہلب کی جانب سے دائر اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سمی دین محمد انسانی حقوق کی کارکن ہے اور اس کو کئی عالمی ایوارڈ ملے چکے ہیں۔

    درخواست کے مطابق اس وقت وہ آئی بی اے کے شعبہ صحافت میں زیر تعلیم ہیں۔ اس کے علاوہ وہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جنرل سیکریٹری ان کے والد بھی جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔

    درخواست کے مطابق سمی 24 مارچ کو ساڑھے پانچ بجے دیگر کارکنوں کے ساتھ، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے کراچی پریس کلب کے قریب پرامن احتجاج کر رہی تھیں۔ تاہم اس مظاہرے کی پرامن نوعیت کے باوجود، سندھ پولیس نے غیر قانونی طور پر مداخلت کی اور زیر حراست کو گرفتار کر لیا۔

    درخواست میں بتایا گیا ہے کہ اگلے دن 25 مارچ کو زیر حراست ملزم کو کراچی جنوبی کی عدالت میں پیش ہونا تھا۔ تاہم سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مقدمہ عدالت مجسٹریٹ نہم جنوبی کو منتقل کر دیا گیا، جہاں مجسٹریٹ نے ایک عدالتی حکم کے ذریعے، انھیں دفعہ 63 سی آر پی سی کے تحت بری کر دیا۔

    درخواست کے مطابق اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی آر غیر سنگین جرم پر درج کی گئی تھی جو قانون کے تحت جائز نہیں ہے۔

    کیونکہ یہ عدالت کی اجازت کے بغیر سب ہوا اور عدالت کی اجازت کے بغیر غیر سنگین جرم میں گرفتاری بھی نہیں کی جا سکتی۔

    مہلب نے اپنی درخواست میں بتایا ہے کہ ان کی بہن کو عدالتی کمپلیکس کے احاطے میں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا، جہاں مجسٹریٹ کی عدالت واقع ہے۔

    ان کے مطابق مجسٹریٹ کی جانب سے رہائی کے فوراً بعد ان کی دوبارہ گرفتاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکام نے عدالتی جانچ پڑتال سے قطع نظر ان کی مسلسل حراست کی پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

    درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ایم پی او کے حکم نامے میں پانچ افراد کے نام درج تھے۔ پولیس نے چار دیگر افراد کو رہا کر دیا، جن میں عبد الوہاب بلوچ نامی 60 سالہ شخص بھی شامل تھا جبکہ پولیس نے سمی کے سیاسی پروفائل کی وجہ سے ان کی گرفتاری کو ترجیح دی۔

    اس درخواست میں گزارش کی گئی ہے کہ ایم پی او کے حکم نامے کو مسترد کرکے سمی دین محمد کی رہائی کا حکم جاری کیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ جمعرات کو اس درخواست کی سماعت کرے گا۔

  13. پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے: وزیر اعظم شہباز شریف

    National Assembly

    ،تصویر کا ذریعہNational Assembly

    ،تصویر کا کیپشنوزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا دہشت گردی اور مہنگائی کے باوجود معاہدہ طے پانا حکومت کی سنجیدگی کا عکاس ہے۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مخالفین نے ڈھنڈورے پیٹے کہ اب آیا منی بجٹ، لیکن الحمدللہ، منی بجٹ نہیں آیا۔ انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف معاہدوں سے متعلق اغیار کے اوچھے ہتھکنڈوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، حکومت کی ان تھک محنت سے اتنا جلد یہ ہدف حاصل ہوا۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا آئی ایم ایف پروگرام میں 1.3 بلین ڈالر آر ایس ایف کی مد میں بھی شامل کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان نے اکتوبر میں آئی ایم ایف کے آر ایس ایف سے ایک ارب ڈالر کی درخواست کی تھی۔ آر ایس ایف کے تحت فنڈنگ ان ممالک کو فراہم کی جاتی ہے جو موافقت کے ذریعے آب و ہوا کی تباہ کاریوں کے خلاف لچک پیدا کرنے کے لیے اعلیٰ معیار کی اصلاحات کا عہد کرتے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا دہشت گردی اور مہنگائی کے باوجود معاہدہ طے پانا حکومت کی سنجیدگی کا عکاس ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پوری قوم نے اس ہدف کے حصول میں بے پناہ قربانیاں دیں، معاہدہ طے پانے میں عام آدمی کا بھی انتہائی اہم کردار ہے۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا گذشتہ سال کے مقابلے آئی ایم ایف کا ہدف نو ٹریلین روپے تھا، رواں سال یہ ہدف 12.9 ٹریلین روپے ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ’ایم ایف نے جو ٹارگٹ مقرر کیا تھا وہ 10.2 ٹریلین روپے تھا جبکہ ہم نے 10.6 ٹریلین روپے کا ٹارگٹ حاصل کیا۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا کہ ’اس ہدف کو ہم کم کر دیتے ہیں میں نے کا نہیں، مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے اس ہدف کو 12.3 پر لے کر آئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ٹیکس جمع کرنے میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق تنخواہ دار طبقے نے محصولات کی وصولی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا عدالتوں میں جو کیسز زیرالتوا ہیں وہ کھربوں روپے کے ہیں، اس پر کام تیزی سے شروع ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت تک 34 ارب روپے ریکور کیے جا چکے ہیں۔

  14. امریکہ میں عمران خان کی رہائی اور پاکستان کے آرمی چیف پر پابندی سے متعلق بل پیش

    عمران خان اور عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہISPR/AFP

    امریکی کانگریس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور ملک میں جمہوریت کی بحالی سے متعلق ایک بِل پیش کیا گیا ہے اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی امریکہ آمد پر پابندی کو بھی اس بِل کا ایک اہم حصہ بنایا گیا ہے۔

  15. صحافی وحید مراد کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج، دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    وحیدمراد

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے صحافی وحید مراد کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔

    وحید مراد کے خلاف ایف ائی اے کے سائبر کرائم ونگ میں 2016 کے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وحید مراد نے 18 مارچ کو احمد نورانی کی فیکٹ فوکس کی خبر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر آرمی چیف کے خاندان کی تصاویر کے ساتھ شیئر کیا اور اس پر انتہائی اشتعال انگیز تبصرے بھی کیے۔

    اس ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وحید مراد نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بہت اشتعال انگیز مواد شیئر کیا ہے، جس کے بعد سائبر کرائم نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے رات دو بج کر پانچ منٹ پر انھیں ان کے جی ایٹ میں واقع گھر سے گرفتار کیا ہے۔

    ایف آئی آر میں سردار اختر مینگل کی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کا حوالہ دیے بغیر کہا گیا ہے کہ وحید مراد نے بدھ 12 مارچ کو اپنے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ بلوچستان کا ایک انچ ایسا نہیں بچا جہاں حکومت اختیار کا دعویٰ کر سکے۔ وہ یہ جنگ مکمل طور پر ہار چکی ہے اور اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ سب ختم ہو گیا ہے۔ ہم نے خبردار کیا تھا، ہم سے پہلے والوں نے بھی خبردار کیا تھا، انھوں نے سننے کے بجائے ہمارا مذاق اڑایا۔ انھوں نے ہمارے الفاظ کو خالی دھمکیوں کے طور پر مسترد کر دیا۔ جبکہ انھوں نے ظلم، لوٹ مار اور خونریزی کے نظام کو ہوا دی۔ ہر ایک حکومت نے بغیر کسی استثنیٰ کے بلوچ عوام کی منظم نسل کشی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ وحید مراد نے لکھا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جہاں ہر ادارہ، ہر انتظامیہ، ہر نام نہاد لیڈر ہمارے خلاف ہمیشہ متحد رہا ہے۔ اور اپنے جرائم کو تسلیم کرنے کے بجائے انھوں نے وہی کیا جو کرنے میں یہ سب سے ماہر ہیں: الزام دوسروں پر ڈالنا۔ لیکن آج میں کچھ واضح کرنا چاہتا ہوں۔ وفاقی حکومت کو سیاسی جماعتوں کو، عدلیہ کو، اسٹیبلشمنٹ کو، آپ نے اپنے ہاتھوں سے بلوچستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ لیکن اس بار، یہ ہمارے قابو سے باہر ہے، اور یہ آپ کے اختیار سے بھی باہر ہے۔

    اردو نیوز کے لیے کام کرنے والے وحید مراد کو منگل کی شب نامعلوم افراد ان کی رہائش گاہ سے زبردستی لے گئے تھے جس کے بعد بدھ کی صبح ان کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں صحافی وحید مراد کو فوری بازیاب کرانے اور غیر قانونی طور پر اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

    وحید مراد کی ساس عابدہ نواز کی جانب سے دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری دفاع ، آئی جی اور ایس ایچ او کراچی کمپنی کو فریق بنایا گیا تھا۔

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ ’رات دو بجے کالی وردی میں ملبوس افراد جی ایٹ ہمارے گھر آئے، دو پولیس کی گاڑیاں بھی ان کے ساتھ نظر آرہی تھیں۔ کالی وردی میں ملبوس لوگ وحید مراد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے ہیں۔ ہمارے گھر آئے افراد نے میرے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔‘

    اسلام آباد کے تھانہ کراچی کمپنی میں وحید مراد کی بازیابی اور مبینہ اغوا کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے دی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ بدھ کی رات تقریباً دو بجے وحید مراد کو تین گاڑیوں میں سوار نقاب پوش مسلح افراد ان کے گھر سے اغوا کر کے لے گئے ہیں۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے وقت وحید مراد کی ساس بھی گھر میں موجود تھیں اور مسلح افراد جاتے وقت وحید مراد کی ساس کا فون بھی ساتھ لے گئے ہیں۔

    پولیس نے وحید مراد کو بدھ کی دوپہر جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا اور ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے ان کا دو روزہ ریمانڈ منظور کر لیا۔

    یاد رہے کہ صحافی وحید مراد اردو نیوز سے وابستہ ہیں اور اس کے علاوہ وہ پاکستان 24 کے نام اسے ایک ویب پورٹل بھی چلاتے ہیں۔

  16. صحافی فرحان ملک ایک اور مقدمے میں بھی گرفتار، غیرقانونی کال سینٹر چلانے کا الزام, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی

    فرحان ملک

    ،تصویر کا ذریعہRAFTAR

    ،تصویر کا کیپشنفرحان ملک کے وکیل ایڈووکیٹ عبدالمعیز جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز ریمانڈ ختم ہونے کے بعد عدالت نے جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا تھا۔

    کراچی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے صحافی فرحان ملک کو ایک اور مقدمے میں گرفتار کرلیا ہے۔ ان پر غیر قانونی کال سینٹر چلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ فرحان ملک کو بدھ کی صبح ملیر میں جوڈیشل مئجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر کے پانچ روز کا جسمانی ریمانڈ لیا گیا۔

    فرحان ملک کے وکیل ایڈووکیٹ عبدالمعیز جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز ریمانڈ ختم ہونے کے بعد عدالت نے جیل کسٹڈی کا حکم جاری کیا تھا۔

    تاہم ایف آئی اے نے ان کو اپنی تحویل میں رکھا اور بُدھ کی صبح ریمانڈ لیا اور دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایک مبینہ کال سینٹر پر چھاپہ مار کر دو ملازمین کو گرفتار کیا تھا، جن کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی کال سینٹر کے مالک فرحان ملک ہیں۔

    اس سے قبل 21 مارچ کو کراچی کی ایک مقامی عدالت نے صحافی فرحان ملک کو چار روز کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا تھا۔

    خیال رہے کہ ایف آئی اے نے صحافی اور نجی ٹی وی چینل کے سابق ڈائریکٹر نیوز اور سوشل میڈیا چینل کے چیئرمین فرحان ملک کو ایف آئی اے کے سائبر سرکل نے 20 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔

    ان کے خلاف کاٹی گئی ایف آئی آر میں الزامات میں درج کیا گیا ہے صحافی فرحان ملک اپنے یو ٹیوب چینل، ’رفتار ٹی وی‘ پر مبینہ طور پر ریاست مخالف مواد نشر کرتے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزامات ہیں کہ وہ ایسی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں جو فیک نیوز پر مشتمل ہیں اور عوام میں اشتعال پھیلا رہے ہیں۔

    پیر کو پیشی کے موقع پر صحافی فرحان ملک کے وکیل عبدالمعیز جعفری نے عدالت کو بتایا کہ صحافی فرحان ملک کے خلاف پہلے سے انکوائریز جاری تھیں۔

    پیکا ایکٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی سے گفتگو میں ان کے وکیل عبدالمعیز جعفری نے بتایا کہ فرحان ملک کے خلاف ایف آئی اے کی انکوائریز کا یہ سلسلہ گذشتہ برس نومبر میں شروع ہوا تھا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’پہلا نوٹس نومبر میں آیا تھا۔ اور ان کے یو ٹیوب چینل کے کچھ لنکس لگا کر کہا گیا تھا کہ آپ ریاست مخالف کام کر رہے ہیں۔‘

    وکیل عبدالمعیز جعفری نے بتایا کہ اس وقت ایف آئی اے کی جانب سے انھیں گرفتارکرنے سے پہلے ہی ہم عدالت گئے تھے اور عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا تھا۔

    وہ بتاتے ہیں نے اس کے بعد انھیں کراچی اور اسلام آباد میں متعدد بار ایف ائی اے کے سامنے جانا پڑا۔

    خیال رہے کہ فرحان ملک کے خلاف ایف آئی اے نے پیکا کے ترمیمی ایکٹ کے تحت بھی ایف آئی آر کاٹی ہے۔

    ان کے وکیل نے کہا کہ ایک بار عدالت میں وہ پیش نہیں ہو سکے جس پر حکم امتناعی کو ہٹا دیا گیا، جس کی وجہ سے ایف آئی اے کو موقع ملا اور انھوں نے فرحان ملک کو گرفتار کر لیا۔

    وکیل عبدالمعیز جعفری کہتے ہیں کہ فرحان ملک کا نام پہلے ای سی ایل میں بھی ڈالا گیا تھا اور تاحال ان کے خلاف ریاست مخالف بات کیے جانے کے کوئی شواہد پیش نہیں

  17. میری بہن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ کو جیل میں ہراساں کیا جا رہا ہے: نادیہ بلوچ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

    ،تصویر کا ذریعہ@MahrangBaloch5

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر انھیں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے ملاقات کی اجازت تو دی گئی ہے لیکن انھیں (مبینہ طور پر) ہراساں کیا جارہا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نادیہ بلوچ کا کہنا تھا کہ انھوں نے گزشتہ روز بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے ملاقات کی لیکن یہ ملاقات تین گھنٹے کے انتظار کے بعد کرائی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف انھیں اور خاندان کے دیگر افراد کو ملاقاتوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے بلکہ خود ڈاکٹر ماہ رنگ نے بھی یہ شکایت کی کہ انھیں اور ان کے ساتھ بیبو بلوچ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

    نادیہ بلوچ کے مطابق ’ہمیں یہ کہا گیا کہ ان کو بھی وہی کھانا ملنا چاہیے جو کہ عام قیدیوں کو ملتا ہے لیکن ہمارا یہ کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ ایک سیاسی قیدی ہیں اور ان خلاف تو ابھی تک کچھ ثابت بھی نہیں ہوا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ بھی خدشہ ہے کہ انہیں کھانے میں کوئی غلط چیز نہیں دیا جائے جس کی وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ ان کو گھر سے کھانا پہنچائیں جس کی ہائیکورٹ نے بھی اجازت دی ہے۔‘

    نادیہ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ ’ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھ گرفتار بیبو بلوچ کی جیل میں نگرانی کی جارہی ہے اور ان کو یہ کہا گیا کہ ان کو علیحدہ علیحدہ سیل میں رکھا جائے گا لیکن ڈاکٹر ماہ رنگ نے اس کے خلاف نہ صرف مزاحمت کی ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ اگر ان کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو وہ اس کے خلاف تا دم مرگ بھوک ہڑتال کریں گی۔‘

  18. ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان میں آج بھی احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان احتجاج

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سمّی بلوچ سمیت دیگررہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان میں آج بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا جبکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی نے ان گرفتاریوں کے خلاف آج پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ سمیت بلوچستان میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے اعلان کردہ احتجاجی شیڈول کے مطابق آج پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ سمیت بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔

    بی این پی کی جانب سے 28 مارچ کو خضدار کے علاقے وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ ’ہمیں احساس ہے کہ رمضان کا ماہ ہے اور لوگ عبادتوں کے ساتھ عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں تاہم ہمیں یہ دیکھنا چائیے کہ بلوچستان میں بہت ساری ایسی مائیں اور بہنیں ہیں جو ہر عید پر اپنے پیاروں کے انتظار میں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بہت ساری خواتین کے شوہر لاپتہ ہونے کے باعث ان کو معلوم نہیں کہ وہ بیوہ ہیں یا شادی شدہ ہے وہ ہر عید اپنے شوہروں کے انتظار میں گزارتی ہیں۔`

    سردار اختر مینگل نے اپنے ویڈیو بیان میں بلوچستان بھر کے لوگوں سے اپیل کی وہ اس لانگ مارچ میں شرکت کرکے یہ ثابت کریں کہ بلوچستان کی خواتین لاوارث نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جن خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے ان کے خلاف مقدمات کی واپسی اور ان کی رہائی تک کوئٹہ میں دھرنا دیا جائے گا جس کا اعلان لانگ مارچ کے کوئٹہ پہنچنے کے بعد کیا جائے گا۔

    بلوچستان

    ’قومی شاہراہوں پر دفعہ 144 نافذ ہے،احتجاج کے لیے انتظامیہ سے اجازت لیں‘

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بی این پی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کرنا بلوچستان نیشنل پارٹی کا آئینی و قانونی حق ہے تاہم اس وقت قومی شاہراہوں پر دفعہ 144 نافذ ہے، لہٰذا بی این پی کو احتجاج کے لیے متعلقہ انتظامیہ سے اجازت لینی چاہیے۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ بی این پی کی ہڑتال کی کال پر عوام کا ردعمل نوشتہ دیوار ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ خواتین خودکش حملہ آوروں کے معاملے پر عزت و غیرت کے تقاضے کیوں خاموش ہوتے ہیں اس کے برعکس جب ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو عزت و غیرت کے نام پر مفاداتی ایجنڈے کو زندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ ریاست ہر فرد کی عزت نفس کی محافظ ہے شدت پسندی کی حوصلہ افزائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ریاست اپنی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ خواتین کو ڈھال بنا کر ریاست کو چیلنج کرنے والوں کو جواب دینا ہوگا۔

  19. ترکی: امام وغلو کی گرفتاری پر احتجاجی مظاہرے ساتویں روز میں داخل، 1,400 سے زائد افراد گرفتار, تھامس میکنڈتوش، بی بی سی نیوز

    ترکی احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی میں صدر اردوغان کے حریف امام وغلو کی گرفتاری پر احتجاجی مظاہر وں کا سلسلہ ساتویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔

    احتجاجی مظاہروں میں طلبہ، صحافی اور وکلا سمیت ہزاروں افراد نے احتجاج میں حصہ لیا۔ ایک اندازے کے مطابق احتجاج شروع ہونے سے اب تک 1,400 سے زائد افراد کو احتجاج کرنے پر گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    یہ احتجاج گزشتہ بدھ سے اس وقت شروع ہوا جب استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کو بدعنوانی کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اکرم امام اوغلو کو صدر رجب طیب اردوان کا اہم سیاسی حریف سمجھا جاتا ہے۔

    دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ نے ان گرفتاریوں اور پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔

    امام اوغلو نے ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے تاہم صدر اردوان نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

    ترکی احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    منگل کو انقرہ میں ایک افطار کے موقع پر نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے عوام سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ’ملک میں افراتفری پھیلانے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔‘

    استنبول میں طلبہ کا مارچ منگل کی شام استنبول کی مختلف یونیورسٹیوں کے ہزاروں طلبہ ماچکا پارک میں جمع ہوئے اور پھر انھوں نے ششلی کی طرف مارچ کیا۔

    اس دوران حکام نے ’امن و امان برقرار رکھنے‘ اور ’ممکنہ اشتعال انگیزی کو روکنے‘ کے لیے متعدد سڑکیں بند کر دیں اور احتجاج پر پابندی لگا دی۔

    احتجاجی مارچ کے دوران طلبہ نے حکومت مخالف نعرے بھی لگائے جبکہ بینرز اٹھائے کئی طلبہ نے گرفتاری سے بچنے کے پیش نظر ماسک اور سکارف سے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی۔

    ترکی احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    گرفتاریوں میں اضافہ ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلکایا کے مطابق گزشتہ بدھ سے اب تک 1,418 مظاہرین گرفتار ہو چکے ہیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ فی الحال 979 افراد پولیس کی تحویل میں ہیں جبکہ 478 افراد کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    وزیر داخلہ علی یرلکایا نے پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم ان لوگوں کو رعایت نہیں دیں گے جو سڑکوں پر انتشار پھیلانے، ہماری قومی و اخلاقی اقدار پر حملہ کرنے یا پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے۔‘

    ادھر واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ترک وزیر خارجہ حقان فیدان سے ملاقات کے بعد مظاہرین اور صحافیوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  20. خیبر پختونخوا حکومت کا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی ایکشن پلان مرتب، ’سول انتظامیہ کو دہشت گردی کے خلاف لیڈ رول دیا جائے گا‘

    دہشت گردی کے خلاف ایکشن پلان

    ،تصویر کا ذریعہAP

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی بحالی کے لیے صوبائی ایکشن پلان کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت سرحد پار سے دہشتگردی کے واقعات کے تدارک کے لیے جلد سے جلد پالیسی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پالیسی کے تحت وفاقی حکومت سے ٹی او آرز کی منظوری کے بعد صوبائی حکومت کا جرگہ افعان قبائلی عمائدین کے ساتھ مذاکرات بھی کرے گا۔

    ایکشن پلان کے تحت سول انتظامیہ کو دہشت گردی کے خلاف لیڈ رول دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پولیس اور کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں فاسٹ ٹریک بنیادوں پر اضافہ کیا جائے گا۔

    صوبائی حکومت کے اعلامیے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی سربراہی میں بیرون ملک سے فنڈنگ لینے والے مدرسوں کے آڈٹ، دھماکہ خیز مواد کا کاروبار کرنے والوں کی نگرانی کے لئے نادرا ڈیٹا بیس سے کام لینے اور اسلحے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کراس بارڈر سمگلنگ روٹس پر مشترکہ کارروائیاں عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں ایکشن پلان میں 18 مختلف موضوعات پر کل 84 اقدامات تجویز کئے گئے ہیں جبکہ عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ صوبائی محکموں اور وفاقی اداروں کو ٹائم لائنز کے ساتھ ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔

    اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ایکشن پلان کے تحت ریاستی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے جبکہ دہشت گردوں کو سزائیں دینے کے لیے ریاستی اداروں کی استعداد کو عملی طور پر نمایاں کیا جائے گا جبکہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف منظم کاروائیاں عمل میں لانے کے لیے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا جامع ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے گا۔ شیڈول فورتھ کو وقتا فوقتا اپڈیٹ کیا جائے گا اور اس میں شامل افراد کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔‘

    اجلاس میں ماہانہ بنیادوں پر دہشتگردوں کے سروں کی قیمتوں کے کیسز کا جائزہ لے کر انھیں اپڈیٹ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اعلامیہ کے مطابق دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور دہشتگردوں کی سہولت کاری میں ملوث پائے جانے والے سرکاری ملازمین کے خلاف سخت انضباطی کاروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔

    ڈسٹرکٹ سکیورٹی اسسمنٹ کے ذریعے دہشتگردوں کی نقل و حرکت اور سکیورٹی خدشات کے تناظر میں کائی نیٹک اور نان کائی نیٹک اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔

    اس سلسلے میں اس مہینے کے آخر تک پولیس میں بھرتیوں، ٹریننگ، اسلحے اور آلات کی خریداری کا پلان ترتیب دیا جائے گا جبکہ جنوبی اور ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ترجیحی منصوبے شامل کیے جائیں گے۔

    ایکشن پلان کے تحت اینٹیلجنس کلیکشن اینڈ شئیرنگ کا ایک مربوط نظام وضع کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مقامی اینٹلجنس ڈیٹا بیس کو متعلقہ صوبائی اور وفاقی اداروں کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔

    صوبائی سطح پر ایپکس کمیٹی، سٹئیرنگ کمیٹی، ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹیوں کا باقاعدگی سے اجلاس منعقد کیے جائیں گے جبکہ دہشتگردی کی سرگرمیوں پر عوامی اور کمیونٹی سطح پر کڑی نظر رکھنے کے لیے تھانوں کی سطح پر پبلک لائزان کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔

    اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کی معاونت کرنے والے تمام غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کاروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ منشیات، اسلحے اور دیگر اشیاء کی سمگلنگ روکنے کے لئے تمام ٹرانزٹ پوائنٹس پر جدید سکینرز کی تنصیب کے علاوہ آرٹفیشل اینٹیلجنس مانیٹرنگ سسٹم سے کام لیا جائے گا۔

    اجلاس میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ کا عمل اگست تک مکمل کرتے ہوئے ان گاڑیوں کی نقل و حرکت کی نشاندہی کے لیے جی پی ایس ٹریننگ سسٹم سے کام لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کی ’ضرار کمپنی‘ پیچیدہ آپریشنز کرنے میں مہارت رکھتی ہے (فوجی مشق کی فائل فوٹو)

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کی ’ضرار کمپنی‘ پیچیدہ آپریشنز کرنے میں مہارت رکھتی ہے (فوجی مشق کی فائل فوٹو)

    اعلامیے کے مطابق اسلحہ بنانے اور بیچنے والوں کی نگرانی کے لیے آرمز لائسنس سافٹ وئیر کو اپ گریڈ کرنے اور سمگل شدہ آلات کی ٹریکنگ کے لیے الیکٹرانک کارگو ٹریننگ سسٹم کے نفاذ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضم اضلاع کے لیے خصوصی ڈسٹرکٹ اکنامک پلانز ترتیب دیے جائیں گے۔ ضم اضلاع کے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والی آبادی کاری کے لئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سلسلے ان لوگوں کی مرحلہ وار واپسی اور آبادکاری کے لئے پلان ترتیب دیا جائے گا۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قانونی اقدامات کے تحت لیگل فریم ورک کو مضبوط بنایا جائے گا اور امتناعی مجسٹریٹسی سسٹم کو بحال کیا جائے گا۔

    اعلامیے کے مطابق پولیس، عدلیہ اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان کوآرڈینیشن کا مربوط نظام وضع کیا جائے گا عدالتوں میں دہشت گردوں کے لیے خصوصی ٹرائلز کا بندوبست کیا جائے گا۔ جبکہ ’فیس لیس کورٹس‘ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔