کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب دھماکہ: ٹرین کی بوگیاں الٹ گئیں، متعدد ہلاکتوں کا خدشہ، 70 افراد زخمی

بی بی سی اردو  |  May 24, 2026

BBCکالعدم بلوچ لبریشن آرمی بی ایل اے نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک سے گزرنے والی ٹرین کے قریب دھماکے میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے جبکہ کئی مسافر زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے اعلی پولیس افسر اور سول انتظامیہ کے عہدے دار نے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ کوئٹہ دھماکے میں 20 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 70 افراد زخمی ہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق اتوار کی صبح کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی۔ دھماکے کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز الٹ گئیں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ واقعہ بزدلانہ دہشت گردی ہے اور ایسے حملے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

BBC

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’کوئٹہ کینٹ سے فوجی اہلکاروں کو لے کر آنے والی ٹرین کو نشانہ بنایا گیا۔‘

جائے حادثہ پر فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال اس دھماکے کی نوعیت یا ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم ریلوے لائن کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔

دھماکے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں ریلوے لائن کے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے جبکہ ٹریک پر ٹرین کی بوگیاں اُلٹی ہوئی ہیں۔

BBC

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز شہر میں دور تک سنائی دی۔

دھماکے کے باعث کوئٹہ شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

حنیف عباسی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے ریسکیو ٹرک اور ریلیف ٹرین جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی آپریشنل سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی جبکہ واقعے کی رپورٹ بھی جلد سامنے آ جائے گی۔

BBC

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ریلوے ٹریک کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں جبکہ ملحقہ گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

فقیر آباد کے رہائشی نصیر احمد نے بتایا کہ ’ٹرین جارہی تھی جس میں مسافر بھی تھے جب دھماکہ ہوا اس دھماکے کی وجہ سے ہمارے گھر تباہ ہو گئے۔‘

اُن کا کہنا تھاُ کہ اتوار کی وجہ سے ہم لوگ سو رہے تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا، گھر کے سارے شیشے ٹوٹ گئے دروازے اور کھڑکیاں گر گئیں۔

چمن بھاٹک کے ایک رہائشی عبدالمالک نے بتایا کہ صبح آٹھ بجے کے قریب زوردار دھماکہ ہوا۔

’دہشتگردوں کے ساتھ سیلفی بنانا جرم ہے‘: حکومتِ بلوچستان کو یہ اشتہار دینے کی ضرورت کیوں پڑی؟بلوچستان میں پنجاب کے مسافروں کا قتل: ’ایک گھر سے بیک وقت تین جنازوں کے اٹھنے کا صدمہ بیان نہیں کیا جاسکتا‘خضدار میں سکول بس پر حملے کے بعد پاکستان میں غم و غصہ: بی بی سی نے سی ایم ایچ کوئٹہ میں کیا دیکھا؟بلوچستان میں مبینہ شدت پسندوں کی لاشوں اور تدفین کا تنازع: ’لواحقین آئیں، مانیں وہ دہشت گرد تھا، ہمیں لاشوں سے کیا لینا دینا ہے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More