پاکستان کی سرحد پر فوری فائرنگ کی اجازت ہے، چین کے معاملے میں ایسا نہیں: انڈیا کے سابق آرمی چیف منوج مُکند نروانے کا انٹرویو

بی بی سی اردو  |  Jun 09, 2026

Getty Images

انڈیا کے سابق فوجی سربراہ (ریٹائرڈ) جنرل منوج مُکند نروانے کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی سرحدوں پر عسکری فیصلوں کے نوعیت مختلف ہوتی ہے اور پاکستان کی جانب فوری فائرنگ کی اجازت ہے، جبکہ چین کی سرحد پر ایسا نہیں۔

انڈیا کے سابق فوجی سربراہ (ریٹائرڈ) جنرل منوج مُکند نروانے سے جب پوچھا گيا کہ (جوابی کارروائی کے لیے) جس سطح کی چھوٹ ایک کمانڈر کو پاکستان کے ساتھ سرحد پر دی جاتی ہے، کیا اسی سطح کی چھوٹ چین کے ساتھ سرحد پر بھی ملتی ہے تو جواب میں انھوں نے کہا کہ ’دونوں سرحدوں کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار جُگل پروہت کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں جنرل نروانے نے چین اور انڈیا کی متنازع سرحد سے لے کر پاکستان کے خلاف کارروائی کی اجازت جیسے موضوعات پر بات کی۔

خیال رہے کہ جب جنرل نروانے انڈین فوج کے سربراہ تھے تو اس وقت مشرقی لداخ کے گلوان علاقے میں چین کے ساتھ ایک سرحدی جھڑپ ہوئی تھی جس کا ذکر ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے اپنی سوانح عمری میں کیا ہے۔

اگرچہ اجازت نہ مل پانے کی وجہ سے یہ کتاب ابھی تک شائع نہیں ہوئی ہے لیکن اس نے انڈیا اور انڈین پارلیمان میں ایک بڑی بحث کو جنم دیا کہ فوج کو کس حد تک اختیارات حاصل ہیں۔

اُن کی کتاب کا عنوان ہے ’فور سٹارز آف ڈیسٹنی‘ یعنی مقدر کے چار ستارے۔ ’فور سٹارز‘ ایک استعارہ بھی ہے جو کہ عسکری اصطلاح میں جنرل کے عہدے کی علامت مانا جاتا ہے ہے۔

Getty Images

اس کتاب کے کچھ حصے انڈیا کے جریدے ’کاروان‘ میں شائع ہوئے جن میں سنہ 2020 کی چین انڈیا جھڑپوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ لداخ کی وادی گلوان میں ہونے والی ان جھڑپوں میں ایک کرنل سمیت 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

جنرل نروانے سے بی بی سی کے نامہ نگار نے پوچھا کہ جس سطح کی چھوٹ ایک کمانڈر کو پاکستان کے ساتھ سرحد پر دی جاتی ہے، کیا اسی سطح کی چھوٹ چین کے ساتھ سرحد پر بھی ملتی ہے؟

اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہر چھوٹی چیز کے لیے یہ نہیں کہ آپ کو دہلی سے ہی آرڈر آئیں گے۔‘

تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ ’پاکستان اور چین کی سرحدوں پر صورتحال مختلف ہے۔ پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کا معاملہ ہے جہاں فوری فائرنگ کی اجازت ہے، جبکہ چین کے ساتھ صورتحال مختلف ہے۔‘

رواں سال کے اوائل میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ جنرل نروانے کی کتاب سرحدی تنازع سے نمٹنے میں حکومت کی کوتاہیوں کو ظاہر کرتی ہے، حالانکہ حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔

Getty Images’جو مناسب سمجھو کرو‘

کیا ’جو مناسب سمجھو وہ کرو‘ والی لائن انھیں 31 اگست 2020 کو وزیر دفاع کی جانب سے (وزیر اعظم مودی کا حوالہ دیتے ہوئے) کہی گئی تھی؟

اس سوال کے جواب میں جنرل نروانے نے کہا ’اس بارے میں مجھ سے کئی بار پوچھا گیا ہے اور میں نے بہت واضح طریقے سے جواب دیا ہے کہ آخر میں یہ ایک فوجی فیصلہ تھا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔‘

’جب ایسے آرڈرز ملتے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ حکومت کا اپنی فوج اور اپنے چیف پر پورا بھروسہ ہے۔‘

اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونے پر سابق فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ ’میں تو اپنی ریٹائرڈ زندگی جی رہا ہوں۔ اگر کوئی میرا نام لے کر تنازع کھڑا کرے تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

جب ان سے راہل گاندھی کے پارلیمان میں ان کی کتاب سے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ان کا اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کوئی ان کے حوالے سے کیا بات کہہ رہا ہے اور چونکہ ان کی کتاب ابھی اشاعت کے مرحلے میں ہے اس لیے وہ اس پر مزید بات کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔

جب ان سے پوچھا گيا کہ آیا راہل گاندھی یا کانگریس نے ان کی کتاب کے حوالے سے ان سے کوئی رابطہ کیا تھا تو انھوں نے ایسے کسی رابطے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ اس پر مزید کوئی تنازع کھڑا نہیں کرنا چاہتے۔

وادی گلوان میں ہونے والے انڈین فوج کے آپریشن ’سنو لیپرڈ‘ کا مقصد کیا تھا؟انڈیا اور چین کے درمیان وادی گلوان پر جھڑپ کیوں ہوئی؟وادی گلوان میں چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان ٹکراؤ کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئیوادی گلوان: سیٹلائٹ تصاویر میں انڈین سرحد پر ’چینی تعمیرات‘Getty Images’چین کو سمجھنا آسان نہیں‘

چین کے ساتھ سرحد پر پیش آنے والے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل نروانے نے کہا کہ چین کو سمجھنا آسان نہیں ہے اور اس کے لیے اکیڈمک اور تحقیقی سطح پر مزید کام کی ضرورت ہے۔

کیا پاکستان اور چین کی سرحدوں پر کمانڈروں کو دی جانے والی چھوٹ میں فرق ہے؟

اس کے جواب میں انھوں نے کہا ’ہر صورتحال کی وار گیمنگ کی جاتی ہے۔ جو کمانڈر گراؤنڈ پر ہے، اسے پورا اختیار ہے کہ وہ اپنی مقررہ حدود میں جو چاہے کر سکے۔‘

’پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کا معاملہ ہے جو چین کے ساتھ نہیں ہے۔ وہاں فائرنگ کا موقع ہی نہیں آتا۔‘

جنرل نروانے کی کتاب کے جو حصے جریدے ’کاروان‘ میں شائع ہوئے انھیں میں سے ایک کے مطابق گلوان میں چین کے ساتھ جھڑپ کے دوران جنرل نروانے کو ’اوپر سے کلیئر آرڈر تھے کہ جب تک اپروول نہ آئے تب تک فائرنگ نہ کی جائے۔ ‘

کیا واقعی ایسا تھا؟ اس کے جواب میں جنرل نروانے نے کہا: ’کتاب انڈر ریویو ہے اور جب تک ہے، میں مزید تبصرہ نہیں کر سکتا۔‘

کتاب کی اشاعت اور جائزے کے متعلق جنرل نروانے نے کہا کہ کتاب کا جائزہ لینا وزارت دفاع کا حق ہے اور وہ اس کے نتیجے کے منتظر ہیں۔

چین کے ساتھ سرحدی تنازعے کے متعلق انھوں نے مشورہ دیا کہ چین کے ساتھ سرحدی مسئلے کو حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ یہی وہ واحد رکاوٹ ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔

گلوان کے واقعے پر انھوں نے وضاحت کی کہ گلوان میں پیش آنے والا تنازع ’پرسیپشن‘ (حد بندی کے تصورات میں فرق) کا نتیجہ تھا، نہ کہ کوئی علاقہ کھو جانے کا۔

سخت سوالات کے ساتھ ان سے ہلکے پھلکے سوال بھی ہوئے۔ جب ان کی پسنددیدہ وار فلم کے بارے میں پوچھا گیا تو سابق فوجی سربراہ نے ’دی لانگسٹ ڈے‘ کو اپنی پسندیدہ جنگی فلم قرار دیا کیونکہ وہ جنگ کی حقیقت کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔

جبکہ انھوں نے کہا کہ ’بالی وڈ وار موویز حقیقت نہیں دکھاتیں، وہ جنگ کو رومینٹیسائز کرتی ہیں، جبکہ جنگ ایک خونیں کھیل ہے۔‘

چیف آف آرمی سٹاف (سی ڈی ایس) کی تقرری کے بارے میں انھوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس سٹاف کی تقرری ایک طے شدہ عمل کے تحت ہوتی ہے اور مستقبل میں یہ عہدہ بحریہ یا ایئر فورس کے افسران کے پاس بھی ہو سکتا ہے۔

انڈین فوج کے 28ویں سربراہ جنرل منوج نروانے کا دور 2019 سے 2022 تک تھا۔

Getty Imagesپاکستان کے ساتھ دہشت گردی کا معاملہ ہے جہاں فوری فائرنگ کی اجازت ہے، جبکہ چین کے ساتھ صورتحال مختلف ہے: جنرل نروانےچین نے جو کیا وہ کیوں کیا؟

اس کے جواب میں انھوں نے کہا ’ہم نے کئی بار جاننے کی کوشش کی لیکن کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا۔ اس میں کئی فیکٹرز ہو سکتے ہیں، جیسے اس وقت کووڈ بھی چل رہا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’چین کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔ ان کا سسٹم الگ ہے، کام کرنے کا طریقہ الگ ہے۔‘

کیا سٹریٹجک اور ملٹری لیول پر کوئی کمی ہے کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’سیاسی سطح پر ان کے مقاصد کیا ہیں، یہ جاننے کے لیے مزید اکیڈمک ریسرچ کی ضرورت ہے۔‘

اگرچہ گلوان کی لڑائی میں ہلاکتیں بھی ہوئی اور معاملہ کافی سنجیدہ نوعیت اختیار کر گیا تاہم انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے اس وقت کہا تھا کہ نہ کوئی اندر آیا ہے نہ کوئی قبضہ ہوا ہے۔

اس کا کیا مطلب تھا کے جواب میں جنرل نروانے نے کہا ’میں اس بات کو دہراؤں گا کہ کوئی علاقہ نہیں کھویا گیا۔ وزیراعظم نے جو کہا وہ بالکل صحیح کہا۔‘

لیکن اس سے قبل انڈیا نے چین پر وادی گلوان میں ہزاروں فوجی بھیجنے اور 14,700 مربع میل کے علاقے پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا تھا جبکہ چین کا الزام تھا کہ انڈیا وادی گلوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے۔

وادی گلوان: سیٹلائٹ تصاویر میں انڈین سرحد پر ’چینی تعمیرات‘وادی گلوان میں ہونے والے انڈین فوج کے آپریشن ’سنو لیپرڈ‘ کا مقصد کیا تھا؟انڈیا اور چین کے درمیان وادی گلوان پر جھڑپ کیوں ہوئی؟وادی گلوان میں چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان ٹکراؤ کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئیانڈین فوج کے پاکستان مخالف بیان پر انھیں ’وادیِ گلوان‘ یاد دلانے والی اداکارہ نشانے پر کیوں
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More